ناخد ا مسجد کا تنازع شرمناک مرحلے میں: ناعاقبت اندیشوں نے پہلے موذن پرمسجد میں زنا کا الزا م عائدکیا۔ جواب میں نائب امام کے بیٹے اور بھتیجے کے نیم برہنہ لڑکیوں کے ساتھ پارٹی کرنے والی تصاویر وائرل کی جارہی ہے کیا اسی طرح مسلم تنظیمیں اور علمائے کرام خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟

0
126

کلکتہ(انصاف نیو ز آن لائن)

کلکتہ شہر کے تاریخی مسجد ناخدا میں امام، موذن اور متولیوں کے درمیان تنازع انتہائی افسوس ناک او ر بے ہودہ موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کیلئے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کی جارہی ہیں۔مگر اس سب میں افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس پورے معاملے میں کلکتہ شہر کے سرکردہ افراد اور ملی تنظیموں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ریاستی سیکریٹری حاجی عبد العزیز نے اس معاملے میں ملی تنظیموں کے نمائندے اور سرکردہ افراد سے رابطہ کرکے مسئلے کو حل کرنے کی پہل کی۔مگر ان کی اس پہل پر ملی اداروں نے خاطر خواہ جواب نہیں دیا اس کی وجہ سے عبد العزیز کی کوششیں کامیاب ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے۔

جمعہ کی نماز سے عین قبل امام کیلئے استعمال میں آنے والے کمرے کی مرمت کو لے کر نائب امام قاری شفیق کے حامیوں اور متولی کے درمیان مارپیٹ کے مناظر سی سی ٹی وی قید ہوگئے ہیں۔اس واقعے کے بعد قاری شفیق کے حامی اور مقامی کاؤنسلر کے شوہر عرفان علی تاج نے اپنے ویڈیو پیغام میں متولی اور مسجد کے موذن کی تنقید کی۔موذن پرمسجد کے اندر زنا کرنے کا الزام عائد کیا۔اسلام میں زنا اور زنا کا الزام عائد کرنے کتنا قبیح عمل ہے اس کا شاید انہیں اندازہ نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر موذن نے واقعی مسجد میں زنا کیا ہے تواس کا ذکر اس کے خلاف احتجاج و ہنگامہ آرائی اس وقت کیوں نہیں کیا گیا جب موذن سے متعلق شکایت آئی تھی۔آج اس معاملے کو سامنے کیوں لایا جارہا ہے۔کیا زنا کرنا اور زنا کا الزام عائد کرنا کوئی معمولی بات ہے۔اگر عرفان علی تاج کو یقین ہے کہ موذن نے زنا کیا ہے تو انہیں اس کے خلاف عینی شاہدین کو پیش کرنا چاہیے اور گواہی سچی ثابت ہوجانے موذن کو فوری برطرف کردینا چاہیے۔اگر صرف نیچا دکھانے اور قاری شفیق کے مارپیٹ کرنے کا دفاع کرنے کیلئے صرف یہ الزام عائد کیا جارہا ہے تو اس سے بڑھ کر افسوس ناک اور قابل مذمت بات کچھ بھی نہیں ہوسکتی ہے۔صرف موذن کو نیچا دکھانے کیلئے مسجد کے حرمت و تقدس کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے کسی بھی درجے میں معافی کے قابل نہیں ہے۔مگر اس کا فیصلہ کون کرے گا۔اس پورے قضیہ میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ملی تنظیموں کے نمائندوں اور سرکردہ افراد کو اس معاملے کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔؎

عرفان علی تاج کے الزامات کے جواب میں نائب امام قاری شفیق کے بیٹے اور بھتیجے کی نیم برہنہ لڑکیوں کے ساتھ پارٹی کرنے کی تصاویر وائرل کی جارہی ہے۔انصاف نیوز آن لائن کو متعدد واٹس اپ کے ذریعہ وہ تصویریں موصول ہورہی ہیں۔یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ جب امام اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کرسکتا ہے اور اس کے بچے نیم برہنہ لڑکیوں کے ساتھ پارٹی کریں گے تو پھر نائب امام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مسجد کے منبرپر کھڑے ہوکر خطبہ دے۔(انصاف نیوز آن لائن پرائیویسی کا خیال رکھتے ہوئے وہ تصویریں ویب سائٹ پر شائع نہیں کررہا ہے)

متولی کی جانب سے تھانے میں شکایت درج

اسی طرح نائب امام قاری شفیق اور متولیو ں کے درمیان بات چیت کے آڈیو کو بھی وائرل کیا جارہا ہے۔ایک گفتگو میں نائب امام قاری شفیق انتہائی بے ہودہ اور غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں۔دوسرے آڈیو جس میں وہ مسجد کے متولی اقبال عبداللہ سے بات کررہے ہیں اس میں بھی ضد اور ہٹ دھرمی صاف صاف سنی جارہی ہے۔ان آڈیو کو سننے کے بعدایسا لگتا ہے کہ قاری شفیق مسجد کے انتظامی امور پر بھی حاوی ہوناچاہتے ہیں۔جوکسی بھی درجے میں درست نہیں ہے۔ایسے قاری شفیق کے گالی بولنے کی شکایت کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے۔انصاف نیوز کو ایک اور آڈیو ہاتھ لگی ہے۔چوں کہ اس آواز کی تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے تاہم جن کو انہوں نے گالی دی انہوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایک تقریب میں جس قاری شفیق بھی موجود تھے میں نے مزاحا کہہ دیا کہ لوگ بولتے ہیں کوئی مولانا اور صحافی جنت میں نہیں جائے گا۔میں نے مزاحا یہ بات کہی تھی۔بات آئی اور چلی گئی مگر چند گھنٹے کے بعد ایک فون آیا جس میں بے ہودہ اور لغو زبان مجھے سے کہا گیا کہ بول تم کہاں ہے وہاں آکر بتاتا ہوں کہ جنت میں کون جائے اور کس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جائے گا۔

الزامات اور جوابی الزامات کے سلسلے نے اگر کسی کو نقصان پہنچایا ہے تو وہ ناخدا مسجد کی عظمت و تقدس کو پہنچا ہے۔دونوں گروپ اپنی انا اور ضد کے شکار ہیں اور ایک دوسرے کو نیچادکھانے کیلئے اخلاقیات کی تمام حدوں کو پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کررہے ہیں۔یہ معاملہ اب عدالت اور پولس اسٹیشن تک پہنچ گیا ہے۔گرچہ اس معاملے میں بھی پہل قاری شفیق نے ہی کیا تھا تھانے میں مسجد کے موذنین کے خلاف اپنے بھتیجے اور بچوں کے ذریعہ پولس اسٹیشن میں شکایت کراکر ہراساں کرایا۔

ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ اس پرے گندے کھیل میں سرکردہ مسلم تنظیمیں اور سرکردہ افراد خاموشی تماشائی بنے رہیں گے۔اگر یہ پورا معاملہ عدالت میں چلا گیا ہے اور اس کا خدشہ بھی ہے کہ عدالت میں پورا معاملہ چلاجائے تو اس جو شرمندگی اور ندامت کا سامنا ہوگا اس کا جواب ہر ایک کو دینا ہوگا۔