بنگال بجٹ میں اقلیتوں کی ترقی کیلئے کوئی نئی اسکیم نہیں

0
66

کلکتہ8؍فروری: انصاف نیوز آن لائن

مغربی بنگال حکومت نے گزشتہ بجٹ4233کے مقابلے وزارت اقلیتی امور کے بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے 5,530.65کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی حکومت نے مرحلہ وار سرکار کے زیر انتظام چلنے والے مدارس کو اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔اس کیلئے 50کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے۔اس میں نصاب تعلیم کی تجدید کاری ، انفارمیشن تکنالوجی اور دیگر پیشہ وارانہ کورسز بھی شامل ہے۔

مغربی بنگال حکومت نے اقلیتوں کی ثقافتی ترقی کیلئے 20کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیاہے ۔ریاست کی 6اقلیت یعنی مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ مت،جین، پارسی کیلئے ثقافتی مراکز قائم کئے جائیں گے۔ ان مراکز میں میں نمائشی ہال ،ٹریننگ اور کوچنگ سنٹر، اور میٹنگ ہال وغیرہ ہوں گے۔اقلیتی برادریوں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔اس مرکز کے ذریعے اور اس سے روزگار پیدا ہوگا۔اس کے علاوہ سواتھیہ ساتھی کارڈ سے غیر مقیم مزدوروں کو جوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

گرچہ اقلیتی امور کے فنڈ میں 100کروڑ روپے کااضافہ کیا گیا ہے۔تاہم ریاستی بجٹ میں اقلیتوں کیلئے کوئی نئی اسکیم کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔چناں چہ اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں اقلیتوں کے لیے بھی کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ بجٹ میں مختص رقم کا مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مالی سال اس پوری رقم کو خرچ کردیا گیا ہے۔بلکہ بعد میں بجٹ پر نظر ثانی کرکے فنڈ کو کم کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’’بجٹ میں ان اقلیتوں کی ترقی کا کوئی اعلان نہیں ہے جنہوں نےترنمول کانگریس کو اقتدار میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ممتا بنرجی نے اقلیتوں کو انگوٹھا دکھایا ہے۔

بجٹ پیش کرتے ہوئے چندریما بھٹا چاریہ نے کہا کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے 1,290 ہونہار طلباء کو پیشہ ورانہ/ تکنیکی/ پیشہ ورانہ کورسز کے حصول کے لیے تعلیمی قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد واضح کرتے ہیں کہ 30فیصد آبادی والے اقلیتی طلبا کیلئے یہ قرض کی رقم کافی کم ہے۔

چندریما بھٹا چاریہ نے طویل بجٹ کی تقریر میں گزشتہ ایک سال میں اقلیتوں کی ترقی کیلئے کوئی قابل ذکر کام کا ذکر نہیں ہے۔عالیہ یونیورسٹی جو اقلیتی یونیورسٹی کا ذکر بجٹ میں موجود ہے۔تاہم یونیورسٹی کی توسیع سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔جب کہ 2016کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے انتخابی منشور میں عالیہ یونیورسٹی کے سنٹر کے قیام اور میڈیکل شعبہ قائم کرنے کی بات کہی گئی تھی مگر 7سال گزرجانے کے باوجود اس سمت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

ممتا حکومت نے اقلیتی طلبا کے انرول منٹ میں اضافہ اور اقلیتی علاقےمیں تعلیمی ادارے میں اضافے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں ۔