Friday, July 19, 2024
homeخصوصی کالمہندوستان اور کویت : تاریخی، علمی اور ثقافتی رشتے-----ڈاکٹر عبد القادرشمس قاسمی...

ہندوستان اور کویت : تاریخی، علمی اور ثقافتی رشتے—–ڈاکٹر عبد القادرشمس قاسمی ؒ کی اس کتاب میں وزارت اوقاف کویت کی علمی و سماجی خدمات کا جائزہ لینے کے ساتھ ہندوستان اور کویت کے درمیان تاریخی تعلقات اور خلیجی ملک میں بھارتی علما کی خدمات کو اجاگر کرتی ہے

کتاب کا نام: ہندوستان اور کویت : تاریخی، علمی اور ثقافتی رشتے
مولف: عبدالقادر شمس مرحوم
ترتیب وتہذیب: محمد خالداعظمی
مبصرَ نور اللہ جاوید
صفحات476:
قیمت 500: روپے
ناشر: المنار پبلشنگ ہاؤس، نئی دلّی ۔
مبصرَ نور اللہ جاوید

ترقی اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں کوئی بھی ملک ایک دوسرے سے بیگانہ نہیں رہ سکتا کیونکہ دنیا ایک بستی میں سمٹ گئی ہے۔ تجارتی، سفارتی، دفاعی، علاقائی اور جغرافیائی تعلقات سے دنیا کے تمام ہی ممالک ایک دوسرے سے باہم منسلک ہیں۔چونکہ ہندوستان اور کویت کے درمیان تجارتی، سفارتی اور جغرافیائی تعلقات کافی مستحکم ہیں اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان علمی و ثقافتی رشتہ بھی قائم ہے۔ تاہم یہ رشتہ کس نوعیت کا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان علمی و ثقافتی ورثے کے تبادلے کا حجم کیا ہے ان سوالوں کا جواب مشہور صحافی ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی مرحوم کی تصنیف ’’ہندوستان اور کویت: تاریخی، علمی اور ثقافتی رشتہ‘‘ کے مطالعے سے بہت حد تک مل جاتا ہے۔ دراصل یہ کتاب ڈاکٹر عبدالقادر شمس کے پی ایچ ڈی کا تحقیقاتی مقالہ ہے جسے انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں پروفیسر اخترالواسع کی نگرانی میں مکمل کیا تھا۔

ڈاکٹر عبد القادر شمس قاسمی عملی طور پر اردو صحافت سے وابستہ تھے اور مستند عالم دین اور روشن دماغ محقق تھے اور دینی و عصری علوم کا حسین سنگم تھے۔ انہوں نے کئی اہم علمی موضوعات پر کام کیا ہے۔ چنانچہ مذکورہ کتاب میں وسعت مطالعہ، محققانہ سوچ، فکر میں گہرائی اور مسائل کی تفہیم واضح طور پر نظر آتی ہے۔تحقیقاتی مقالہ اور کسی موضوع پر لکھی گئی کتاب میں کافی فرق ہوتا ہے۔ تحقیقاتی مقالہ میں نفس موضوع کے اردگرد ہی باتیں لکھی جاتی ہیں جبکہ تصنیف میں موضوع کی تفہیم کے لیے متعلقہ موضوعات پر بھی سیر حاصل بحث ہوتی ہے۔اگست 2020 میں کورونا کا شکار ہونے کے بعد ڈاکٹر عبدالقادر شمس کی موت کا سانحہ پیش آگیا۔ قدرت نے انہیں اس تحقیقاتی مقالہ پر نظرثانی اور کتابی شکل میں شائع کرنے کا موقع نہیں دیا۔ تاہم عبدالقادر شمس کے استاذ محترم پروفیسر اختر الواسع نے اس اہم کام کے لیے کویت میں مقیم خالد الاعظمی کا انتخاب کیا۔ خالد الاعظمی نے دو سال کے وقفے میں اس کتاب پر نظر ثانی کی، کئی اہم موضوعات کا اضافہ کیا، قرآنی آیات پر عبارت، احادیت کا اخراج اور حوالات پر خوب محنت کی۔ کئی اہم موضوعات جنہیں تحقیقاتی مقالہ میں تلخیص کے ساتھ ذکر کیا گیا تھا انہیں تفصیل کے ساتھ لکھا۔ اس طرح یہ تحقیقاتی مقالہ مستقل کتاب کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اس اضافے کے لیے خالد اعظمی کی کد و کاوش قابل تحسین ہونے کے ساتھ ساتھ عبدالقادر شمس کو بہترین خراج عقیدت بھی ہے۔

کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں ’’اسلام میں اوقاف کی اہمیت و افادیت‘‘ پر روشنی ڈالنے کے ساتھ اوقاف کے ذریعہ مسلمانوں کو امپاور منٹ کرنے کے طریقہ کار پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔اس وقت جبکہ بھارت میں اوقاف بے معنی ہوتے جا رہے ہیں اور خود مسلمانوں نے بھی اوقاف کی حفاظت اور اس کے ذریعہ کمیونٹی کو امپاورمنٹ کرنے کی کوششیں ترک کردی ہیں ایسے میں ڈاکٹر شمس نے اوقاف کی جائیدادوں کو کارآمد بنانے کی طرف نہ صرف توجہ دلائی بلکہ دنیا بھر میں اوقاف کے ضائع اور لاحاصل ہونے کے اسباب پر بھی روشنی ڈالی اور علما ومجتہدین کے سامنے سوالات بھی رکھے کہ اوقاف کے استبدال سے متعلق فقہی اختلافات میں جمود کی راہ اختیار کرنے کے بجائے اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہوئے اجتہاد اور غور وفکر کے ذریعہ اوقاف کی حفاظت کی راہیں نکالنے کی شدید ضرورت ہے۔

عبدالقادر شمس نے بھارت میں وقف جائیدادوں کی حفاظت سے متعلق بہت ہی قیمتی مشورے دیے ہیں۔ انہوں نے مقارضہ، مضاربہ اور عقد استصناع جیسی فقہی اصطلاحات کا جو ذکر کیا ہے اس پر اگر تفصیل سے بات کی جاتی تو مسئلہ مزید واضح ہو جاتا۔ اس کے لیے بہتر تھا کہ چند فقہی ماہرین کی رائے کو بھی شامل کیا جاتا تاہم یہ بات طے ہے کہ وقف جائیداد کے سماجی کردار کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے وقف جائیدادوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ انہیں نفع بخش بنانے کے لیے علما اور مجتہدین کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جدید تقاضے کی روشنی میں مشترکہ اور متحدہ موقف اختیار کیے بغیر اوقاف کی حفاظت نہیں ہوسکتی ہے۔ کویت اور ملائشیا جیسے مسلم ممالک کی مثال سامنے ہے جنہوں نے وقف جائیدادوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس کو نفع بخش بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کیے جس کی وجہ سے آج کویت کا محکمہ اوقاف دنیا بھر میں دعوت و تبلیغ اور مسلم امت کی خیر وفلاح کی بڑی خدمات انجام دے رہا ہے۔

ہمارے ملک کے تناظر میں اوقاف کی جائیدادوں کی حفاظت اور انہیں نفع بخش بنانے کا معاملہ بہت ہی پیچیدہ ہے۔ مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور مسلم سول سوسائٹی تینوں اسٹیک ہولڈرز ہیں، ان سب کا ایک صفحہ پر آنا مشکل ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر بھارت میں اوقاف کے ضیاع اور اس پر مافیاؤں کے قبضہ کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو حکومت سے کہیں زیادہ مسلم لیڈرز اور مسلم سول سائٹی ذمہ دار ہے بلکہ نام نہاد متولیوں نے ہی سب سے زیادہ وقف جائیدادوں کا استحصال کیا ہے اور ذاتی اغراض کے لیے اوقاف کو نقصان پہنچایا ہے۔چونکہ کتاب میں کویت میں اوقاف کے سماجی کردار پر بحث کی گئی ہے اس لیے بھارت کے تناظر میں اوقاف کی صورت حال کا ضمناً ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہ ایک مستقل موضوع ہے۔

اوقاف کے ضیاع کی وجہ سے پوری دنیا میں جائیدادیں وقف کرنے کے رجحان میں کمی آئی ہے۔ عبدالقادر شمس نے ’’نئے اوقاف کے قیام‘‘ کی ضرورت پر توجہ دلاتے ہوئے لکھا ہے کہ کویت کے طرز پر ہندوستان میں بھی نئے اوقاف کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ ٹکنالوجی فنڈ، علمی فنڈ، قرآن فنڈ، بیواؤں اور یتیموں سے متعلق فنڈ، قیدیوں اور گم شدہ افراد کی رہائی کے لیے فنڈ قائم کیے جاسکیں۔ انہوں نے بعض علما کے حوالے سے لکھا ہے کہ دینی مدارس اور ادارے کو رقم کے طور پر چندہ دینے سے بہتر ہے کہ وقف کی شکل میں جائیدادیں دی جائیں۔

دوسرے باب میں مملکت کویت کی تاریخ آزادی، نظام حکومت، کویت کی علمی، دینی اور سماجی خدمات اور آخر میں کویت کی علمی و نامور شخصیات کا تعارف کرایا گیا ہے۔ اس باب میں کتاب کے مرتب محمد خالد الاعظمی کی کاوش اور ان کی تخلیقانہ ذہنیت جا بجا نظر آتی ہے۔ کتاب میں جن شخصیات کا نام ضمناً آیا ہے حاشیہ میں ان شخصیات کا تعارف بھی دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کتاب کی افادیت دوبالا ہوگئی ہے۔ کویت کی عظیم شخصیات کا تعارف کسی ایک جگہ اردو زبان میں دستیاب نہیں ہے لہذا اس باب میں کویت کی علمی شخصیات، کامیاب تجار، اعلی حکومتی ذمہ داران اور دنیا بھر میں رفاہی و فلاحی خدمات انجام دینے والی شخصیات شامل ہیں۔ ماضی قریب میں کویت کی جن شخصیات نے کویت کے حدود اربعہ سے باہر بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو متاثر کیا ہے ان میں شیخ عبداللہ علی المطوع، ڈاکٹر عبدالرحمن الشمیط، شیخ نادر عبدالعزیز محمد النوری، شیخ یوسف بن جاسم الحجی اور شیخ السید ہاشم الرفاعی جیسی شخصیات شامل ہیں۔

تیسرے باب میں وزارت اوقاف کے دو اہم علمی پروجیکٹس ’’الموسوعۃ الفقہیہ اور الوسطیہ‘‘ کا تفصیل کے ساتھ تعارف ہے۔ 45 جلدوں پر مشتمل فقہ اسلامی کی انسائیکلوپیڈیا کا معرض وجود میں آنا کویت کی وزارت اوقاف کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے تاہم وزارت کی ’’الوسطیہ‘‘ تحریک متاثر کن ہے۔ امت کا سب سے بڑا مسئلہ ’’بے اعتدالی‘‘ ہے۔ افراط و تفریط نے امت مسلمہ کو بے شمار مسائل میں مبتلا کیا ہے۔ بے اعتدالی کی وجہ سے شدت پسندی کے جذبات ابھرے جس کی وجہ سے مسلم دنیا کو دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا۔بے اعتدالی کی وجہ سے مغربی تہذیب و تمدن کو ہی نجات دہندہ سمجھ لیا گیا۔اعتدال صرف عقیدہ و فکر میں ہی مطلوب نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر لمحے میں اعتدال کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی نے کویت میں وسطیہ تحریک کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کے متعلق اعتدال پسندی کی اہمیت کو بھی واضح کیا ہے۔ ’’تحریک وطنیت‘‘ نے عرب دنیا کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ’’عرب قوم پرستی‘‘ نے جتنا اسلام کو نقصان پہنچایا ہے اتنا شاید کسی اور فتنے نے نہیں پہنچایا ہوگا۔ عرب قوم پرستی کے جذبے کو ابھار کر ہی انگریزوں نے خلافت کا خاتمہ کیا اور پھر عرب کے دل و دماغ میں ایک ناجائز ریاست ’’اسرائیل‘‘ قائم کر کے عرب دنیا کو ایک ناسور دے دیا۔ یہ حقیقت ہے کہ نصف صدی گزرنے کے باوجود بھی اسرائیل ایک ناسور ہی بنا ہوا ہے۔ عرب قوم پرستی نے اسلام کے آفاقیت اور عالمگیری پیغام کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ اسلام دنیا میں عرب و عجم کی تفریق مٹانے کے لیے آیا تھا۔ اس تحریک نے مسلم دنیا کو عرب و غیر عرب میں ایسا تقسیم کر دیا کہ دشمن طاقتیں آسانی سے مسلم دنیا کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں اسی لیے اتحاد و اتفاق اور کلمہ واحدہ کی بنیاد پر مسلم دنیا میں اتحاد ناممکن ہوگیا ہے۔ علامہ اقبال نے کہا ہے کہ

فکر عرب کو دے کے فرنگی تخلیات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

الوسطیہ تحریک کے ذریعہ وطنیت کے اسلامی تصور کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ تفصیل طلب بحث ہے۔ اختصار کے ساتھ اس مسئلے کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاسکتا لیکن عبدالقادر شمس قاسمی نے تلخیص کے ساتھ اسلام میں تصور وطنیت اور وسطیہ تحریک کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کی ہے۔ چوتھے باب میں وزارت اوقاف کی علمی و تحقیقی مطبوعات کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اور آخری باب ’’ہندوستان اور کویت، علمی و ثقافتی تعلقات اور سرگرمیاں‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ کتاب کا نام بھی اسی باب کے مد نظر رکھا گیا ہے لہذا اس باب میں بھارت اور کویت کے تعلقات کی نوعیت کا مختلف زاویوں سے تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ چونکہ وزارت اوقاف کے علمی پروجیکٹ میں الموسوعۃ الفقیہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اسی لیے وزارت اوقاف نے اردو میں ترجمہ کرانے کے لیے اسلامک فقہ اکیڈمی کا انتخاب کیا۔

اسلامک فقہ اکیڈمی کے سابق صدر قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ نے اس ذمہ داری کو قبول کیا تھا۔ عبدالقادر شمس قاسمی چونکہ اس دور میں قاضی مجاہد الاسلام سے وابستہ تھے اور ساتھ ہی ملی کونسل کے ترجمان اخبار کے ایڈیٹر بھی تھے لہٰذا ہذا موسوعہ کے ترجمہ کے مراحل کو انہوں نے بذات خود دیکھا تھا اسی لیے اس کا انہوں نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ خالد اعظمی نے موسوعہ کے ترجمہ نگاروں کا تعارف پیش کر کے اس کتاب کی اہمیت و افادیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ برصغیر کے علما و اہل دانش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی علمی خدمات سے ایک دنیا کو متاثر کیا ہے۔ بڑی تعداد میں ہندوستانی علما ہیں جن کی تصانیف کو وزارت کویت نے شائع کیا ہے۔ اس باب کے تحت ہندوستانی مصنفین کے کتابوں کے تعارف کے ساتھ ساتھ مصنفین کا تعارف بھی پیش کیا گیا ہے۔

476 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے مطالعہ سے نہ صرف کویت کے وزارت اوقاف کی علمی و دینی اور سماجی خدمات سے آگاہی ہوتی ہے بلکہ بھارت اور کویت کے تعلقات کی نوعیت، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے اتار چڑھاؤ، تجارتی تعلقات، ثقافتی اور علمی تبادلہ کا تفصیلی علم بھی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام میں اوقاف کی اہمیت، اسلامی دنیا میں اوقاف کے زوال کے اسباب اور افراط و تفریط سے گریز کرتے ہوئے اعتدال کی راہ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ کتاب کی اشاعت ہی ڈاکٹر عبدالقادر شمس کو بہترین خراج عقیدت ہے۔ خالد الاعظمی کی حاشیہ نگاری، سوانحی خاکے، قرآنی آیات پر اعراب اور احادیث کا اخراج کتاب کی معتبریت اور افادیت کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ حکومت کویت بالخصوص وزارت اوقاف کی علمی و دینی خدمات اور بھارت اور کویت سے متعلق تعلقات سے متعلق معلومات حاصل کرنے والوں کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
کتاب کی اشاعت المنار پبلشنگ ہاؤس نئی دلی سے ہوئی ہے۔ المنار کو کئی اہم کتابیں شائع کرنے کا اعزاز حاصل ہے، بالخصوص عرب علما کی کتابوں کے تراجم وغیرہ قابل ذکر ہیں. اس کتاب کے لیے 9667072147 نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ معیاری طباعت کے ساتھ کتاب کی قیمت 500 روپے بہت ہی مناسب ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین