Thursday, May 30, 2024
homeخصوصی کالمطلبا لیڈرانیس خان کا بہیمانہ قتل: مغربی بنگال میں سنگین حالات کی...

طلبا لیڈرانیس خان کا بہیمانہ قتل: مغربی بنگال میں سنگین حالات کی عکاس- کلکتہ کی مسلم لیڈر شپ کی معنی خیز خاموشی۔بنگال کے دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مسلم نوجوانوں کو کیسوں میں پھنسایا گیا

نوراللہ جاوید

طلبا لیڈر انیس خان کے قتل کے ایک دن بعد اتوار کو میں اس کے گائوں ساردا خان پارا پہنچا تو پورے گائوں میں غم کاماحول تھا ٹکرے ٹکرے میں خواتئن رورہے تھیں۔انیس کے گھر کے باہر جگہ جگہ خون کے نشانات تھے۔اب تک فارنسک کی ٹیم نہیں پہنچی تھی۔انیس کے والد کے ایک کمرہ میں بے سدھ بیٹھے ہوئے تھے اور اس درمیان انیس کی پھوپھی حلیمہ بیگم اور بھانجی مسکان تیسری منزل پر وہ کرسی دکھائی جس پر انیس آخری مرتبہ بیٹھ کر موبائل دیکھ رہا تھا۔ وہ جلسے سے دس منٹ قبل ہی یہاں پہنچا تھا کہ تین افراد آدھمکے اور اس کو گھر کے نیچے سے پھینک قتل کردیا۔ حلیمہ و مسکان پوری کہانی بیان کررہی تھیں اور میں اس بہیمانہ واقعہ کی امیجنگ کررہا تھا تو میرے رونگٹے گھڑے ہوگئے اور ہاتھ پائوں سے پسینہ نکلنے لگا۔ گرچہ یہ غیر صحافیانہ رویہ ، ایک صحافی کوجذباتی نہیں ہونا چاہیے۔ مگر صحافی بھی اسی سماج کا حصہ ہے۔ بنگال کی سیاست میں تشدد کے واقعات کوئی نئ بات نہیں ہے، کانگریس، بائیں محاذ کی روایات کو ہی ممتا بنرجی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھارہی ہیں ۔ بلکہ ممتا بنرجی کی حکمرانی نے اس ثقافت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ آج بنگال میں کوئی حکمراں جماعت کے خلاف سیاسی طور پر منظم ہونے کی کوشش کرتا ہے یا پھر ترنمول کانگریس کے لینڈ مافیا اور پولس گٹھ جوڑ کی مخالفت کرتا ہےاور پولس کی بے عملی اوربربریت کے خلاف احتجاج کرتا ہے یا پھرکوئی اپنے حقوق کی بات کرتا ہے تو اس کو ہمیشہ کےلئے خاموش کردیا جاتا ہے۔

انیس کے گھر کے باہر خون کے نشانات

انیس الرحمن کابہیمانہ قتل بھی دراصل اسی سیاسی ثقافت کا حصہ ہے۔ مگر معاملہ صرف ’’سیاسی ثقافت‘‘ تک محدود نہیں ہے بلکہ 2021کے اسمبلی انتخابات کےبعد ہوئے سیاسی تشدد کو بی جے پی نے ایک بڑے معاملے کے طورپر پیش کیا اور اس کی کوششوں کی وجہ سے ہی کلکتہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی جانچ اور ایس آئی ٹی تشکیل کی ہدایت دی ۔ بی جے پی کی ان کوششوں کی وجہ سے یہ تاثر ہوتا ہے کہ سیاسی تشدد کے شکار صرف بی جے پی ورکرس ہوئے ہیں ۔ مگر سیاسی تشدد کا جائزہ بتاتا ہے کہ اس کے شکار بڑے پیمانے پر مسلم نوجوان بھی ہوئے ہیں ۔ بنگال اسمبلی انتخابات سے عین تین مہینے قبل جنوری میں عباس صدیقی کی سیاسی جماعت ’’آئی ایس ایف ‘‘ وجودمیں آئی ۔چونکہ عباس صدیقی کا تعلق بنگال کے مشہور مذہبی و علمی خانوادہ فرفرہ شریف سے ہے۔ ان کے اجداد ’’حضر ت مولانا پیر ابوبکر صدیقی ‘‘ کی سماجی اور اصلاحی خدمات کی وجہ سے مغربی بنگال کے ہگلی، ہوڑہ، جنوبی 24پرگنہ اور شمالی 24پرگنہ میں فرفرہ شریف کےاچھے اثرات ہیں ۔ان اضلاع میں عباس صدیقی سیاسی جماعت کو فرفرہ شریف سے وابستہ لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ چنانچہ ایک ایسے وقت میں جب کانگریس اور بائیں محاذ ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی ہےایک مہینے قبل ہی وجود میں آنے والی آئی ایس ایف نے کلکتہ سے متصل بھانگر کی سیٹ پر نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ شمالی اور جنوبی 24پرگنہ کے کم سے کم پانچ سیٹوںجس میں کیننگ ، ہروا اور دےکنگا کی سیٹیں شامل ہیں پر ترنمول کانگریس کو کڑی ٹکڑ دی اور معمولی ووٹوں سے اس کے امیدواروں کی شکست ہوئی۔بھانکڑ سمیت ان مذکورہ بالا حلقے میںسیاسی تشدد کے واقعات بڑے پیمانے پر ہوئے۔آئی ایس ایف کے حامیوں کو ڈرانےاور دھمکانے کااب تک سلسلہ جاری ہے۔ بلکہ کلکتہ کے ایک پروفیسر جن کا تعلق بشیر ہاٹ کے علاقے سے ہے وہ عباس صدیقی کی تنقید کرتےہوئے کہتے ہیں کہ انتخابات میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے نوجوان مسلسل حکومت کے ظلم کے شکار ہورہے ہیں، انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسائے جاررہے ہیں ۔ مگر عباس صدیقی اس قوت سے اپنے حامیوںکا دفاع نہیں کررہے ہیں جس طریقے سے بی جے پی کررہی ہے۔


انیس کے والد کے ذریعہ درج ایف آیی آر

پروفیسر کہتے ہیں کہ میرے پاس ایسے نوجوانوں کی مکمل فہرست ہے۔ ممتا حکومت میں ایک ٹرینڈ ہوگیا ہے ہر وہ نوجوان جو سچائی اور حق کےلئے کھڑا ہوتا ہے اس کو پہلے ڈرایا جاتا ہے ،اس کے بعد اس کے خلاف مقدمات قائم کئے جاتے ہیں اور اگر ان سب کے باوجود ہمت نہیں ہارتا ہے تو اس کا حشر انیس خان جیسا کردیا جاتا ہے۔ انیس خان کا قصور بھی یہی تھا کہ وہ ایک ابھرتا ہوا مسلم نوجوان تھا۔ جو اپنے علاقے کے مسائل ، ریاستی ایشوز اورقومی مسائل پر کھل کر اپنی بات رکھتا تھا۔ ترنمول کانگریس کو ڈرا ہوا، دلال اور بے ایمان مسلمان پسند ہے۔جرأت اور قو م کےلئے آواز بلند کرنے والے مسلم نوجوان کی ترنمول کانگریس میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ترنمول کانگریس کے ورکروں کی دہشت کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ممتا بنرجی کے کابینہ کے وزیر صدیق اللہ چودھری جو سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ جمعیۃ علما ہند جیسی جماعت کی سربراہی کرتے ہیں پر صرف اس لئے ترنمول کانگریس کے لوگوں نے حملہ کردیا کہ وہ مقامی لوگوں سے اجازت لئے بغیر اس علاقے میں اپنی جمعیۃ کی جانب سے ریلیف تقسیم کرنے کےلئے آئے تھے۔ وہ انصاف کی گہار لگاتے رہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ترنمول کانگریس نے ان لیڈروں کے خلاف کارروائی کی جو صدیق اللہ پر حملے میں ملوث تھے۔


عالیہ یونیورسٹی مین بھوک ہڑتال میں شریک انیس

کلکتہ میں ایک مشہور یونیورسٹی میں معاشیات کے ایک پروفیسر نے بتایا کہ بنگال کے تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو اس وقت دوہری صورت حال کا سامنا ہے۔ایک طرف حق کی آواز بلند کرنے اور سچائی کےلئے احتجاج کرنے کی وجہ سے پولس کارروائی اور ترنمول کانگریس کے مقامی غنڈوں کی دھمکیوں ملتی ہیں ۔ دوسری طرف بی جے پی کا خوف مسلم معاشرہ پر اس قدر حاوی ہوگیا ہے کہ مسلم معاشرہ اس خوف سے ان نوجوانوں کی حمایت کرنے سے گریز کرتا ہے کہ کہیں ان کے احتجاجات کی وجہ سے بنگال میں بی جے پی کو تقویت نہ مل جائے ۔ پروفیسر کہتے ہیں کہ اگر مسلم اکثریتی اضلاع کے پولس اسٹیشنوں میں درج ہونے والے مقدمات کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ حکومت نے ایک منصوبے کے تحت ایسے تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو مقدمات کی جال میں پھنسادیا ہے جو حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی جرأت رکھتے ہیں۔ انیس خان اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جس کے خلاف کئی مقدمات بشمول پوسکوجیسے گھنائونے کیس درج کرکے رکھا گیا تھا۔

انیس نے پولس مین شکایت درج کرایی تھی

انیس خان کے والد سالم خان نے19-2-2022کوآمتا تھانے میں جو ایف آئی آر درج کرائی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ’’ جان بوجھ کر میرے بیٹے کو مارا۔ میں ان کے نام نہیں جانتا، لیکن انہیں ضرور پہچانوں گا۔ ایف آئی آر کے مطابق، “امتا تھانے کے شہری پولیس کے لباس میں ملبوس چند افراد نے ہمارے گھر کے باہر ہنگامہ کھڑا کرنا شروع کر دیا، انہوں نے ہمارے مرکزی دروازے پر لاتیں مارنا شروع کر دیں، اور میرا نام لے کر مجھے پکارنے لگے۔ میں جلدی سے اٹھا، اور دیکھا کہ چند افراد پولیس والوں کے لباس میں ملبوس، بندوقوں سے لیس تھے، اور کوئی خاتون پولیس نہیں تھی، جو دروازہ نہیں کھولنے کی صورت میں مجھے گولی مارنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ اپنی جان سے ڈر کر میں نے دروازہ کھولا اور وہ مجھے نیچے دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے مچھر دانی کو پھاڑ دیا، جہاں گھر کی عورتیں سو رہی تھیں، اور گالیاں دیتے رہے اور پوچھتے رہے کہ انیس کہاں ہے۔ وہ انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کر رہے تھے اور یہاں تک کہ ہماری خواتین پر جسمانی تشدد بھی کیا۔ انیس کو ڈھونڈتے ہوئے، وہ اسے گھسیٹتے ہوئے اوپر لے گئے، اسے بار بار مارا پیٹا اور مار ڈالا۔ ثبوت چھپانے کے لیے اس کی لاش چھت سے نیچے پھینک دی گئی۔ روتے اور چیختے ہوئے ہم بھاگے اور اپنے بیٹے کو مردہ پایا۔سالم نے ایف آئی آر میں مزید لکھا ہے کہ ’’پولیس اس رات ہمارے گھر کیوں آئی تھی؟ پولیس نے میرے بیٹے کو کیوں مارا ا؟ میرے بار بار کہنے پر بھی انہوں نے مجھے کچھ نہیں بتایا؟ اور نہ ہی عدالت کی طرف سے کوئی سمن دکھایا گیا۔ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ہم آمتا پی ایس سے آئے ہیں۔ ابھی تک، آمتا پولس نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس رات فورسز کا کوئی اہلکار انیس کے گھر گیا تھا۔ ہاوڑہ دیہی کے ایس پی سومیا رائے کہتے ہیں اگر پولس ہوتی تو وہ مارتی نہیں بلکہ انیس خان کو گرفتار کرکے تھانے لاتی۔

انیس خان کے قتل کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ اس کا پتہ لگانا اتنا مشکل نہیں ہے۔کیوں کہ انیس کی سیاسی سرگرمیاںاور عباس صدیقی کی سیاسی جماعت آئی ایس ایف سے وابستگی ہی انیس خان ترنمول کانگریس کے مقامی لیڈروں کو گھٹکنے لگے تھے۔ انیس جہاں آرا یس ایس اور بی جے پی کے خلاف تحریکوں میں حصہ لیتے تھے وہیں وہ حکمراں جماعت کے لیڈروں کی غنڈہ گردی اور بدعنوانی کے خلاف مہم کا چہرہ ہوتے تھے ۔ ان کی سرگرمی صرف کلکتہ اور عالیہ یونیورسٹی کیمپس میں احتجاجی جلسوں میں شرکت اور احتجاج میں حصہ لینے تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے علاقے میں ترنمول کانگریس کے مختلف غلط کاموں کی مخالفت کی، اور ان کے خلاف لوگوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

عالیہ یونیورسٹی میں انتظامیہ کی مختلف بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے خلاف جاری طلبا تحریک کے بنیادی منتظمین میں سے ایک انیس خان بھی تھے۔ انہوں نے شہری ترمیمی ایکٹ اور این آر سی مخالف تحریک کے دوران فعال کردار ادا کیا تھا، اور تحریک کے آغاز سے ہی پارک سرکس کے احتجاج میں باقاعدہ شامل تھا۔ اپنے کالج کے دنوں میں، وہ اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا (SFI) کے رکن تھے۔ بعد میں وہ عباس صدیقی کی سیاسی جماعت انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف )سے وابستہ ہوگئے۔ وبائی مرض کے دوران ، 28 سالہ نوجوان نے اپنے علاقے کے مقامی نرسنگ ہوم کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔ پرائیوٹ نرسنگ ہوم کورونا کے مریضوں کے علاج کے نام پر لوٹ مار مچارکھی تھی۔ کہاجاتا ہے کہ نرسنگ ہوم کے مالک کا تعلق ترنمو ل کانگریس سے تھا۔ اسے کئی بار دھمکیاں دی جا چکی تھیں جس کا ذکر وہ اپنے فیس بک پوسٹ پر بھی کیا ہے۔ درحقیقت، انیس مقامی حکمراں پارٹی کے لیڈروں اور غنڈوں کے آنکھ کا کانٹا بن چکا تھا۔ انیس کو اس بات علم تھاکہ حکمراں جماعت کی تنقید کی قیمت اس کو چکانی پڑے گی ۔انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انیس کی طرف سے 24 مئی 2021 کو امتا پولیس اسٹیشن کے افسر انچارج اور دیگر ریاستی عہدیداروں کو لکھا گیا ایک خط سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ اس خط میں، انیس نےانتظامیہ کی توجہ مبذول کرائی تھی کہ ترنمول کانگریس کے غنڈوں سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے اور اس کو دھمکیاں مل رہی ہیں ۔ انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کیا تھا کہ کس طرح علاقے میں خون کا عطیہ کیمپ منعقد کرنے کی ان کی کوششوں کی وجہ سے مقامی ترنمول کانگریس کے غنڈوں نے اس کو اور اس کے خاندان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں ہیں۔ حسب معمول ان کی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

گرچہ وزیر اعلیٰ محترمہ ممتا بنرجی نے غیر جانبدارانہ تحقیق اور ایس آئی ٹی کی تشکیل کلا اعلان کیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کی توقع کی جاسکتی ہے؟ ممتا بنرجی کے ایس آئی ٹی سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اس کے وحشیانہ قتل کی آزادانہ اور منصفانہ تفتیش کریں گی۔ حکمران جماعت کے سرکردہ لیڈران پہلے ہی ریاستی حکومت اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس کو بدنام کرنے کے لیے ’عظیم سازش‘ کا نظریہ پیش کر نے لگے ہیں۔ اس لیے اگر پولیس اصل مجرموں کو گرفتار کرنے کے بجائے ’سازشیوں‘ کی تلاش شروع کر دے تو یہ حیرت کی بات نہیں ہوگی۔ا

نیس خان کے قتل کے خلاف مختلف طلبا تنظیمیں احتجاج کررہی ہیں مگر کلکتہ کی مسلم تنظیمیں اورلیڈران کی خاموشی معنی خیز ہے۔ صرف آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا بہت ہی مختصر وفد انیس خان کے گھر کا دورہ کیا اور سی بی آئی جانچ کے مطالبے کی حمایت کی ۔مگر عملی طور احتجاج و مظاہرہ سے خود کو دور رکھا۔ ایسے میں یہ سوال ہے کہ آخر ان مسلم رہنمائوں کی خاموشی کا مطلب کیا ہے؟ رضوان الرحمن جس کا عشق و معاشقہ کی وجہ سے قتل کردیا گیا تھا کے خلاف سڑکوں پر اترنے والے مسلم نوجوان اور اس پورے معاملے کی جارحانہ رپورٹنگ کرنے والے اردو اخبارات کا رویہ اس مرتبہ مایوس کن ہے۔ایک اردو اخبار نے تو انیس الرحمن کے قتل کی خبر کو بھی پہلے صفحے پر جگہ نہیں دی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین