آسام میں ایک بار پھر مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں ——- سابق راجیہ سبھا ممبر احمد حسن عمران کا دانشوروں اور سماجی کارکنان کے نام کھلاخط ۔۔ خاموشی توڑنے کی اپیل

0
61

تجاوزات کے خلاف کارروائی کے نام پرصرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔سیاسی جماعتیں خاموش ہیں:احمد حسن عمران
کلکتہ 29دسمبر:
ترنمول کانگریس کے سابق راجیہ سبھا ممبر اور بنگلہ اخبار قلم کے ایڈیٹر احمد حسن عمران نے آسام میں مسلمانوں کے گھر وں کو اجاڑے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے سیاسی جماعتوں، سماجی کارکنان ن اور دانشورو ں کے نام کھلا خط لکھ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔
احمد حسن عمران نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی زیرقیادت آسام حکومت دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی مسلم کمیونٹی کے خلاف مسلسل اقدامات کررہی ہے۔ سیکڑوں مسلم گھرانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہے۔ان کے گھروں پربلڈوزرس چلائے جارہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا سرکاری زمینوں پر صرف مسلمانوں نے ہی قبضہ کررکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تجاوزات کے نام پر صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی کا کوئی جواز نہیں ہے۔


احمد حسن عمران نے یواین آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو گھروں سے اجاڑا گیا ہے وہ سب کے سب این آر سی کا حصہ ہیں۔احمد حسن عمران نے کہا کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بی جے پی حکومت کی ماورائے قانون اقدامات پر آسام کی اپوزیشن جماعتو ں نے خاموشی اختیار کررکھا ہے۔آسام کے مسلمانوں کو روہنگیا بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام متاثرین ملک کے حقیقی شہری ہیں کیونکہ ان کے نام ترمیم شدہ این آر سی میں شامل ہیں۔
سابق ایم پی عمران نے سیاسی جماعتوں، سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور دانشوروں کو جاری کردہ خط میں لکھا ہے کہ ہمانتا بسواس شرما کے اقدامات صریحی امتیازی اقدامات ہیں۔21 دسمبر کو، سرما نے کہاتھا کہ ریاست میں سرکاری اور جنگلاتی اراضی کو خالی کرنے کی مہم جاری رہے گی۔22دسمبر کو بارپیتا کے کنارا سترا میں تقریباً 400 بیگھہ سرکاری اراضی کو خالی کرنے کے لیے مبینہ طور پر تجاوزات کو خالی کرانے کے نام پر تقریباً 40 خاندانوں کو بے دخل کر دیا۔ سرکاری عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو بہت پہلے نوٹس بھیج دیا تھا۔ آسام پولیس نے ممبراسمبلی شرمن علی کو بے دخلی مہم کے دوران اہلکاروں کے خلاف احتجاج کرنے کی وجہ سے حراست میں لے لیا تھا۔
حسن عمران نے کہا کہ جن لوگوں کے گھروں کو خالی کرایا گیا ہے وہ خاندان70 سے 80 سال سے وہاں مقیم ہیں اور ان میں سے اکثریت حکومت کو مطلوبہ ٹیکس ادا کر رہی تھی۔ مسمار کرنے کی مہم آسام کے تمام مسلم اکثریتی اضلاع میں چل رہی ہے۔ بے دخلی کے زیادہ تر متاثرین گزشتہ 70-80 سالوں سے اپنی زمینوں پر قابض ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ کسان تھے جنہوں نے دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے چار علاقوں (برہم پترا ریورائن آئی لینڈ) میں اپنی زمینیں کھو دی تھیں۔ انہوں نے آس پاس کے علاقوں کی خالی زمینوں پر اپنی زندگی دوبارہ بسر کررہے تھے –


انہوں نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ صرف مسلمانوں کے گھروں اور املاک کو ان علاقوں میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔مسمارکی مہم میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی دوسری کمیونیٹی نہیں آرہی ہے۔جن علاقوں سے بے دخلی کی مہم چلائی جاتی ہے، وہاں صرف مسلمانوں کے مکانات اور املاک کو نشانہ بنایا جاتا ہے جب کہ دیگر کمیونٹیز کو بلا روک ٹوک چھوڑ دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہیمانت بسواس شرما نے جب سے وزارت اعلی کا عہدہ سنبھالا ہے اس وقت سے ہی اس طرح کی کارروائی مختلف مرحلے میں کی جارہی ہے۔ سرکاری امداد سے چلنے والے مدارس کو بند کرنا، پرائیویٹ مدارس کو بھی تباہ کرنا اور مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں جیل میں ڈالنے جیسی کارروائی کی گئی ہے۔


آزاد سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ این آر سی کی مشق نے بنگلہ دیش کی دراندازی کے ایشو کو ختم کردیا ہے اس لئے فرقہ پرست طاقتیں کسی نہ کسی بہانے مسلم کمیونٹی کو سیاسی اور سماجی طور پر پسماندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
احمد حسن عمران نے مسلم دانشوروں، سماجی کارکنان اور سیاسی لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ انسانیت کی بنیاد پر آسام میں مسلمانوں پر جاری مظالم کے خلاف آواز بلندکریں اور لوگوں کے گھروں کو بچانے میں شامل ہوں-