Thursday, May 30, 2024
homeبنگالریڈ روڈ پر نمازعید الفطر کے موقع پر اردو میں تقریرپر: بنگلہ...

ریڈ روڈ پر نمازعید الفطر کے موقع پر اردو میں تقریرپر: بنگلہ اخبار’’ پوبیر قلم‘‘کی شرانگیزی—— بنگالی مسلمانوں کے اصل ایشوز اور مسائل کو اٹھانے کے بجائے بنگال کے مسلمانوں کو اردو اور بنگلہ کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش۔ریڈ روڈ پر نماز عید کو سیاسی جلسے میں تبدیل کرنے پر خاموشی مگرامام عیدین اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی اردو میں تقریر پر اخبار چراغ پا۔

کلکتہ :(انصاف نیوز خصوصی نمائند)

کلکتہ شہر سے شائع ہونے والا بنگلہ اخبار روز نامہ ’’پوبیرقلم ‘‘ نے 27اپریل کے شمارے میں ادارتی صفحہ4پر ایک اسٹوری شائع کی ہے۔جس میں مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی اوربنگلہ بولنے والوں کی شرح کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بنگال کی راجدھانی کلکتہ کے ریڈ روڈ پر منعقد ہونے والا سب سے بڑی نماز عید کا خطبہ اردو میں کیوں دیا گیا ہے؟۔نصف صفحہ پر مشتمل اس اسٹوری میں چند سوشل میڈیا صارفین کے حوالے سے نہ صرف ریڈ روڈ پر نماز عید کے دوران اردو میںتقریر پر اعتراض کیا گیا ہے بلکہ اس بات کا بھی مضحکہ خیز شکوہ کیا گیا ہے کہ مین اسٹریم کے بنگلہ اخبارات بھی رمضان المبارک کے موقع پر مسلمانوں کی سرگرمیوں سے متعلق جو تصاویر شائع کرتے ہیں وہ کولو ٹولہ، زکریا اسٹریٹ اور مٹیابرج کے اردو آبادی کی سرگرمیوں پرمشتمل ہوتے ہیں۔جب کہ بنگال میں آبادمیں مسلمانوں میں 98فیصد بنگالی مسلمان ہیں ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پوری خبر میں نماز عیدالفطر کے بعد وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کے ذریعہ سیاسی تقریر کئے جانے پر سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا میں جاری بحث پر ایک لفظ بھی کچھ بھی نہیں بولا گیا ہے۔اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ریڈ روڈ پر نماز پڑھنے والوں کی 50فیصد تعداد بنگالی مسلمانوں کی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ اعدادو شمار کہاں سے حاصل کیا اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا بنگال کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے؟ ریڈ روڈ پرعید الفطر کے موقع پر اگر بنگلہ میں تقریر ہوجاتی تو سماجی ، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے شکار بنگالی مسلمانو ں کے مسائل حل ہوجاتے؟ ۔کلکتہ شہر کے معروف کالج میں ریاضی کے پروفیسر جن کا تعلق شمالی 24پرگنہ کے بشیر ہاٹ سے ہے نے انصاف نیوز آن لائن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دراصل ’’پوبیر قلم ‘‘ حکمراں جماعت کا ترجمان اخبار بن کر رہ گیا ہے، اس اخبار میں ترنمول کانگریس کی خبر نمایاں کرکے شائع کیا جاتا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی اس اخبار کو بنگال کے مسلمانوں کے درمیان خود کی معتبریت کو باقی رکھنا ہے کہ اس لئے وہ عالم اسلام کی خبروں کو نمایاں شائع کرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کی جذباتی اور شرانگیز خبریں شائع کرتا ہے۔تاکہ بنگال کے مسلمانوں کو یہ احساس دلاسکے کہ وہ بنگال کے مسلمانوں کی آواز اٹھاسکے۔انہوں نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ بنگالی مسلمانوں کے تئیں تعصب ہے اور انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے مگر یہ نظرانداز کرنے والوں کا تعلق بنگالی ہندو اشرافیہ سے ہےنہ کہ اردو آبادی والے۔

بنگال کے مسلمان تعلیم ، معاشی اور سماجی اعتبار سے متعدد مسائل کے شکار ہیں ، مگر اس اخبار میں اس حوالے سے خبریں بہت ہی کم ہوتی ہے۔اسی طرح گزشتہ سال فروری میں ہوئے طلبا لیڈ ر انیس خان کا مبینہ طور پر قتل کردیا گیا ،آج تک اصل گناہ گار نہیں پکڑے گئے۔ عالیہ یونیورسٹی جہاں 90فیصد بنگالی طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدحالی کا شکار ہے۔مگر اس سے متعلق خبرین اس اخبار میں فقدان ہوتا ہے۔اسی طرح اسی سال جنوری میں آئی ایس ایف کے ممبر اسمبلی نوشاد صدیقی اور 80حامیوں کو کلکتہ پولس نے جس انداز سے گرفتار کیا اور ان کے خلاف جو الزامات عائد کئے گئے اس پر بھی اس اخبار کی رپورٹنگ حکومت کی طرفداری پر مشتمل تھا۔حیرت انگیز بات یہ ہے مالدہ اسکول میں طلبا کو یرغمال اور ان طلبا کوبچانے والے بہادر مسلم آفیسر سے متعلق خبر کو اس اخبار نے انتہائی غیر اہم بناکر صفحہ 9پر شائع کیا ہے۔جب کہ تمام مین اسٹریم بنگلہ اخبارات نے اس خبر کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے۔

اردو اور بنگلہ کے نام پر شرانگیزی اس اخبار نے کوئی پہلی مرتبہ نہیں کیا ہے، پہلے بھی اس طرح کی شرانگیزی کی ہے۔عالیہ یونیورسٹی کے ایک شعبہ کے سربراہ کلکتہ کے اردو حلقے سے تعلق رکھنے والے ایک اسسٹنٹ پروفیسر (اخبار کی شرانگیزی سے بچانے کےلئے اس پروفیسر اور شعبہ کا ذکر یہاں نہیں کیا جارہا ہے)نے جب بنگلہ اخبار کے ایڈیٹر کی سفارش پر قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک طالب علم کی پی ایچ ڈی میں داخلہ نہیں دلایا تو اخبار میں اسسٹنٹ پروفیسرکی تصویر کے ساتھ ایک من گھڑت اسٹوری شائع کی اور عالیہ یونیورسٹی کی تباہی و بربادی کا سارا ملبہ اس پروفیسر کے سر پھوڑ دیا۔

کلکتہ شہر میں مسلمانوں کے درمیان کوئی لسانی عصبیت نہیں ہے،شیر و شکر بن کر یہاں کے مسلمان رہتے ہیں ، کلکتہ شہر کے تمام ملی اداروں میں اردو بولنے والوں کے ساتھ بنگلہ بولنے والے شامل ہیں ۔خود بنگلہ اخبار کے ایڈیٹر اسلامیہ اسپتال کے نائب صدر کے عہدہ پر فائز ہیں۔سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ آج اگر قلم اخبار اس شکل و صورت کے ساتھ شائع ہورہا ہے تو اس میں بھی اردو بولنے والے مسلمانوں کا اہم رول ہے۔ہفت روزہ قلم کے کئی اسٹیک ہولڈرس اردو بولنے والے مسلمان تھے۔ہفت روزہ بنگلہ اخبار کو دفتر بھی اردو بولنے والے ایک مسلم دانشور نے فراہم کیا ہے۔کلکتہ شہر میں مسلمانوں کے درمیان بنگلہ اور اردو کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ بنگال اردو اکیڈمی کے وائس چیر مین کے عہدہ پر 8سال تک منال شاہ قادری فائز رہے ۔منال شاہ قادری کا تعلق مدنی پور سے ہے ۔مگر کبھی بھی اردو حلقے کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔

ریڈ روڈ پر نمازعیدین کی ایک تاریخ رہی ہے۔یہاں پرمولانا ابوسلمہ شفیع، مولانا عبدا لکریم معصومی ، مولانا محمد زماں حسینی جیسے صاحب علم و عمل نے امامت کی ہے۔کبھی بھی بنگلہ اور اردو کا سوال نہیں اٹھایا گیا ۔مذکورہ حضرات نہ صرف بنگال میں ملک بھر میں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے رہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین