اتراکھنڈکے ہلدوانی میں مدرسہ کو منہدم کرنے کی کارروائی کی وجہ سے حالات کشیدہ۔۔دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

0
72

اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں جمعرات کو ونبھول پورہ تھانہ حلقہ کے ملکہ باغیچے میں بنے مبینہ ناجائز مسجد اور مدرسہ کو توڑنے کی کارروائی کی گئی۔ اس سے ناراض ہو کر وہاں کے لوگوں نے پولیس ٹیم پر پتھراؤ شروع کر دیا جس میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ اتنا ہی نہیں، ناراض لوگوں نے جے سی بی کو بھی توڑ دیا۔ مشتعل لوگوں نے کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا۔

اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں پولیس کی فائرنگ سے کم از کم چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
8 فروری (جمعرات) کی سہ پہر تقریباً 3:30بجے، انتظامیہ بلڈوزر لے کر ’’ملک کے باغیچے‘‘ کا مدرسہ گرانے پہنچے۔ زمین پر موجود لوگوں نے نمائندے کو بتایا کہ انہیں نہ تو ان کی مقدس عبادت گاہ کو گرانے کا کوئی حکم دیا گیا ہے اور نہ ہی حکام ان کی بات سننے کے لیے تیار ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اہلکاروں نے مدرسہ کو منہدم کرنے کے حکم کی دستاویزات دکھانے سے انکار کر دیا۔

ایک عینی شاہد نے بتایاکہ ’’ہماری خواتین کو مرد پولیس اہلکاروں نے لاٹھیوں سے مارا، اور علاقے میں کم از کم چار مرد گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں‘‘۔

انتظامیہ نے مدرسہ کو منہدم کرنے سے پہلے صرف دو افراد کو فوری بنیادوں پر مذہبی کتابیں بازیافت کرنے کی اجازت دی۔ لوگوں کی کوششوں اور حکام کو مسمار کرنے کا حکم دکھانے کی درخواستوں کے باوجود، وہ طاقت کے ساتھ آگے بڑھے، جس کے نتیجے میں صورتحال مزید خراب ہوگئی۔

مذکورہ عینی شاہد نے مزید بتایا کہ علاقے کے کچھ لوگوں کی جوابی فائرنگ سے چند پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

اتراکھنڈ اتھارٹی کے ذریعہ منہدم کیا گیا یہ مدرسہ ریلوے کالونی کے علاقے میں واقع ہے جہاں 4000 سے زیادہ خاندان مقیم ہیں۔ مرکز ریلوے کی توسیع کے لیے زمین چاہتا ہے، اور یہ معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
اس سے قبل، خبروں کے مطابق،علاقے میں دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، اور سیکورٹی کو مزید مضبوط کر دیا گیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے رپورٹ کیا، “ڈی ایم [ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ] نینیتال نے بنبھول پورہ میں کرفیو نافذ کر دیا ہے اور فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا ہے۔

حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس نے بھی طاقت کا زبردست استعمال کیا۔ لوگوں کو دوڑا دوڑا کر پیٹا گیا جس مین کئی خواتین کو بھی چوٹیں آئیں۔ پولیس کارروائی سے بھیڑ مزید مشتعل ہو گئی اور اس نے پولیس اسٹیشن پر بھی پتھراؤ کر دیا۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کی۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نینی تال نے ونبھول پورہ میں کرفیو لگا دیا ہے اور فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا ہے۔

دراصل وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ریاست کی سرکاری زمینوں پر بنے غیر قانونی قبضہ کو ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔ جس کے بعد سے ہی ریاست میں ایسے تجاوزات کو گرانے کی کارروائی جاری ہے۔ اسی ضمن میں جمعرات کو ہلدوانی کے ونبھول پورہ تھانہ حلقہ کے ملکہ باغیچے میں بنے مبینہ طور پر ناجائز مسجد و مدرسہ کو توڑنے کی کارروائی کی گئی، جس پر ہنگامہ ہو گیا۔

ہلدوانی میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان وزیر اعلیٰ دھامی نے اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ، چیف سکریٹری اور پولیس ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے لوگوں سے امن بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کو سماج دشمن عناصر سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت دینے کے ساتھ ہی فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے حکم بھی دیے ہیں۔