ہندوستان میں مسلمانوں کا’ نظام تعلیم‘ —-ڈاکٹرمحمد شمیم اختر قاسمی کی تازہ تصنیف مسلم سلاطین اور نوآبادیاتی دور میں تعلیم کے فروغ میں مسلمانوں کرداروں پروروشنی ڈالتی ہے۔

0
280

نور اللہ جاوید

غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد تعلیمی و ثقافتی ترقی سے معنون ہے،گرچہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ 5ویں صدی میں نالندہ کے ’وکرم شیلا‘ میں قائم دنیا کی پہلی یونیورسٹی اور اس کی لائبریری مسلم حکمراں خلجی کے ذریعہ تباہ و بربادکردیا گیا ۔اس کی تاریخی صداقت و حقائق پر گفتگو کی کافی گنجائش ہے۔خلجی کی آمد اور اس یونیورسٹی کی تباہی وبربادی کے سال وماہ میں بھی فرق ہے۔کئی محققین نے ان دعوئوں پر سوالا ت بھی کھڑے کئے ہیں ۔ تاہم نالندہ یونیورسٹی(وکرم شیلا خانقاہ) کی تباہی و بربادی کے واقعے کا حوالہ دے کر مسلمانوں کی 700سالہ حکومت کو تعلیم دشمن کے طورپیش کیا جاتا ہے کہ مسلم دور حکومت برصغیر کیلئے سب سے تاریک دور تھا ۔تاہم یہ تاریخی حقائق اور پروپیگنڈے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔مسلم دور حکومت سے قبل ہندوستان میں نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت خود بخود آشکارا ہوجائے گی کہ ہندوستان راجا رجواڑوں میں تقسیم تھا، ذات پات ، طبقاتی تفریق اور چھوت چھات جیسی گھنائونی سماجی لعنت سے ہندوستانی معاشرہ متعفن ہوچکا تھا۔تعلیم کے حصول پر چند افراد اورخاندان کی اجارہ داری تھی۔ملک کی اکثریتی آبادی کو تعلیم حاصل کرنے کا حق تک نہیں تھا۔ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے کے ساتھ ہی مسلم حکمرانوں نے مکتب ،مدارس، کتب خانوں اور ادبی سوسائٹیوں کے قیام کے ذریعے دینی اور عمومی تعلیم کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور تعلیم کے دروازے ہر خاص و عام کےلئے کھول دیا ۔

’ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم ‘‘ڈاکٹر محمدشمیم اختر قاسمی کی تازہ تصنیف ہے۔گرچہ یہ کتاب مستقل تصنیف نہیں ہے، پی ایچ ڈی کیلئے مقالہ بعنوان’’ہندوستان میں اشاعت اسلام کے اسباب:معاشرتی و مذہبی پس منظر‘‘ کی ترتیب کے دوران اس موضوع سے متعلق مطالعے میں آ نے والے مواد کوجمع کرکے انہوں نے الگ کتاب کی شکل دی ہے۔یہ ایک ایسا موضوع ہے جو مستقل تحقیق کا متقاضی ہے اوریہ کافی اہم اس لئے بھی ہے کہ ماضی کی بازیافت اور عہدرفتہ کی عظمت کی بدولت مستقبل کی تعمیر کی جاتی ہے۔تاہم 160صفحات پر مشتمل یہ کتاب اختصار کے ساتھ ہی اپنے موضوع پر کافی اہم معلومات فراہم کرتی ہے جو برائون بک ھائوس نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے۔چوں کہ ڈاکٹر قاسمی متجسس قسم کے نوجوان محقق کے طور پر جانے جاتے ہیں، اس لیے ان کی یہ کتاب بڑی معنویت کی حامل اور معلومات پر مبنی ھے۔ ڈاکٹر قاسمی کے بارےمیں یہاں یہ وضاحت بھی درکار ہے کہ ان کا تعلق بہار کے مردم خیز ضلع مدھوبنی کی ایک بستی بھتوڑا سے ہے۔ انھوں نے ازہر ہند دارالعلوم دیوبند سے انھوں نے فاضل وافتا کی سند حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انھوں نے اسلامیات میں ایم اے کیا اور پھر وہیں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری 2008 میں حاصل کی۔
ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی کئی سالوں تک علی گڑھ کے مایہ ناز اور معروف ادارہ “ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی” میں بحیثیت محقق خدمات انجام دی ہے۔ ان دونوں وہ عالیہ یونیورسٹی کولکاتا کے شعبہ اسلامیات میں سینر اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ان کا قلم ہمیشہ متحرک رہتا ہے اور معیاری رسائل وجرائد میں ان کی تخلیقات مسلسل شائع ھوتی رہتی ہے۔ان کی ایک کتاب سیرت نبوی پر اعتراضات کا جائزہ بڑی مقبول ھوئی جس کے اندرون ملک اور پڑوسی ملک میں کئی ایڈیشن شائع ھوچکے ہیں۔ جدید میڈیکل سائنس کے تناظر میں لکھی جانے والی کتاب قتل بہ جذبہ رحم نوعیت مسئلہ اور اسلامی نقطہ نظر اسلامی ریسرچ اکیڈمی کراچی پاکستان سے بڑے ہی اہتمام کے ساتھ شائع ھوئی ہے۔ اس موضوع پر اردو زبان میں یہ پہلی مستقل تصنیف ھے۔۔ اپنے تحقیقی مزاج اور ذوق کو آگے بڑھاتے ھوئے انھوں نے زیر تبصرہ کتاب ترتیب دی ہے۔

اس کتاب میں مسلم دور حکومت میں ہندوستان میں تعلیم کے فروغ اور مسلم حکمرانوں کے ذریعہ تعلیمی اداروں کے قیام کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔اس کتاب میں پانچ ابواب ہیں جن میں اسلام میں تعلیم کی عظمت ، مسلم دور حکومت میں تعلیم کے فروغ اور اس کےبعد برصغیر میں مسلم سلاطین کے دور میں مسلما نوں کے نظام تعلیم پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کے کردار اور اس کے نصاب پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ نصاب تعلیم میں مختلف ادوار میں تبدیلی کا جائزہ لیتے ہوئے دینی درس گاہوں میں عصری علوم کی تعلیم کے موضوع پر اپنے فکر وخیالات کو اختصار کے ساتھ پیش کیا ہے۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی700سالہ دور حکمرانی میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں کے قیام اور ان کی خدمات کی اہمیت کا اندازہ اسی وقت ہوگا جب ہمارے سامنے عہد وسطی میں ہندوستان میں رائج تعلیمی نظام اور اس کاطریقے کار سامنے ہو۔دو سال قبل شائع ہونے والے Education at the Intersection of Globalization and Technologyمجلہ میںIndian Eduation :Medieval and Modern Ancientکے عنوان شامل ایک مضمون میں مسلم دور حکومت سے قبل نظام تعلیم کاذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
قدیم دور میں، تعلیم کے دو نظام متعارف تھے، ویدک اور بدھ مت۔ ویدک نظام میں ذریعہ تعلیم سنسکرت تھا، جب کہ بدھ مت کا نظام تعلیم پالی تھا۔ اس زمانے میں تعلیم ویدوں، برہمنوں، اپنشدوں اور دھرم سوتروں کےلئےمخصوص تھی۔ تعلیم زیادہ تر آشرموں، گروکلوں، مندروں، گھروں میں دی جاتی تھی۔ کبھی کبھی مندروں کے پجاری طلبا کو پڑھاتے تھے۔تعلیم زیادہ تر نیلے آسمان کے نیچے جنگلوں میں دی جاتی تھی جو طالب علم کے ذہن کو تازہ اور زندہ رکھتی ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور اپنا کام لگن اور محنت سے کرتے تھے ۔

مذکورہ اقتباس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم دور حکومت سے قبل برصغیر میں تعلیم سے متعلق تصور کیا تھا۔آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی مندروں کے دروازے ہندئوں کے تمام سماج کےلئے کھلے ہوئے نہیں ہیں۔دلتوں اور پسماندہ طبقات کو مندروں میں جانے پر سزائیں دی جاتی ہیں۔اس دور میں مندروں میں دلت ، قبائلی اور پسماندہ طبقات کے داخلے کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا ہے۔اسی مضمون میں مسلم دور حکومت سے متعلق لکھا گیا ہے:

آٹھویں صدی عیسوی میں اینو ڈومینی (اے ڈی) کے دوران بڑی تعداد میں محمدیوں(مسلمانوں) نے ہندوستان پر حملہ کیا۔ محمود غزنوی نے ہندوستان پر قبضہ کیا اور لوٹی ہوئی دولت سے ملک میں بڑی تعداد میں اسکول اور لائبریریاں قائم کیں۔ بعد میں مسلم رہنماؤں نے ہندوستان میں اپنی مستقل سلطنت قائم کی،وہ اپنے ساتھ ہندوستان میں ایک نیا نظام بھی تعلیم لائے۔ قدیم تعلیمی نظام کو یکسر تبدیل کر دیا ۔ عربوں اور ترکوں نے ہندوستان میں کچھ نئی ثقافتیں، روایات اور ادارے متعارف کرائے جن میں سب سے نمایاں تبدیلی اسلامی طرز تعلیم تھی جو بدھ مت اور برہمنی نظام تعلیم سے مختلف تھی۔ قرون وسطیٰ میں تعلیم کا بنیادی مقصد علم کا پھیلاؤ اور اسلام کی ترویج تھا۔ ان کا مقصد تعلیم کو اس کے اصولوں اور سماجی روایات کو عام کرنا تھا۔ نظام تعلیم کا مقصد لوگوں کو مذہبی سوچ کا حامل بنانا تھا ۔حکمرانوں نے تعلیم کے پھیلاؤ اور ترقی میں مدد کی۔ انہوں نے مختلف تعلیمی اداروں کے قیام میں مدد کی اور اس کی مالی امداد کی، بڑے جاگیرداروں نے انہیں اداروں کی ترقی میں کچھ دولت بھی دی۔ تعلیمی اداروں اور ان کی انتظامیہ پر حکمرانوں کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ بدھ مت اور برہمنی دورکے برخلاف مسلم دور حکومت میں تعلیم کے دوازے سب کےلئے کھلے ہوئے تھے۔

انگریز مورخین نے مسلم دور حکومت میں تعلیم سے متعلق تصورات اور نظریہ سے متعلق لکھا ہے کہ مسلم دور حکومت میں نظام تعلیم جمہوری تھا ۔مساجد،مکاتب،مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں کے دروازے ملک کے تمام شہریوں کےلئے یکساں کھلے ہوئے تھے ۔مسلم حکمرانوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ تعلیم کا حصول مخصوص طبقات تک محدود نہیں رہے ۔دوسرے یہ کہ مسلم دور حکومت میں دنیا بھر سے تجاروں کی آمد اور علم کی ترویج وترقی کےلئے آنے والے علما کرام کے وفود کی آمد کی وجہ سے ہندوستان مختلف تہذیب و ثقافت سے روسناش ہوا اوریہاں کی تہذیبی روایات میں پیش قیمتی اضافہ ہوا۔اس کے نتیجے میں ہندوستان میں تعلیم کے کینوس کو وسعت ملی ، ہندوستان مختلف علوم و فنون سے آشنا ہوا۔اسلام کی خوشبوئوں سے معطرترکی ، ایرانی اور عربی تہذیب و تمدن نےہندوستان کی فضائو کو یکسر تبدیل کردیا۔ہندوستان خوش نماسماجی اور تمدنی تبدیلیوںگزر کر دنیا کی مہذب ترین اقوام کی صف میں کھڑا ہوا۔ مسلم حکمرانوں کے دور حکومت میں فارسی، سنسکرت ، ہندی اور اردو زبانوں کی آبیاری ہوئی۔اور مسلم حکمرانوں کی مثبت اور تعمیری کوششوںکی وجہ سے ہی ہندوستان مشترکہ تہذیب و تمدن اور کنگا وجمنی تہذیب کا گہوارا بنا۔اس دور میں جہاں اسلامی علوم کی ترویج کی حکومتوں نے سرپرستی کی وہیں سنسکرت کی ترویج بھی اسی دور میں ہوئی ۔ہندئوں کے مذہبی کتابوں کے تراجم مختلف زبانوں میں کرائے گئے۔

سلطان محمودغزنوی جودائیں بازوںکے نشانے پر رہے ہیں اور انہیں نفرت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہاہے۔مگر وہ ایک علم دوست حکمراں تھے ۔ غزنی کا دربار ایشیا کے مختلف خطوں کے ادبی ستاروں کی کہکشائوں سے مزین تھا۔ البیرونی، عتبی، انصاری اور فردوسی کو محمود کی سرپرستی حاصل تھی ۔ انہوں نے کئی تعلیمی ادارے قائم کئے۔غزنی نے اپنے دور میں ایک یونیورسٹی کی بنیاد رکھی جس میں مختلف زبانوں کی اعلیٰ ادبی و معیاری کتابوں کا ایک وسیع ذخیرہ تھا۔ انہوں نے اساتذہ اور طلبا کی دیکھ بھال کردل کھول خرچ کرتے تھے۔

محمد غوری کے دور حکومت کو تعلیم کی ترقی کے دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔محمد غوری نے 1191 میں اجمیر شہر میں ایک مدرسہ قائم کیا۔ اس مدرسے کو کسی مسلم حکمراں کے ذریعہ قائم کئے جانے والا پہلا باضابطہ تعلیمی ادارے کے طور پر شمار کیا جاتا ہے ۔اس مدرسے نے ہندوستان میں نظام تعلیم کومستحکم کرنے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔محمد غوری نے اس کے علاوہ اسلامی ثقافت اور تعلیم کے فروغ کے لیے کئی اسکول، کالج اور مدرسے قائم کئے ۔انہوں نے ہی اپنے ترک غلاموں کی تعلیمی و ادبی تربیت کی ۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان میں غلام نسل کو بھی حکومت کرنے کا موقع ملا ۔قطب الدین ان میں سے ایک تھے۔ قطب الدین نے تعلیم کے ساتھ انتظامی امور اور حکومت چلانے کےلئے نوجوانوں کی تربیت کی ۔قطب الدین ایبک، غلام خاندان کا بانی، ذاتی طور پر تعلیم یافتہ تھا، فارسی اور عربی میں مہارت حاصل کی تھی اور سائنس کا بھی انہیں علم تھا۔ وہ اپنے ادبی ذوق اور علمی ذوق کی وجہ سے مشہور تھا۔ وہ اہل علم سے محبت کرتا تھا اور ان کا احترام کرتا تھا۔ اپنی پوری سلطنت میں، انہوںنے سیکولر اور مذہبی تعلیم کے فروغ کے لیے متعدد تعلیمی ادارے قائم کئے۔ اس کے لیفٹیننٹ بختیار خلجی پربہار میں مشہور وکرم شیلا خانقاہ (ایک عظیم خانقاہی یونیورسٹی جس میں ایک امیر لائبریری ہے) اور ندیا (بنگال) کے بہت سے تعلیمی اداروں کو تباہ کر نے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔مگر اس دور میں بڑی تعداد میں مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں کا قائم ہوئے ۔شمس الدین التمش (متوفی 1236)نے امیر خسرو، فخر الملک اور امیر کوہانی جیسے علماءکی سرپرستی کی وہیں ان کی صاحب زادی سلطانہ رضیہ صاحب فضل و کمال تھی ۔انہوں نے دہلی میں میوزی کالج کے نام سے ایک کالج قائم کیا۔

فیروز شاہ تغلق نے فیروز آباد کے نام سے ایک نئے دارالحکومت کی بنیاد رکھی۔ان کے دور میں ثقافت کا مرکز دہلی سے فیروز آباد منتقل ہو ا۔ انہوں نے دہلی کے ساتھ فیروز آبادمیں بھی علم و علما کی سرپرستی کی اور ا س کی وجہ سے فیروز آباد تعلیمی مرکز کے طور پر مشہور ہوا ۔فیروز شاہ تغلق عادل، نیک، فراخدل اور آزاد خیال حکمران تھا۔ انہوں نے اپنی رعایا کی تعلیم کےلئے حکومت کے خزانے کھول دئے۔ان کی مرتب کردہ ’’فیروز شاہی‘‘ میں اس کی تفصیلات موجود ہے ۔فیروز کے دور حکومت میں جونپور علم کا ایک مشہور مرکز بن گیا۔ دہلی نے بھی اپنی پرانی شان دوبارہ حاصل کر لی۔ علماء نے دینیات، اسلامی فقہ، تاریخ، جغرافیہ، فلسفہ اور دیگر کئی علوم پر لکھا۔ کہا جاتا ہے کہ فیروزدور میں بابطہ علمی مجلسیں منقد ہوتی تھیں۔اس دور میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو تعلیم دینے کی خاطر اپنے سلطنت کے مختلف علاقوں میں رہنے کے لیے نامور اساتذہ بھیجے۔ ان کے دور میں علما اور اساتذہ کےلئے پنشن اور تحائف جاری کئے گئے۔

مغلوں نے تین سو سال تک برصغیر پر حکومت کی۔ مغل حکمران تعلیم کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ بہت سے نامور علماء اور ادیب و شاعر مغل دربار سے وابستہ تھے۔ مغل بادشاہ فن و ادب کے بڑے حامی تھے۔ انہوں نے ہمیشہ علماء کرام کا خیر مقدم کیا اور تعلیم کے فروغ کے لیے ہمیشہ بے مثال تعاون کیا۔ مغلیہ دور میں برصغیر میں بڑی تعداد میں مدارس قائم ہوئے۔ تعلیم کے فروغ اورغیر مشروط حمایت اور گہری دلچسپی کی وجہ سے مغل دور میں مدارس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ مغلیہ سلطنت میں تعلیمی پالیسی کو ہمیشہ ترجیح حاصل تھی ۔مغلیہ دور حکومت میں مسلمانوں کا نظام تعلیم ارتقائی عمل سے گزار اس دور میں دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کےلئے ادارے قائم ہوئے۔ظہیر الدین بابر ( برصغیر میں مغلیہ سلطنت کے بانی تھے) کی شاہی دستاویزات کے مطابق رعایا کی تعلیم ریاست کا فرض تھا۔ چنانچہ بابر کے دور میں ریاستی تعاون سے مختلف نوعیت کے تعلیمی ادارے قائم ہوئے۔ شہنشاہ اکبر برصغیر میں تعلیمی اصلاحات کا علمبردار تھا۔ اس نے مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کے تعلیمی اداروں کو ریاستی سرپرستی فراہم کرنے کے لیے ایک ریاستی محکمہ قائم کیا ۔اکبر برصغیر کا پہلا مسلمان حکمران تھا جس نے تعلیم کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دیا ۔ ان کی پالیسی ریاست کے مضامین کو ان کا مذہب سے قطع نظر تعلیم دینا تھی۔ انہوں نے ایسے مدارس بھی متعارف کروائے جن میں مسلمان اور ہندو بچوں کو ایک ہی کلاس میں عصری مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ ایسے مدارس میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے لیے مذہبی نصاب کی کلاسیں الگ الگ تھیں۔اکبر کے دور میں علماء کے ساتھ غیر معمولی رویہ کی وجہ سے بہت سے علماء نے شاہی دربار میں شمولیت اختیار کی۔ اکبر نے مدارس کے نصاب پر نظر ثانی کا فریضہ میر فتح اللہ شیرازی کو سونپا جو اپنے وقت کے ایک مشہور عالم تھے۔ اس نے مدرسہ کے نصاب کو اپ ڈیٹ کیا اور اس میں اخلاقیات، سادہ ریاضی، زراعت، فلکیات، منطق، حکومتی امور، سنسکرت، گرامر، فلسفہ اور طب سے متعلق کورسز شامل کیے ۔اکبر کی تعلیمی پالیسی کی سب سے نمایاں خصوصیت بنیادی نصاب میں عقلی علوم (منطق، فلسفہ اور علمی تھیالوجی) کی شمولیت تھی جس نے عقلی علوم کی اہمیت کے بارے میں مسلمانوں کے تصور کو بدل دیا۔

ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی نے اعتراف کیا ہے کہ تعلیم کو مستحکم بنیادوں پر منظم کرنے کا سہرا اکبر (1542-1605) کو جاتا ہے۔انہوں نے اپنی تمام رعایا کے ساتھ یکساں سلوک کیا اور اپنی پوری سلطنت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کے لیے بھی بڑی تعداد میں اسکول اور کالج کھولے۔ انہوں نے طلباء کی انفرادی ضروریات اور زندگی کی عملی ضروریات پر مبنی چند نصابی تبدیلیاں بھی متعارف کروائیں۔ نصاب کا دائرہ اتنا وسیع کیا گیا کہ ہر طالب علم اپنے مذہب اور زندگی کے نظریات کے مطابق تعلیم حاصل کر سکے۔ فارسی کو عدالتی زبان کے طور پر اپنانے سے ہندوؤں اور مسلمانوں کو فارسی سیکھنے کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی۔اکبر کی پالیسی کو اس کے جانشینوں جہانگیر اور شاہ جہاں نے جاری رکھا۔ اکبر نے مختلف ہندو کلاسک اور تاریخوں کا فارسی میں ترجمہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ متعدد یونانی اور عربی کاموں کا فارسی میں ترجمہ کیا گیا۔

شہنشاہ جہانگیر نے ایک قانون متعارف کرایا۔ اگر کوئی امیر آدمی یا امیر مسافر بغیر وارث کے مر گیا تو اس کی جائیداد تاج کو منتقل کر دی جائے گی اور مدارس اور خانقاہوں کی تعمیر و مرمت کے لیے استعمال کی جائے گی ۔جہانگیر نے ہزاروں مدارس کی مالی امداد بھی جاری رکھی۔ تعلیم کے امور میں ان کی دلچسپی کی وجہ سے لوگوں کو ان کے طبقے سے قطع نظر تعلیم دینے کے بہت سے مواقع پیدا ہوئے۔شاہجہاں کے دور میں، امپیریل کالج دہلی میں 1650 میں قائم ہوا۔امپیریل کالج کا نصاب وقت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید بنیادوں پر تیار کیا گیا تھا۔ بعد کے حکمرانوں کے مشکل دنوں میں بھی ادبی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ خطاطوں کی سرپرستی بہادر شاہ اور محمد شاہ جیسے شہنشاہوں اور مختلف علاقائی حکام اور جاگیرداروں نے کی۔شمالی دکن میں بہت سے مدارس کی بنیاد بہمنی خاندان کے حکمرانوں نے رکھی تھی۔ نصاب میں ان کتابوں کو شامل کیا گیا جو معاشرے کی مذہبی اور عصری ضروریات کے مطابق تھے۔

ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی نے عہد عالم گیری میں اسلامی علوم و فنون کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شہنشاہ اورنگزیب عالم گیر نے اسلامی علوم و فنون کی ترویج و ترقی کےلئے خصوصی اقدامات کئے اور اس دور کی سب سے بہترین یادگار لکھنو میں فرنگی محلی کا دارالعلوم نظامیہ ہے ۔عالم گیر نے ہی ملانظام الدین شاندار عمارت عطاکی جس میں دارالعلوم نظامیہ کی شروعات اور انہوں نے جو نصاب مرتب کیا وہ گزشتہ تین صدیوں سے ہندوستان میں رائج ہے۔درس نظامیہ کے نصاب اور اس میں معقولات کی کتابوں کی کثرت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر شمیم اختر قاسمی نے لکھا ہے کہ یہ وقت کی ضرورت تھی۔علامہ شبلی نعمانیؒمولانا ابوالکلام آزاد اور دیگر اہل علم کے حوالے سے درس نظامی کی افادیت و اہمیت کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ دارلعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارن پور، ندو ۃ علما اور دیگر عصری اداروں کے قیام کی وجوہات اور ان اداروں کی افادیت جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان دینی اداروں نے سماج کی ہرسطح پر خدمت کی ہے۔
کتاب کے آخری باب ’’مدارس اسلامیہ اور دینی تعلیم کی افادیت‘‘ کے عنوان سے ہندوستان میں مدارس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے دینی علوم سے بے اعتنائی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے گزشتہ چار صدیوں میں مدارس کے کردار اور مدارس کے فضلا کے علمی، سماجی اور تحریک آزادی میں کردار پر روشنی ڈالی ہے۔مصنف نے جن تاریخی حقائق کا ذکر کیا ہے ۔وہ بلاشبہ حقائق پر مبنی ہیں ۔یہ بات شبہ سے بالاتر ہے ۔اگر یہ مدارس نہیں ہوتے تو آج ہندوستان کی صورت حال بھی اسپین کی ہی طرح ہوتی۔اسپین میں طویل مدت تک مسلمانوں کی حکومت ہونے کے باوجود آج اسپین میں اسلام اور مسلمانوں کا کوئی نام لینے والا نہیں ہے۔مگر ہندوستان میں مسلم دور حکومت کے زوال اور نوآبادیات کے باوجود آج ہندوستان میں اسلام نہ صرف زندہ وپائندہ ہے بلکہ علوم اسلامی کی ترویج اور اس کی اشاعت میں یہاں کے علما ، محدثین اور مفسرین نے جو خدمات انجام دی ہے وہ خوش نصیبی اسلامی ممالک کے علما کے حصے میں بھی نہیں آئی ۔نوآبادیاتی دور میں مدراس کی ریاستی سرپرستی ختم ہوگئی، استعماری قوتوں نے مدارس ، مساجد اور اسلامی درس گاہوں کے خاتمے کےلئے ہر ممکن کوشش کی اس کے باوجود یہ درس گاہیں قائم رہیں ۔ظاہر ہے کہ مسلم رئوسا، امرا، صاحب ثروت مسلمانوں کی فیاضی اور عطیات کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا ۔مگر ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے ان صاحب اہل خیر کے اعتماد کی وجوہات کیا تھی۔انہیں یہ بھروسہ کیوں تھا وہ اپنے عطیات جن ہاتھوں میں دے رہے ہیں وہ امین ہیں اور ان کی عطیہ کردہ رقومات کا صحیح جگہ استعمال ہوگا؟۔

تاہم کتاب کے مطالعے کے دوران چند سوالات ہیں جو ذہن میں ابھرتے ہیں او ر احساس ہوتا ہے کہ مسلم سلاطین کی خدمات کا جائزہ لیتے وقت معروضیت کا فقدان نظر آتا ہےکہ اگر ان مسلم سلاطین نے تعلیم کے فروغ میں کلیدی کردارا دا کیا ہے تو لال قلعہ، ہمایوں مقبرہ ، تاج محل ،فتح پور سیکری کا قلعہ، قطب مینار جیسی عمارتوں کی طرح کسی اسلامی اداروں کی عمارتیں کیوں نہیں ہے۔یقینا ان مسلم سلاطین نے علم و علما کی سرپرستی کی ، آزاد تعلیمی اداروں کے قیا م کی مدد کی مگر سوال یہ ہے کہ جب مسلم سلاطین اپنی عظمت و شوکت کے اظہار کےلئے عمارتوں کی تعمیر کررارہے تھے تو پھر ان کی توجہ اس جانب کیوں نہیں گئی؟۔اس سے ان کی ترجیحات کا انداز ہ ہوتا ہے۔تصور کیجئے اگر لال قلعہ کے طرز پر کسی تعلیمی ادارہ کی عمارت ہوتی تو ہمارے لئے عظمت و رفعت کا احساس کرنے کے کتنے مواقع ہوتے؟مسلم سلاطین کے برخلاف مسلم نوابین یا پھر چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں نے اس جانب زیادہ توجہ دی ہے۔جس میں جامعہ عثمانیہ ، نوابین بھوپال اور نوابین رام پور کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ درس نظامی میں معقولات کی کتابوں کی شمولیت اور اس کی افادیت اس کتاب میں بہت ہی زیادہ زور دیا ہے۔جب کہ ہم جانتے ہیں کہ 18ویں صدی میں امام شاہ ولی اللہ ؒ نےنصابی کتابوں میں غیر متوازن طور پر عقلی علوم کی کثرت اور حدیث کی کتابوں کی شمولیت بہت ہی کم تھی۔مشکوۃ شریف کے علاوہ کوئی کتاب نہیں پڑھائی جاتی تھی۔امام شاہ ولی اللہ ؒ نے نصاب میںصحاح ستہ کا اضافہ کیا۔ مدرسہ رحیمیہ کے پلیٹ فارم سے انہوں نے اسلامی شریعت کی نئی تشریح کی اور یہ اسلامی علم اور عصری حالات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مدرسہ رحیمیہ اور شاہ ولی اللہ کا کردار برصغیر میں مسلم تعلیم کے ارتقائی عمل میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔آج دارالعلوم دیوبند ، مظاہر علوم سہارن پوراور دیگر دینی اداروںمیں آج شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا ہی نصاب رائج ہے۔نصابی کتابوں میں مختلف ادوار تبدیلیوں کا ذکر اس کتاب میں ذکر تو کیا گیا ہے مگر21ویں صدی میں کیا اسلامی اداروںمیں رائج نصاب تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت یا نہیں ؟ شمیم اختر قاسمی کا یہ سوال بجا ہے کہ مدارس کو عصری اداروں میں تبدیل کرنے والے عصری اداروں میں اخلاقیات اور مذہبی علوم کیو ں نہیںشامل کرتے ہیں؟تاہم شاہ ولی اللہ کا عہد 18ویں صدی اور 21صدی کے عہد میں سماجی، معاشرتی اور ملکی حالات میں نمایاں تبدیلی ہوچکی ہے۔اس کے تقاضے تبدیل ہوچکے ہیں ۔مسلمانوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا نظریہ تبدیل ہوچکا ہے۔سوال یہ ہے کہ ہمارے دینی مدارس کے طلبا اور نصاب تعلیم اس تقاضے پر پورا اترتے ہیں ؟۔اگر اس موضوع پر گفتگو کی جاتی تو شاید اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب مدارس کے نصاب تعلیم کی تبدیلی ایک اہم موضوع ہی نہیں بلکہ تبدیلی کے عمل سے گزرنا ایک ناگزیر عمل اور چیلنج بن گیا ہے ۔ایسے میں اس موضوع پر کوئی بھی تعمیری گفتگوروشنی ثابت ہوسکتی تھی۔

مجموعی طور پر یہ کتاب اپنے موضوع پر کافی معلومات فراہم کرتی ہے۔ہرباب کے اواخر میں اقتباسات کےحوالے موجود ہیں۔جس سے مصنف کی عرق ریزی اور وسعت مطالعہ کا پتہ دیتی ہے۔ کتاب کی طباعت بہت ہی معیاری ہے۔برائون بک پبلی کیشنز نئی دہلی نے شائع کیا ہے۔کتاب کی قیمت 350روپے ہے۔