کلکتہ : ’’عید الفطر کے عظیم ومقدس اجتماع‘‘ کا سیاسی استعمال!— ’سیاسی کاسہ لیسی ‘نے مسلمانوں کوبے وقعت بنادیا ۔کسی ایک سیاسی جماعت کے تئیں اجتماعی وفاداری کا اظہار مسلمانوں کو سیاسی اچھوت بنادے گا۔

0
153

نورا للہ جاوید

اردو کے مشہور ادیب و شاعر شورش کاشمیری کا یہ مشہور جملہ ’’سیاست دانوںکے پاس دل نہیں ہوتا ہے وہ صرف دماغ سے سوچتے ہیں ۔اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ لکھتے ہیں کہ سیاست کا رویہ عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کی طرح ہوتا ہے ، وہ ہمدردی اور بہی خواہی کے بجائے صرف اپنے مفادات کی تکمیل چاہتی ہے۔سورش کاشمیری کے اس جملے کے تناظر میں اگر کلکتہ میں سب سے بڑے عید الفطر کے اجتماع میں مسلمانوں کو مبارک باد دینے پہنچیں وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کی تقریر کا جائزہ لیا جائے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مذہبی اجتماع کے تقدس اور اس کی عظمت کا پاس و لحاظ کو صرف سیاسی مفادات کی خاطر ملیامیٹ کردیا گیا ہے۔

ہر ایک اجتماع کی اپنی خصوصیات ہوتی ہے، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس اجتماع کی خصوصیت اور اس کے تقدس و عظمت کو برقرار رکھا جائے ۔عیدالفطرکا اجتماع خالص مذہبی اجتماع ہے ۔اس اجتماع کے ذریعہ مسلمانوں کی سماجی ، معاشرتی خامیوں پر نکیر اور مستقبل کی تعمیر و ترقی کے لائحہ عمل اور مسلمانوں کی رہنمائی کی جاتی ہے۔حتی الامکان کوشش ہونی چاہیے کہ ملکی سیاست کی الائشوں سے اس اجتماع کو دور رکھاجائے۔ اس وقت ملکی سیاست جس نہج اور طریقے کار اختیار کرتی جارہی ہے ۔ایسے میں احتیاط زیادہ لازمی تھا ۔مگر جس طریقے سے اس موقع پر ممتا بنرجی نے تقریر کی اور اس مذہبی اجتماع کا سیاسی مہم استعمال کیا وہ نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ پولرائزیشن اس سے مزید بڑھنے کا خطرہ ہوگیا ہے۔اندیشہ ہے کہ مستقبل میں ریڈ روڈ پر عید الفطر کے جماعت اور اجتماع کو لےکرگندی سیاست کا اندیشہ ہے۔

ایسے گزشتہ 11سالوں سے ریڈ روڈ کے عید کے اجتماع کا سیاسی استعمال ہورہا ہے۔کئی حلقوں سے اس پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔مگر خلاف کمیٹی کے ارباب حل و عقد اس کی جانب متوجہ ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کررہی ہے۔انہیں یہ تک سمجھ میں نہیں آرہا ہے باضابطہ اسٹیج سجانا کہاں تک درست ہے ؟اس کی کوئی نظیر بھارت کی آزادی کے بعد سے کہیں بھی نہیں ملتی ہے۔آخر یہ سب کیوں ہورہا ہے اس کا جواب اس شہر کے سنجیدہ فکر کے حاملین کو خود دینی چاہیے؟۔ کیوں کہ اس وقت ہم رضاکارانہ ہم اپنے اس مذہبی اجتماع میں ایک سیاسی لیڈر کو اسٹیج فراہم کرررہے ہیں اور مستقبل میں اگر کوئی ایسی سیاسی جماعت اقتدار میں آ جاتی ہے جن کا مسلمانوں کے معاملے میں معاندانہ رویہ ہے کیا اس کے باوجود بھی ہم اس طرح سے اسٹیج بناکر دیں گے؟۔ابھی ہم روایت کے طور پر کررہے ہیں مگر یہ آہستہ آہستہ یہ ضابطہ بنتا جارہا ہے ۔جب یہ ضابطہ کی شکل اختیار کرلے گا اس وقت ہم اپنے مذہبی اجتماعات میں سیاسی لیڈروں کےلئے اسٹیج فراہم کرنے پر مجبور ہوں گے۔مسلمانوں کا یہی المیہ ہے وہ مستقبل کی فکر نہیں کرتے ہے۔چند افراد اپنے مفادات کی خاطر پوری ملت کے مفادات کو قربان کردیتے ہیں۔

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے اپنے خطاب کو جس طرح سے خالص سیاسی نعرے میں تبدیل کیا ہےاس سےمسلمانوں کے سامنے کئی اہم سوالات کھڑے ہوگئے ہیں ۔ان سوالوں پر وقت رہتے ہوئے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔سیاست یقین زندگی کا اہم حصہ ہے مگر سیاست ہی زندگی نہیں ہے۔اس لئے کچھ اجتماعات کو سیاسی وابستگی سے پرے ہوکر کرنی چاہیے ۔دوسری بات یہ ہے کہ عید کا پیغام صرف ایک خاص گروپ اور خاص مقام کےلئے نہیں ہے مگر بلکہ عید کا پیغام ملک کےتمام باشندوں کےلئے ہے پھر خاص نظریات اور جماعت کےافراد کو ہی ہم اپنے اوپر حاوی کیوں ہونے دے رہیں ؟۔کیا عید الفظر کے موقع پر انتخابی نعرے بازی کی گنجائش ہے۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خطاب کے دوران جس طرح سے نعرے بازی خود مسلمانوں نے کی وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلمان کاسہ لیس ہوچکے ہیں ۔کیوں کہ مسلمان بھول ہی گئے ابھی تھوڑی دیر قبل وہ اسی جگہ پر ایک مہینے کی ریاضت کے بعد اللہ کے حضور دورکعت شکران کی نماز اادا کی ہے۔جس میں امام نے قرآن کی تلاوت کرتے کرتے ہوئے کہا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ۔مگر چند منٹوں کے بعد ہی تمام تالیاں ایک وزیر اعلیٰ کےلئے ہوگئیں ؟


اس تصویر کو دیکھ کر کہیں سے معلوم نہیں ہوتا ہے کہ نماز عید کا مجمع کا ہی-بلکہ اسٹیج کا کلر بھی ترنمول کانگریس کے روایتی کلر کے مطابق سجایا گیا ہے——–

(1)
ریڈ روڈ پر نماز عید الفطر کا انعقاد کلکتہ خلافت کمیٹی کے زیرا نتظا م ہوتا ہے۔خلافت کمیٹی کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ یہ کمیٹی خلافت تحریک کے نتیجے میں میں وجود میں آئی تھی ۔’’خلافت تحریک ‘‘ ہندوستان کی تحریک کی آزادی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ خلافت تحریک سے قبل تک آزادی کی تحریک میں ہندو مسلم دو الگ الگ سمتوں میں چل رہی تھی۔ہندو اور مسلمانوں کے درمیان کافی دوریاں تھیں ۔گرچہ یہ تحریک خلافت عثمانیہ کے بقا کےلئے تھی ، مگر اس کا اثر ہندوستان کی تحریک آزادی پر متاثر ہوا ۔اسی تحریک کی کوکھ سے ’’تحریک موالات‘‘ کا جنم ہوا۔اس تاریخی پس منظر رکھنے والی کمیٹی کا دائرہ کار بس اب ریڈ رو ڈ پر عیدین کے اجتماع اور ناخدا مسجد میں عیدین کے اجتماع تک محدو د ہوتک رہ گیا ہے۔ اس
(2)
وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے نماز عید الفطر کے موقع پر اپنے خطاب جس لب و لہجہ کا اختیار کیا اس سے متعلق اخبارات اور میڈیا میں یہ تاثر دیاگیا ہے کہ ممتا بنرجی نے 2024کے پارلیمانی انتخاب کی مہم کا آغاز کیا ہے۔اگر وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کی تقریر کو غور سے سنا جائے تو یہ بات صد فیصد درست معلوم ہوتی ہے کہ ممتا بنرجی نے خالص سیاسی تقریر کی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ کوئی موقع نہیں تھا۔انہوں نے اپنے مخالفین کو بی جے پی کا ایجنٹ قرار دیا ۔جب کہ خود ممتا بنرجی کئی مرتبہ آر ایس ایس کی تعریف کرچکی ہیں ۔وہ این آر سی اور شہریت ترمیمی ایکٹ سے متعلق بڑے بڑے دعوے کیا؟ ۔جب کہ اس وقت این آر سی اور شہریت ترمیمی ایکٹ کو خود بی جے پی نے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ہے مگر ممتا بنرجی اس کو سیاسی ایشو بناکر اس مسئلے کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں تاکہ مسلمان خوف زدہ ہوکر انہیں ووٹ دیں ۔جس طریقے سے آج بی جے پی مغربی بنگال میں دراندازی کا مسئلہ اٹھارہی ہے اسی طرح سے ماضی میں ممتا بنرجی خود پارلیمنٹ کے فلور پر بنگال میں بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو دراندازی کا مسئلہ اٹھاچکی ہیں۔ ممتا بنرجی کے خلاف انتخاب لڑنے والے تمام سیاسی جماعت اگر بی جے پی کے ایجنٹ ہیں تو ممتا بنرجی خود تری پورہ، گوا اور میگھالیہ میں کیا کرنے گئیں تھیں۔بابری مسجد کی شہادت کے چند سالوں بعد ہی ممتا بنرجی نے بی جے ہی سے اتحاد کرلیا تھا۔گجرات فسادات کے بعد بھی بی جے پی کے ساتھ ممتا بنرجی کا اتحاد جاری رہا۔
کیا ہم فرقہ واریت کی مقابلہ آرائی کو نظر انداز کردیں گے۔بی جے پی نے اگر رام نومی کے جلوس کا آغاز کیا تو ممتا بنرجی نے ہنومان جینتی پر جلوس کی روایت شروع کی، ترنمول کانگریس کے لیڈران نے شرکت کی ، ایودھیااور بنارس اور پوری کا مقابلہ کرنے کےلئے ممتا بنرجی کلکتہ میں گنگا آرتی ، دیگھا میں جگن ناتھ مندر اور شمالی 24پرگنہ میں رام مندر کی تعمیر کرائی جارہی ہے۔ظاہر ہے کہ اگر بی جے پی کی مذہبی سیاست ملک کے سیکولر کردار کےلئے نقصان دہ ہے تو ممتا بنرجی کی یہ سیاست کیا ملک کے مفاد میں ہے؟

دراصل یہ سیاست کے کھیل ہی نرالے ہیں، بالخصوص ہندوستان کی سیاست مفاد پرستی اور موقع پرستی پرمبنی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کا ادراک کب کریں گے اور ہم کب تک ہم معصوم بنے رہیں گے ؟۔

(3)
ممتا بنرجی کا سیاسی خطاب اپنی جگہ مگر امام عیدین قاری فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں جس طریقے سے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کی مدح سرائی کی وہ بذات خود عیدین کے تقدس کے خلاف تھا۔انہوں نے مدح سرائی کی کہ ممتا بنرجی نے رام نومی کے موقع پر فسادات کو بخوبی کنٹرول کردیا۔مگر سوال یہ ہے کہ 2018کے بعد سے ہی بنگال میں مسلسل رام نومی کے موقع پر بنگال میں حالات خراب ہورہے ہیں ۔اس کے باوجود ممتا بنرجی ہوڑہ اور رشڑا میں سیکورٹی انتظامات کرنے میں ناکام رہیں ۔وزیر اعلیٰ یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ باہر سے فسادی لائے گئے تھے۔مگر سوال یہ ہے کہ پولس محکمہ ان کے پاس ہے۔ریاستی انٹلی جنس ناکام کیوں رہی۔مگر قاری فضل الرحمن نے مدح سرائی کرکے ان ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی مہم میں اپنے کردار بھی ادا کیا۔کیا یہ سوال نہیں کیا جانا چاہیے کہ اب تک کتنے فسادیوں کو بنگال میں سزا ملی ہے۔


امام عیدین قاری فضل الرحمن اور ممتا بنرجی

قاری فضل الرحمن بنگال کے مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کا ذکر کرنے سے گریز کیا ۔جب کہ یہ بہترین موقع تھا کہ وہ وزیرا علیٰ ممتات بنرجی کو یاد دلاتے کہ ماضی میں انہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی و سماجی اور معاشی ترقی کےلئے جو وعدے کئے ہیں اس کو کب مکمل کریں گی۔عالیہ یونیورسٹی، سرکاری مدرسوں میں اساتذہ کی تقرری، اردو اسکولوں کی بدحالی، مسلم اکثریتی اضلاع میں پسماندگی اور دیگر مسائل پر گفتگو کرنے سے قاری فضل الرحمن گریز کیا۔اس سے قبل تین رکنی وفد بناکر قاری فضل الرحمن نے ممتابنرجی سے ایسے وقت میں ملاقات کی جب یہ تاثر ملنے لگا تھا کہ مسلم مسائل سے چشم پوشی کی وجہ سے ممتا بنرجی کے تئیں مسلمانوں میںناراضگی ہے۔اس کا فائدہ حاصل کرکے مسلم مسائل پر کھل کر بات کرنی چاہیے مگر اس موقع کو ضائع کردیا۔

کیا ایک مذہبی رہنما کی حیثیت سے قاری فضل الرحمن کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ریاست میں جاری گھوٹالہ پر وزیر اعلیٰ کو نصیحت کرتے ۔ان کی موجودگی میں اتنے بڑے پیمانے پر گھوٹالے کیوں کر ہوئے۔حکومت سے ایسے عناصر کو کیوں نہیں نکالاجارہا ہے جن پر بدعنوانی کے داغ ہیں ۔

(4)

کلکتہ شہر میں تمام ملی ادارے ایک خاص سیاسی جماعت سے وابستہ افراد کے نہ صرف زیر نگیں ہے بلکہ یہ سیاسی گماشتے ملی اداروں کو اپنے سیاسی عزائم کی بھینٹ چڑھادیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان ملی اداروں میںا ن افراد کےلئے کوئی جگہ نہیں ہے جو مختلف سیاسی نظریات و فکر کے حامل ہیں۔چاہے وہ شخص اس ادارے کا جتنا بھی مخلص ہو۔تنوع کسی بھی ادارے کاحسن ہوتا ہے مگر کلکتہ کے ملی ادارے تنوع سے محروم ہوچکے ہیں ۔اس کا اثر ملی اداروں کی کارکردگی پر پڑرہا ہے۔ملی ادارے جوابدہی سے محروم ہیں ۔شہر کے دو مشہور ملی اداروں نے گزشتہ دوسالوں سے سالانہ حساب و کتاب تک پیش نہیں کیا ہے۔یتیم خانہ اسلامیہ غیر قانونی منیجمنٹ کے تحت چل رہا ہے۔ان ملی اداروںکے ذمہ داران کون ہوں گے؟ اس کا فیصلہ اب کلکتہ شہر کے ایک ممبر پارلیمنٹ کررہے ہیں۔وہ اپنے گھر پر بلاکر اداروں کے ذمہ داروں کی کلاس لے رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ادارے ہمارے ہیں اور فیصلے وہ کریں گے ؟