مریکی تاریخ کا فلسطین کے حق میں سب سے بڑاتاریخی احتجاج

واشنگٹن میں ہونے والے احتجاج میں افراد ہر عمر، ہر نسل، ہر علاقے کے تھے۔ سب کے ہاتھوں میں یا تو فلسطینی جھنڈے تھے یا ایسے پلے کارڈ جن پر غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ تھا۔

0
73

واشنگٹن :ایجنسی

واشنگٹن ڈی سی میں کٸی روز سے اس خبر کی بازگشت سناٸی دے رہی تھی کہ چار نومبر کو شہر میں فلسطین کے حق میں ایسی ریلی ہوئی ہے جس کے شرکا ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میں اپنی آواز اٹھانے نکلے۔

امریکی تاریخ کا فلسطین کے حق میں سب سے بڑا کہلانے والا احتجاج کیسا ہو سکتا ہے اس کا اندازہ ریلی کے لیے جمع ہونے والے مقام سے ملحقہ میٹرو سٹیشن پر پہچتے ہی ہو گیا جہاں درجنوں افراد ریل کے ڈبوں سے اتر کر تیزی سے شرکا کے لیے مخصوص مقام تک جا رہے تھے۔

شرکا ہر عمر ہر نسل ہر علاقے کے تھے کسی نے مخصوص عربی لباس پہن رکھا تھا تو کسی نے امریکی جینز لیکن سب کے ہاتھوں میں یا تو فلسطینی جھنڈے تھے یا ایسے پلے کارڈز جن پر غزہ میں فوری جنگ بندی سے لے کر اسراٸیل کو امریکی حکومت کی جانب سے دی جانے والے 14 بلین ڈالرز کی امدادی رقم کو روکنے کے مطالبات درج تھے۔

فریڈم پلازہ کے نام سے جانے والے اس علاقے میں صرف دور دور تک فلسطین کی آزادی کے نعرے گونج رہے تھے جب کہ چند لمحوں بعد کچھ نعرے بلند ہوتے جن کا جواب سڑک کے ہر جانب پھیلے شرکا دیتے ہیں۔

ایسے میں میرے ساتھ ہی ایک پاکستانی خاندان بھی چلنے لگا۔ ان سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ نواز احمد قریبی ریاست ورجینیا سے آٸے تھے اور چونکہ ڈی سی کے کچھ مخصوص علاقے ریلی کی وجہ سے بند کر دیے گٸے تھے اس لیے انہیں سب وے سے آنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا: ’امریکہ میں فلسطین میں جاری مظالم کے خلاف آواز اٹھانا اس لیے ضروری ہے کیونکہ امریکی حکومت جنگ بندی عمل میں لانے کے لیے اسراٸیل پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔‘

ان کے بقول بطور امریکی شہری وہ سجھتے ہیں کہ انہیں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے۔

وہ یہ کہہ کہ سٹیج پر ہونے والی تقاریر سننے لگے گرچہ وہاں کان پڑی آوز سناٸی نہیں دے رہی تھی لیکن شرکا نعروں کے جواب دینے میں مصروف تھے۔ نوجوان امریکی فلسطین کے جھنڈے اٹھائے اسی رنگ کا ماسک پہنے گھوم رہے تھے۔

بشیر بھی ایسے ہی ایک نوجوان تھے جن کا تعلق غزہ سے تھا اور ان کا خاندان وہیں مقیم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کٸی نسلیں اسی جنگ کی نذر ہو چکی ہیں اور پچھلے ایک ماہ میں حماس کے اسراٸیل پر کیے جانے والے حملے کے جواب میں اسراٸیل کی جانب سے صرف عام فلسطینی شہریوں کو نشانا بنایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت اسراٸیل کی جو بھی امداد کرئے گی اس سے ان حملوں میں اور شدت آٸے گی جو پہلے ہی نو ہزار فلسطینیوں کی جان لے چکے ہیں۔

نعرے بازی اور شدید ہوٸی تو پولیس کے کارندوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا کچھ کچھ دیر بعد ایک ہیلی کاپٹر ریلی کے اوپر سے سرولینس کے لیے گزرتا جس سے شرکا کی آواز بالکل دب جاتی۔ ایسے میں جب ہم نے چاہا کہ وہاں سے لاٸیو کیا جائے تو پتہ چلا کہ انٹرنیٹ صرف پاکستان میں ہی ڈاؤن نہیں کر دیا جاتا بلکہ یہ کام امریکہ میں بھی ہو سکتا ہے۔

شرکا کی آواز لوگوں تک پہنچانے کے لیے ہم نے تمام ریکارڈنگ اٹھاٸی اور تین بلاک دور جا کر وفتر بھیج دی۔

اس دوران ریلی جس کا اہتمام دو سو سے زاٸد اداروں نے مل کر کیا تھا واٸٹ ہاوس کی جانب بڑھنے لگے۔

مقامی انتظامیہ کا تخمینہ تھا کہ شرکا کی تعداد 35 ہزار سے زیادہ نہ ہو گی لیکن اس کے منتظمین کا یہ دعویٰ کافی حد تک درست تھا کہ آنے والوں کی تعداد سوا لاکھ سے زیادہ تھی۔

شرکا کو شکایت تھی کہ بڑے میڈیا کہ ادارے ان کو وہ جگہ نہیں دے رہے جو دی جانی چاہیے تھی۔

کے سٹریٹ اور میکفرسن سکوٸر سے گزر کر ہجوم واٸٹ ہاوس تک چلتا گیا۔ شرکا نے نومولود بچوں کے شکل کے پتلے اٹھا رکھے تھے جو کفن پہنے ہوے تھے جب کہ بہت سے افراد نے اسراٸیلی فورسز کے ہاتھوں قتل ہونے والی فلسطینی صحافی کی تصویریں بھی اٹھا رکھی تھیں۔

اردگرد کی عمارتوں پر یوں تو کوٸی نظر نہیں آتا لیکن آج کچھ افراد اونچی عمارتوں پر کھڑے ہو کر گلیوں سے گزرتے شرکا کے نعروں کا جواب دے رہے تھے۔

واٸٹ ہاوس پہنچنے پر شرکا مزید پرجوش ہو گٸے۔ فلسطینی پرچم اب شام کے وقت واٸٹ ہاوس کے سامنے لہرا رہے تھے جب کہ مارچ جاری تھا۔ نعرے جاری تھے۔ کچھ افراد اسی جگہ نماز ادا کر رہے تھے جب کہ پولیس واٸٹ ہاوس کے سامنے گشت کر رہی تھی۔

یہ ریلی کیا امریکی حکومت کو اسراٸیل کی مالی امداد سے روک سکے گی یہ تو شاید ممکن نہ ہو لیکن اسراٸیل کی جانب سے غزہ پر طاقت کے بے دریغ استعال اور امریکی حکومت کا اس کو اپنی حفاظت کا حق قرار دینا ایسے موضوعات بن گٸے ہیں جن پر امریکی سوساٸٹی پھر بٹی ہوٸی نظر آ رہی ہے۔

اس تقسیم کا اثر آنے والے امریکی انتخابات پر کیسے ہو گا یہی سوچتے ہوٸے میں واٸٹ ہاوس سے واپس اپنے سٹیشن کو چلنے لگی جہاں اب بھی نوجوانوں کی ٹولیاں فلسطین کی آزادی کے نعرے لگاتے ریلی کی طرف بڑھ رہی تھیں۔