Thursday, May 30, 2024
homeبنگالگالی گلوج کے آڈیو کے بعد مارپیٹ کرتے ہوئے نائب ناخد...

گالی گلوج کے آڈیو کے بعد مارپیٹ کرتے ہوئے نائب ناخد ا مسجد کے امام قاری شفیق اور ان کے حامیوں کا ویڈیو وائرل ——-مسجد کے آس پاس کے کئی دوکاندار امام اور ان کے حامی لیڈروں کے خوف کی وجہ سے افیشل کچھ بھی بولنے سے خوفزدہ۔۔اگر ہم نے سچ بولا تو امام کے حامی ہمیں نہیں چھوڑیں گے:دوکاندار

کلکتہ (انصاف نیوز آ ن لائن)

جمعہ کی نماز سے عین قبل ناخد ا مسجد کے نائب امام قاری شفیق اور مسجد کے متولیوں میں سے ایک اقبال عبد اللہ کے درمیان مارپیٹ کا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں صاف نظر آرہا ہے کہ قاری شفیق اور ان کے حامیوں کاایک جھنڈ اچانک مسجد کے متولی اقبال عبد اللہ اور مسجد کے موذن حافظ ریاض الدین پر حملہ بول دیا ہے۔حملہ آوروں کے گروپ میں مسجد کے نائب امام قاری شفیق بھی نظر آرہے ہیں۔

ویڈیو لیک ہونے سے قبل قاری شفیق نے دعویٰ کیا تھا کہ متولی چوں کہ مسجد کے دفتر کے ایک کمرے کو کرایہ پر لگانے کی کوشش کررہے تھے۔وہ صرف اس کی مخالفت کررہے تھے۔مگر مسجد کے متولی اقبال عبد اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ صرف مسجد میں امام سے بات کرنے گئے تھے کہ آخر کس حق سے امام نے اپنے طور پر دفتر کی مرمت کیلئے مستری اور مزدوروں اور ساز و سامان منگوایا ہے۔میرے پہنچنے کے ساتھ ہی امام کے حامی غنڈے جس میں ان کے بیٹے سلمان، بھتیجے اور دیگر افراد شامل تھے نے حملہ کردیا۔

مسجد میں نصب سی سی ٹی وی کے کیمرے گرچہ مکمل طور پر کام نہیں کررہے ہیں، متولیوں کا دعویٰ ہے کہ قاری شفیق اور ان کے حامیوں نے ہی مسجد میں نصف کیمرے کو نقصان پہنچایا ہے مگر ایک دوکیمرے جو کام کررہے ہیں اس نے سچائی کو سامنے لادیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی مسجد کے نائب امام قاری شفیق کے گالی گلوج کرنے والے ایک آڈیو لیک ہو ا تھا۔جس میں وہ مسجد کے متولی ناصرابرہیم سے فون پر بات کرنے کے درمیان گالی گلوج کا آڈیو لیک ہوگیا تھا۔اس بات چیت میں قاری شفیق ایسی زبان کا استعمال کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں جس کی ایک امام سے امید نہیں کی جاسکتی ہے۔

اس کو بھی پڑھیں

اس کو بھی پڑھیں

متولی اور موذن کا دعویٰ ہے کہ 30رمضان کو فجر کی نماز میں موذن جیسے ہی تکبیر کہنا شروع کیا قاری شفیق نے مائیک سے موذن پر حملہ کردیا۔جماعت میں شریک کئی نمازیوں نے انصاف نیوز کو بتایا کہ اس وقت بھی قاری شفیق کے حامیوں کا ایک گرو پ آکر موذن عبد العزیز کے خلاف گالی گلوج کرنے لگے تھے۔مسجد کے قریب رہنے والے ایک شخص نے اپنا نام نہیں ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ میں خود نماز میں شریک تھا۔مجھے نہیں معلوم کہ جماعت سے قبل موذن اور نائب امام کے درمیان کیا تنازعات چل رہے ہیں۔مگر فجر کی جماعت کے دوران نائب امام اور کے حامی شرپسندوں نے جو کچھ کیا اس کو دیکھ کر میں شرمندہ ہوگیا۔


مار پیٹ میں زخمی ہونے والے موذ ن حافظ ریاض

اس سوال پر آپ جماعت میں شریک تھے اس کے باوجود اپنا نام ظاہر کرنا کیوں نہیں چاہتے ہیں؟مصلی نے بتایا کہ مسجد کے آس پاس دوکانداروں سے امام کے کرتوں سے متعلق معلوم کرلیں، ہرایک شکایت کرتا ہوا نظر آئے گا مگر کوئی بھی کھل کر بات نہیں کرے گا۔مگر ایسا کیوں؟ اس کے جواب میں مصلی نے بتایا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ موجود ہ حکومت چوں کہ ریڈ روڈ پرعیدین کے امام اور ناخدا کے مسجد کے امام کو اپنے پروگراموں میں بلاکر ”مسلمانوں کی علامتی“حمایت اظہار کرتی ہے۔مقامی کونسلر اور حکمراں جماعت کے سینئر لیڈروں سے ان کے قریبی تعلقات ہیں۔اس کا وہ تھوس بھی جماتے ہیں۔لوگوں کو جیل بھیجوانے ی دھمکی دلاتے ہیں۔

اس سے قبل بھی نائب امام نے اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کے خلاف جھوٹے کیس کراچکے ہیں، انصاف نیوز نے مقامی پولس اسٹیشن کے ذریعہ موذنین کو تھانے بلا کر ہراساں کئے جانے کے پورے واقعے پر تفصیلی رپورٹنگ کی تھی۔قاری شفیق کے بھتیجے اور رشتہ دار وں کی طرف سے دائر شکایت کی بنیاد پر پولس اسٹیشن میں ایک مسلم پولس آفیسر(جان بوجھ کر مسلم پولس آفیسر کا نام کا ذکر نہیں کیا جارہا ہے)نے موذنین کو بلاکر ہراساں کیا اور امام کے ساتھ صلح و صفائی کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔

ایک دوکاندار جو مسجد کا کرایہ دار نے بتایا کہ یہاں پر قاری شفیق کا خوف ہے، وہ لوگوں کو جیل میں ڈلوانے اور برا انجام کردینے کی دھمکی دیتے ہیں۔اس لئے ہم کچھ بھی بولنے سے قاصرہیں۔اس دوکاندار نے انصاف نیوز سے بات کرتے ہوئے کئی اہم دعوے کئے کہ کس طریقے سے نکاح پڑھانے میں دھاندلی کی جاتی ہے۔سرپرست کی غیر موجودگی میں لڑکی کا نکاح پڑھوادیتے ہیں۔مسجد کے متولیوں کی طرف سے نکاح کی فیس متعین ہے اس کے باوجود متعین فیس سے کہیں زیادہ فیس لیا جاتا ہے۔

دوکاندار نے بتایا کہ مسجد کا دفتر، کمرہ کا امام اپنے سیاسی اثرو رسوخ کیلئے استعمال کرتا ہے۔کارپوریشن انتخابات میں ترنمول کانگریس کے امیدوار کو شکست دینے کیلئے جس طریقے سے امام نے کوشش کی وہ جگ ظاہر ہے۔یہ سب مسجد میں بیٹھ کر انجام دیا گیا۔

اس کو بھی پڑھیں

مسجد ناخدا میں نائب ائمہ اورموذنین کے درمیان تنازع کہیں مسجد کی رسوائی کا ذریعہ نہ بن جائے—– فجر کی نماز میں نائب امام اور موذن کے درمیان جھگڑا کے ڈیڑھ مہینے بعد بھی مسجد کے متولیان کارروائی کرنے سے قاصر۔ سیاسی اثر و رسوخ کوحوالہ دے کر مسجد کے متولیان کا اظہار بے بسی۔ آخر مسجد کے متولیان خوف زدہ کیوں ہے؟ مسجد کا بیشتر سی سی ٹی وی کیمرہ خراب۔ نکاح کی فیس کی تقسیم کا مسئلہ گزشتہ ڈیڑھ سالوں سے کیوں الجھا ہوا ہے؟۔ مسجد کے موذنین کے خلاف کیس کس کے اشارے پرکیا گیا؟

خیال رہے کہ مسجد کے متولی نے الزام عائد کیا ہے کہ مسجد کی ترقی اور دیگر فنڈ کیلئے بہت سے لوگ چند ہ دیتے ہیں، چوں کہ مسجد میں متولی کا نہ کوئی دفتر ہے اور نہ کوئی نمائندہ وہ رقم بھی گول مال ہورہا ہے اور اس میں کئی لوگ ملوث ہیں۔متولی نے دعویٰ کیا کہ یہ بڑی رقم ہوتی ہے۔مگر اس رقم کو مسجد کے فنڈ میں جمع نہیں کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین