’نفرت کے بازار میں محبت کی دکان‘، راہل گاندھی نے دانش علی سے کی ملاقات

راہل گاندھی نے دانش علی کے ساتھ ملاقات کی 2 تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں، ایک تصویر میں دونوں لیڈران گلے ملتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، اور دوسری تصویر میں ہاتھ ملا کر اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔

0
94

نئی دہلی :
لوک سبھا میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے ذریعہ انتہائی نازیبا، غیر پارلیمانی اور قابل اعتراض بیان کا سامنا کرنے والے بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی کو اپوزیشن پارٹی لیڈران کی زبردست حمایت مل رہی ہے۔ کانگریس کے سابق صدر اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی آج دانش علی کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے ان کی رہائش پر پہنچے۔

راہل گاندھی نے دانش علی کے ساتھ ہوئی ملاقات کی 2 تصویریں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی ہیں۔ ایک تصویر میں دونوں لیڈران گلے ملتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، اور دوسری تصویر میں ہاتھ ملا کر اتحاد کا مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان تصویروں کے ساتھ راہل گاندھی نے کیپشن لکھا ہے- ’نفرت کے بازار میں محبت کی دکان‘

قابل ذکر ہے کہ رمیش بدھوڑی کے غیر پارلیمانی بیان پر بی جے پی نے انھیں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر 15 دن کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ دوسری طرف دانش علی نے لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس درمیان اپوزیشن لیڈران بھی رمیش بدھوڑی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’انھوں نے (رمیش بدھوڑی) دانش علی کو جو کچھ کہا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے معافی مانگی ہے جو ناکافی ہے۔ ایسی زبان کا استعمال ایوان کے اندر یا باہر نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی شروعات ’ناری شکتی‘ (قوت نسواں) سے ہوئی ہے، لیکن اس کی شروعات تو رمیش بدھوڑی سے ہوئی ہے۔ یہ رمیش بدھوڑی نہیں بلکہ بی جے پی کی سوچ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بدھوڑی کی رکنیت رد کی جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں : لوک سبھا میں بی جے پی لیڈر رمیش بدھوڑی کے شرمناک بیان سے نئی پارلیمنٹ شرمسار، اسپیکر اوم برلا کی تنبیہ
آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو نے اس تعلق سے کہا ہے کہ ’’وزیر اعظم نے ملک کی خوشحال پارلیمانی روایات کے خلاف ایسی بیمار سماجی سیاسی کلچر کو جنم دیا ہے جس میں ان کی ایک رکن پارلیمنٹ گاندھی جی کے قاتل دہشت گرد کی تعریف کرتی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’پی ایم مودی کے اشارے پر ایک بی جے پی رکن پارلیمنٹ ایوان کے اندر اپوزیشن کے ایک رکن پارلیمنٹ کے لیے جس غیر اخلاقی، غیر پارلیمانی اور ذیلی سطح کی زبان کا استعمال کر رہا ہے، وہ قابل اعتراض، قابل مذمت اور جمہوریت و سماج کے لیے فکر انگیز ہے۔ یہ ان کا ’امرت کال‘ نہیں بلکہ ’وِش کال‘ (زہریلا دور) ہے۔‘‘

ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی رمیش بدھوڑی کے شرمناک بیان پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اخلاقیات کے رکھوالے اوم بڑلا، وشو گرو نریندر مودی، بی جے پی صدر جے پی نڈا اور ساتھ میں گودی میڈیا- کوئی کارروائی؟‘‘ عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے تو پی ایم مودی سے ہی سوال کر ڈالا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مودی جی کیا پارلیمنٹ میں آپ کے ساتھ دہشت گرد بیٹھتے ہیں؟ کیا آر ایس ایس میں یہی زبان اور کلچر سکھایا جاتا ہے؟ میں نے تو منی پور تشدد کا معاملہ اٹھایا تھا جب مجھے معطل کر دیا گیا۔ دانش علی کے ساتھ گالی گلوج کرنے والے اس رکن پارلیمنٹ پر کیا کارروائی ہوگی؟‘‘