امریکی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع ۔دروازے کھلے ہوئے ہیں

0
264

مائیکل گیلنٹ

امریکہ بین الاقوامی طلبہ کے لیے مطلوب ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ کیمپس میں تعلیم کا اعلیٰ معیار اور تنوع تخلیقی صلاحیتوں ، فکری آزادی اور مساوی مواقع پیدا کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے ۔ امریکہ میں تعلیم حاصل کر چکیں اور کامیاب کریئر شروع کرنے کے لیے یونیورسٹیوں میں موجود وسیع وسائل سے فیضیاب ہو چکیں تین بیباک ہندوستانی خواتین نے اس بارے میں گفتگو کی کہ امریکی تعلیمی اداروں میں بین الاقوامی طلبہ کے لیے کس طرح حیرت انگیز مواقع موجود ہیں جن سے وہ فیضیاب ہو سکتے ہیں۔

جیروشا ڈیسوزا

ممبئی میں موسیقی، ٹیکنالوجی اور تفریح کے شعبہ جات میں کام کرنے والی وکیل ڈیسوزا نے یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (یو ایس سی ) سے گریجویشن کیا۔ وہ اپنا قانون کا دفترچلاتی ہیں اور بین الاقوامی راک اسٹارس کو بڑے معاہدوں سے متعلق گفت وشنید میں مدد کرتی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ کامیابی کے ساتھ سودوں پر مہر لگانا شروع کرتیں، ڈیسوزا کو پتہ تھا کہ انہیں قانون کے ان شعبوں میں گہرا علم حاصل کرنا ہے جو انہیں پُر کشش لگتے تھے ۔

وہ کہتی ہیں ’’میڈیا، تفریح اور دانشورانہ املاک…..یہ وہ شعبے تھے جن کے بارے میں میں جانتی تھی کہ میں ان پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہوں اور مجھے نہیں لگتا کہ میں بھارت میں وہ سب کچھ سیکھ سکتی ہوں جس کی مجھے ضرورت ہے۔ اس لیے میں نے امریکہ کے چند اسکولوں میں درخواست دی اور یو ایس سی کا انتخاب کیا کیونکہ یہ بہترین فلم اسکول تھا اور یہاں ایسے بہت سارے مضامین کے مطالعے کی سہولت تھی جو میں پڑھنا چاہتی تھی۔‘‘

تعلیمی ادارے کی ہالی ووڈ سے قربت اور تفریح و صنعت کے سابق طلبہ کے طاقتور نیٹ ورک نے بھی ان کے فیصلے میں اہم رول ادا کیا۔ ایک فعال وکیل کے طور پر ڈیسوزا لائسنسنگ اور اسپانسرشپ سے لے کر پرفارمنس معاہدوں اور ریکارڈ سودوں تک ہر چیز پر کام کرتی ہیں۔ وہ تخلیقی کاموں کے لیے رائلٹی جمع کرنے جیسےکاروباری معاملات کی تلاش میں گاہکوں کی مدد بھی کرتی ہیں۔

ڈیسوزا کہتی ہیں ’’مجھے تخلیقی لوگوں کے ساتھ کام کرنا پسند ہے۔ فنکاروں سے ملاقات کرنا آپ کو ایک تفریحی نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔ اگر میں کسی میٹنگ میں بزنس سوٹ پہن کر آتی ہوں تو کوئی بھی مجھے سنجیدگی سے نہیں لے گا لیکن اگر میں ٹینک ٹاپ اور جارڈنس پہنتی ہوں تو سبھی مجھ سے بات کریں گے۔ یہ چیز بھی کاروبار سے متعلق ہے لیکن یہ حیرت انگیز، دلچسپ دوستوں کے ساتھ تقریباً ایک اتفاقیہ گفتگو کی طرح محسوس ہو سکتا ہے۔‘‘

ڈیسوزا پورے دل سےطلبہ کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ اگر انہیں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے تو وہ ضرور اس کا فائدہ اٹھائیں۔ وہ کہتی ہیں ’’اسے کریں! امریکی ڈگری ہونے کی وجہ سے میں نے اپنی عملی زندگی میں ایک مقام حاصل کیا ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اپنی قانون کی پریکٹس خود شروع کروں گی اور اپنے کام سے اس قدر لطف اندوز ہوں گی۔ مگر میں نے امریکہ میں جو علم اور تجربہ حاصل کیا ہے اس کی وجہ سے میں ایسا کرنے میں کامیاب رہی ہوں۔ قانون کی دنیا میں جہاں میں مشق کرتی ہوں، اگر آپ اپنا کام موثر ڈھنگ سے نہیں کرتے تو کوئی بھی شخص آپ کی بات نہیں سنتا۔ اوریہاں میرایو ایس سی سے ڈگری حاصل کرنا ایک بڑی حصولیابی رہی ہے۔‘‘

ڈیسوزا کہتی ہیں کہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند بھارتی خواتین کو داخلہ جاتی عمل کے شروع میں ہی وظائف کی جستجو کرنی چاہیے ، بجائے اس کے کہ آپ یہی کام داخلہ ملنے کے بعد کریں۔ وہ کہتی ہیں کہ تعلیمی ادارے اکثر بین الاقوامی طلبہ کو مالی امداد حاصل کرنے میں مدد کرنے کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ اگر آپ مدد طلب کرتے ہیں تو یونیورسٹی آپ کو وظائف کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے لیے آپ کا رابطہ موزوں افراد سے کروا دے گی۔‘‘

بہت سے طلبہ اپنے کنبوں سے دور ہونے پر حفاظت کے حوالے سے فکر مند ہوتے ہیں۔ ڈیسوزا تسلیم کرتی ہیں کہ لاس اینجلس میں محفوظ رہنا ان کے لیے باعث تشویش تھالیکن وہ کہتی ہیں کہ ان کے تعلیمی ادارے نے ان کو پُر سکون رکھنے کے لیے بہت عمدہ کام کیا۔ اس نے دیگر اقدامات کے علاوہ رات کے وقت مفت نقل و حمل کی پیشکش کی، حفاظتی افسران اور ایمرجنسی کال باکس کیمپس کے چاروں طرف لگوائے ،یہاں تک کہ لاس اینجیلس پولس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اپنے دفاع کی بنیادی تربیت بھی دی گئی ۔ وہ کہتی ہیں ’’میں کبھی کبھی رات ۹بجے تک کلاسز کرتی تھی مگر میں نے کبھی کیمپس میں غیر محفوظ محسوس نہیں کیا۔‘‘

ڈیسوزا کے دیگر خدشات میں مناسب رہائش کا پتہ لگانا اور اپنی پسند کی کلاسوں میں داخل ہونا شامل تھا۔ڈیسوزا دونوں ہی کے لیے مشورے اور مدد طلب کرنے کی غرض سے پروفیسرس، سابق طلبہ اور منتظمین کے ساتھ فعال طور پر مصروف رہیں اور ان کی فوری مدد نے انہیں ہر لحاظ سے ترقی کی منازل طے کرنے میں مدد کی۔

سُجانا مے ریڈی

امریکہ ۔ ہندوستان تعلیمی فاؤنڈیشن (یو ایس آئی ای ایف) میں بھارتی اور امریکی طلبہ کے تبادلہ پروگرام کی بدولت طلبہ کی مدد شروع کرنے سے بہت پہلے مے ریڈی نے بیرون ملک اپنی مہم جوئی مکمل کی۔ انہوں نے ورجینیا ٹیک سے گریجویٹ کیا ۔ وہ فی الحال حیدرآباد میں یو ایس آئی ای ایف میں ایک علاقائی افسر کے طور پر کام کرتی ہیں۔

مے ریڈی نے ورجینیا ٹیک میں درخواست دینے کا انتخاب زیادہ تر اس کی درجہ بندی اور مالی امداد کے مواقع کی وجہ سے کیا جس کے بارے میں انہوں نے یونیورسٹی کی مکمل اور معلوماتی ویب سائٹ سے سیکھا۔ وہ کہتی ہیں ’’میں نے انفرادی طور پر بھی اپنے محکمے میں مختلف اساتذہ کو یہ پتہ لگانے کے لیے لکھا کہ کیا کوئی اسسٹنٹ شپ ہے ، میں جس کا حصہ بن سکتی ہوں۔ پروفیسروں میں سے ایک پروفیسر کے پاس ایسی ایک گنجائش تھی جو اتفاق سے میری دلچسپی کے مماثل تھی ۔ لہٰذا میں پورے دو برسوں کے لیے اسسٹنٹ شپ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ‘‘ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے سے مے ریڈی کو ایک ایسا کریئر شروع کرنے میں مدد ملی جو انہیں پُرجوش اور اطمینان بخش لگتا ہے۔وہ کہتی ہیں ’’امریکی ڈگریوں کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کا احترام کیا جاتا ہے۔ میرے لیےاس نے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی اور ایسے مواقع دیے جو دوسری صورت میں ممکن نہیں تھے۔‘‘

مثال کے طور پر ورجینیا ٹیک میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے دوران مے ریڈی کو سوئٹزرلینڈ میں عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ انٹرن شپ کرنے کا موقع ملا۔ وہ اس تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس کا ان پر ذاتی، تعلیمی اور پیشہ ورانہ طور پر بڑا گہرا اثر پڑا ہے۔وہ کہتی ہیں ’’مجھے یقین ہے کہ یہ صرف امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے میرے تعلیمی پس منظر کی وجہ سے ممکن ہو سکا جس نے مجھے خود مختار، پُر اعتماد اور موافق بننے اور تنوع کی ستائش کرنے میں مدد کی۔ مجھے متنوع نقطہ نظر اور تجربات کا سامنا کرنا پڑا جس نے دنیا اور خود کو سمجھنے کی خاطر میرے افق کو وسیع کر دیا۔‘‘

امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی امید رکھنے والے بھارتی طلبہ مے ریڈی کی مثال پر عمل کر سکتے ہیں اور اپنی دلچسپیوں اور کریئرکے اہداف سے ہم آہنگ تحقیقی پروگراموں کو اچھی طرح سے پڑھ سکتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’تمام یونیورسٹیوں میں ایسی ویب سائٹیں ہیں جو بین الاقوامی طلبہ کے لیے درخواست کے عمل، وظائف اور وسائل کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔‘‘

مے ریڈی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں ان کا سب سے بڑا خوف ایک نامعلوم سا خوف تھا۔ وہ کہتی ہیں ’’چونکہ میں نے وہاں تعلیم حاصل کرنے سے پہلے کبھی امریکہ کا سفر نہیں کیا تھا، اس لیے یہ سب کچھ نیا تھا۔ ابتداً میں نے اپنے خاندان اور دوستوں کو بہت یاد کیا لیکن چند مہینوں کے اندر میں پڑھائی اور کام میں مصروف ہوگئی۔ گرمیوں کی تعطیل کے دوران ہونے والا بھارت کا سفر ایسا سفر تھا جس کی مجھے سخت ضرورت تھی۔ ایک بار جب میں پہلے دو سمسٹر کے بعد بھارت آئی اور واپس چلی گئی تو مجھے اچھا لگا اور میرا عارضی گھر ہی گویا میرا گھر بن گیا۔‘‘

ورجینیا ٹیک کےحفاظت کے سخت آداب کی وجہ سے مے ریڈی نے کیمپس میں ہمیشہ محفوظ محسوس کیا۔ سلامتی سے متعلق آداب میں اب ایک فون اَیپ بھی شامل کیا گیا ہے جس میں ہنگامی حالات میں طلبہ کے لیے فون کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔

انہوں نے امریکی نظام تعلیم کے لچیلے پن کو چیلنج سے بھرپور لیکن فائدہ مند پایا۔ وہ کہتی ہیں ’’ امریکہ میں ایک طالب علم جب تک کورس کی ضروریات کو پورا کرتا رہتا ہے اس وقت تک وہ اپنی دلچسپی کے لحاظ سے کوئی بھی کورس کر سکتا ہے۔ طلبہ کو ان کی امنگوں کے حصول میں مدد کرنے کے لیے اساتذہ کی جانب سے بہت زیادہ مدد اور تعاون دیا جاتا ہے۔‘‘

مے ریڈی یہ بھی بتاتی ہیں کہ پروفیسروں سے براہ راست رابطہ کرنا، جیسا کہ انہوں نے کیا، تعلیمی ترقی اور مالی مدد کے مواقع کی راہ کھول سکتا ہے جو آرزو مند طلبہ کو بہ صورت دیگر نہیں مل سکتے۔ وہ کہتی ہیں ’’ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنا چیلنج سے بھرپور اور فائدہ مند ہو سکتا ہےلیکن درست تیاری، ذہنیت اور وسائل کے ساتھ یہ نجی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ایک شاندار موقع بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

اشیتا ٹبریوال

جب ٹبریوال نے پہلی بار کولکاتہ میں ایک مسابقتی ٹینس کھلاڑی کے طور پر سرو کرنا، سلائس کرنا اور والی کرنا سیکھا تو انہیں اس کا علم نہیں تھا کہ وہ امریکہ میں کھیلوں سے متعلق ایک دلچسپ کریئر کی بنیاد بھی رکھ رہی ہیں ۔

ٹبریوال، جنہوں نے ماؤنٹ ہولی اوک کالج سےمعاشیات میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی ہے، ایمہرسٹ میں واقع یونیورسٹی آف مسا چیوسٹس(یو ماس) سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر ڈگری اور اسپورٹ مینجمنٹ میں ماسٹر آف سائنس کی تکمیل کے قریب ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ پہلے ہی کالیجیٹ کھیلوں کے میدان میں قائدانہ عہدہ قبول کر چکی ہیں۔

ٹبریوال کی مدد کے لیے اس طرح کے مواقع مختلف وظائف کے بغیر ممکن نہیں تھے۔ لیکن اس کے لیے وہ تلاش کا کام جلد شروع کرنے اور فعال طور پر وظائف دہندگان تک رسائی کی تجویز پیش کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں’’بہت سے کیمپس زیادہ متنوع ہونے اور اپنے بین الاقوامی طلبہ کی آبادی کو بڑھانے کے لیے بڑا دباؤ ڈال رہے ہیں اور ماؤنٹ ہولی اوک جیسے کالج بین الاقوامی طلبہ کی مدد کے لیے مزید وظائف کی گنجائش بھی پیدا کر رہے ہیں ۔‘‘

چوں کہ ماؤنٹ ہولی اوک کھیل کود پر مبنی صلاحیت کی بنیاد پروظائف کی پیش کش نہیں کرتا ہے، ٹبریوال کا کہنا ہے کہ انہیں کھیلوں کے میدان میں کام کرنے کے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے ضرورت اور اہلیت کی بنیاد پر مالی مدد ملی۔ انہیں نیشنل کالیجیٹ ایتھلیٹک ایسوسی ایشن(این سی اے اے) سمیت ماؤنٹ ہولی اوک سے باہر کی تنظیموں سے اضافی وظائف ملے۔

ٹبریوال کہتی ہیں ’’ماؤنٹ ہولی اوک نے مجھے ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لامتناہی مواقع فراہم کیے ہیں۔ ان میں اسٹوڈینٹ۔ایتھلیٹ ایڈوائزری کمیٹی کا ایک فعال رکن ہونا، پیشہ ورانہ ماحول میں کام کرنے میں مہارت پیدا کرنے کے لیےآن کیمپس مختلف ملازمتیں کرنا اور طلبہ کی قیادت کے عہدوں پر فائز ہونا شامل ہیں ۔‘‘ ایک جونیئر کے طور پروہ چار قومی این سی اے اے اسٹوڈینٹ ۔ایتھلیٹ کانفرنسوں کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔ وہ کہتی ہیں’’ان تجربات نے مجھے امریکہ کے اداروں کے دوسرے کھلاڑیوں سے ملاقات کرنے اور این سی اے اے نیشنل آفس کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ دیگر ایتھلیٹک منتظمین سے سیکھنے کا اہل بنایا جنہوں نے کھیلوں کی صنعت کے بارے میں میرے عالمی نظریہ کو تشکیل دینے میں مدد کی۔‘‘

ٹبریوال رواں برس یوماس ایمہرسٹ کے آئسن برگ اسکول آف مینجمنٹ میں اپنی گریجویٹ تعلیم مکمل کریں گی۔ آئسن برگ میں انہیں اپنے براہ راست نصاب کے ذریعے اپنی کاروباری صلاحیتوں کو نکھارنے اور کھیلوں کی صنعت اور مشاورت کے وسیع تجربات رکھنے والے اساتذہ کے ساتھ بات چیت کا موقع ملا۔ ٹبریوال کا کہنا ہے ’’ حقیقی دنیا کے پروجیکٹوں اور تجرباتی آموزش پر یوماس کی توجہ نے مجھے نہ صرف اپنے افق کو وسیع کرنے کا موقع دیا ہے بلکہ کھیلوں کی صنعت کو اور جہاں میں خود کو اس میں دیکھتی ہوں اسے بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس کے علاوہ، مجھے ایک ایسا معاون نظام ملا جس سے مجھے چیلنج اور تحریک کے ساتھ خود کو ہر روز بہتر بنانے میں مدد ملی۔ میں ہمیشہ ان تمام مواقع کے لیے ممنون رہوں گی جو یوماس نے میرے لیے کھولے ہیں اور میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدنیشنل ایسوسی ایشن آف کالیجیٹ ڈائریکٹر آف ایتھلیٹکس میں اپنا کل وقتی کردار ادا کرنے کے لیے بیتاب ہوں۔‘‘

مائیکل گیلنٹ نیویارک سٹی میں مقیم مصنف، موسیقار اورایک کاروباری پیشہ ور ہیں۔