کیرالہ کے کالج میں حجاب والی طالبہ نے طلبا یونین کے انتخاب میں کامیابی حاصل کی —————–عائشتھ مہسونا پہلی مسلم خاتون ہیں جنہوں نے ایس ایف آئی کی امیدوار کے طور پر کالج یونین کے انتخابات میں کاسرگوڈ کے گورنمنٹ کالج کی 64 سالہ طویل تاریخ میں کامیابی حاصل کی جو کرناٹک کے منگلورو شہر سے زیادہ دور نہیں ہے۔

0
50

کالی کٹ(انصاف نیوز آن لائن)
ایک ایسے وقت میں جب ساحلی ریاست کرناٹک میں حجاب کا تنازع چل رہا ہے، کیرالہ کے کاسرگوڈ ضلع میں ایک راسخ العقیدہ خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک مسلم طالبہ نے اپنے کالج میں طلبا یونین کے انتخاب میں سی پی آئی ایم کی طلبا ونگ ایس ایف آئی کےٹکٹ پر جنرل سیکریٹری کے عہدہ پر کامیاب ہوئی ہیں۔
21 سالہ عائشتھ مہسونا، حجاب پہننے والی مسلم طالبہ ہے، بی جے پی کے اسٹوڈنٹ ونگ اے بی وی پی اور انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے ایم ایس ایف کے خلاف قریبی مقابلے میں تھی۔ وہ ان چند خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے ایس ایف آئی امیدوار کے طور پر کالج یونین کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سرگوڈ میں گورنمنٹ کالج کرناٹک کے منگلورو شہر سے زیادہ دور نہیں ہے۔
کالج کے 1700طلباء میں سے 500 کا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے، جن میں زیادہ تر خواتین ہیں۔عائشہ کو ایس ایف آئی کے ساتھ وابستہ ہونے کی وجہ سے مسلم کمیونیٹی اور ایم ایس ایف کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈین مسلم لیگ اور اس کی تنظیموں نے مہم چلائی کہ کمیونسٹ مذہب کے خلاف ہیں اور ہر مسلمان لڑکی کو ایم ایس ایف کے ساتھ رہنا چاہیے۔ تاہم، کالج میں تقریباً تین درجن مسلم لڑکیاں ایس ایف آئی کا حصہ بن چکی ہیں،‘‘
عائشہ نے کہاکہ مسلم لڑکیا ں بائیں بازو کی سیاست میں شامل ہونے سے ہمیشہ محتاط رہتی ہیں۔ایس ایف آئی میں شمولیت کی وجہ سے کمیونٹی کی طرف سے بہت زیادہ دباؤ ہے۔ میں اس ذہنیت کو بدلنا چاہتی تھی اور میرے بہت سے دوست سیاسی انتخاب کے حوالے سے کمیونٹی کے حکم سے باہر آنے کے لیے تیار ہیں۔
عائشہ کہتی ہیں کہ 12ویں جماعت کے دوران اس نے نیشنل سروس اسکیم کے ایک کیمپ میں شرکت کی تھی۔اس پر مقامی عالم دین نے کہا تھا کہ کسی بھی مسلمان لڑکی کو ایسی تقریبات میں حصہ نہیں لینا چاہیے،‘‘ ۔