ابھیشیک بنرجی کے بچائومیں آر ایس ایس سامنے آئی ۔آر ایس ایس کے ترجمان اخبار سواتیکا میں ابھیشیک بنرجی کی گرفتاری کے مطالبے پر سخت تنقید

بی جے پی لیڈروں کے ذریعہ بنرجی کی گرفتاری کے مطالبے کو مایوسی کا مظہر قرار دیا۔۔شوبھندو ادھیکاری کا بھی اشاروں میں تنقید

0
116

ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی نے کئی مواقع پر آر ایس ایس کی تعریف کی ہے اور واضح لفظوں میں کہا ہے کہ انہیں آر ایس ایس سے کوئی پرہیز نہیں ہے ان کا بی جے پی کی پالیسیوں سے اختلافات ہے ۔اس مرتبہ آر ایس ایس ابھیشیک بنرجی جن کے خلاف متعدد معاملات میں مرکزی جانچ ایجنسیوں نے یرغال کررکھا ہے کے بچائومیں سامنے آئی ہے۔
بنگال آر ایس ایس کے ترجمان ’’سواتیکا ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ایک مضمون میں ابھیشیک بنرجی کے خلاف بی جے پی لیڈروں کی تنقیدوں کو غلط سوچ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ اپوزیشن کے مایوسی کا مظہر ہے۔
25 ستمبر کے شمارے میں شائع اس مضمون کی وجہ سے ایک ایسا تنازع پیدا ہوگیا ہے کہ اس کی وجہ سے بی جے پی کی ترنمول کانگریس اور ابھیشیک بنرجی کے خلاف جاری مہم پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ کیا آر ایس ایس اور بی جے پی ابھیشیک بنرجی اور بنگال میں بدعنوانی کے خلاف جاری جانچ کو الگ الگ نظریہ سے دیکھتی ہے؟۔

دراصل اس میگزین میں ابھیشیک بنرجی کے خلاف جاری جانچ کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگوں کا بنیادی مسئلہ یہ بن گیا ہے کہ ابھیشیک جیل سے کیوں باہر ہیں؟ یہ ایک بے سوچی سمجھی سوچ ہے۔

اس مضمون کی اشاعت کے بعد بی جے پی کے لیڈران الجھن کے شکار ہوگئے ہیں کہ بی جے پی آرایس ایس کی تنظیمی بنیاد پر چلتی ہے ۔اس کا موقف اگر بی جے پی سے برعکس ہےتو عوام میں وہ کس طرح سے جائیں گے اور اس مضمون کی اشاعت کے بعد ترنمول کانگریس کو بھی دفاع کرنے کا موقع مل جائے گا کہ آر ایس ایس بھی سمجھتی ہے کہ ابھیشیک بنرجی کے خلاف یک طرفہ کارروائی کی جارہی ہے۔

یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت’’ سواستی کا‘‘ کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کلکتہ میں ہیں۔ بھاگوت آج شام بیلور میں ایک سواستیکا تقریب میں شرکت کرنے والے ہیں۔ تاہم،سواتیکا کی انتظامیہ اور مضمون کے مصنف اس تنازع کو اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے ۔ مضمون کے مصنف نرملیا مکھوپادھیائے نے کہاکہ ’’میری تحریر شائع ہونے کے بعد، میں اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔میگزین اس پر وضاحت کرے گا ۔’’سواستیکا کے شریک ایڈیٹر سوکیش چندر منڈل نے اس پر کہا ہے کہ ہمارے ایک مضمون پر تنازع ہے۔ تاہم، یہ معاملہ اہم نہیں ہے. مصنف کو سواستیکا میں رائےدینے کی آزادی ہے۔ مصنف نے جو صحیح سمجھا ہے وہ لکھا ہے۔ کسی تحقیقات پر اثر انداز ہونے یا بدعنوانی کی حمایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سنگھ کے اخبار میں اس طرح کے مضمون کے شائع ہونے کے بارے میں بی جے پی لیڈر ان بھی کھلے عام کچھ نہیں کہنا چاہتے ہیں۔ تاہم پارٹی کے اندر کافی بحث چل رہی ہے۔ رہنما سے لے کر کارکن کے واٹس ایپ پر یہ مضمون گردش کر رہا ہے۔گرچہ اس مضمون میں اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری کانام لیا گیا ہے ۔لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مضمون کے ایک حصے میں ان پر براہ راست تنقید کی گئی ہے۔مضمون میں لکھا ہے کہ ریاست میں دن بھر کیرتن کی طرح چل رہا ہے کہ ’’پھوپھو۔بھتیجا چور‘‘ ۔اس طرح کے بیانات شوبھندو ادھیکاری ہی دیتے ہیں ۔بی جے پی کے ریاستی صدر سوکانتا مجمدار نے کہا کہ ’’سواستکا ایک آزاد رسالہ ہے۔ مصنف نے وہاں اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کیا ہے۔ عام لوگوں کا مطالبہ نہیں بدلے گا۔یہ صرف ہمارا مطالبہ نہیں ہے کہ بدعنوان کے خلات جانچ مکمل ہونی چاہیے۔یہ بنگال کے عوام کا مطالبہ ہے ۔

نرملا مکھوپادھیائے نے اپنے اس مضمون میں لکھا ہے کہ بہت سے لوگوں کیلئے ابھیشیک بنرجی کی گرفتاری ان کی جنسی خواہش کی طرح ہوگیا ہے وہ بالکل نہیں جانتے کہ اسے کیوں حراست میں لیا جائے گا۔ معاملہ تفتیشی ایجنسیوں کے دائرہ کار میں ہے۔ یہ صرف ان کی مرضی سے کسی کی گرفتاری نہیں ہوگی۔‘‘ اتنا ہی نہیں، مضمون میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ کتابوں میں ابھیشیک کے خلاف متصاد دعوے کئے گئے ہیں ۔اس مضمون میں اپوزیشن لیڈروں کو مایوس کن قرار دیا گیا ہے لکھا گیا ہے کہ ی ڈی، سی بی آئی سےبھی مایوس ہورہے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ابھیشیک بابو کی گرفتاری یا نظربندی اس وقت ریاست میں سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔‘‘ اس کے بعد یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’میرے خیال میں گرفتاری کو زیادہ اہمیت نہ دینا سیاسی طور پر بہتر ہے۔
بی جے پی لیڈ ر نے کہا کہ ہم اس مضمون کی حمایت نہیں کرتے ہیں ۔’’میرے خیال میں ایڈیٹرز نے اس بات پر توجہ نہیں دی کہ اس مضمون کیا کیا باتیں لکھی گئی ہیں ۔صرف مصنف کے نام پر اعتماد کرلیا گیا ہے ۔ دیکھنا چاہیے کہ اندر سانپ ہے یا مینڈک۔ کیونکہ اخبار میں شائع ہونے والے مضمون کوآر ایس ایس مضمون کوآر ایس ایس کا موقف قرار دیا گیا ہے ۔