Wednesday, May 29, 2024
homeتجزیہمغربی بنگال میں سیاسی تشدد کی لہر

مغربی بنگال میں سیاسی تشدد کی لہر

عبدالعزیز
مغربی بنگال میں سیاسی تبدیلی جب بھی ہوتی ہے تبدیلی سے پہلے اور اس کے بعد ہر بار تشددکی لہر عرصہ دراز تک جاری رہتی ہے۔ کانگریس کے زوال کے بعد ایک عرصہ تک بنگال میں تشدد اور ہنگامہ خیزی جاری رہی۔ خاص طور پر انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلی اور ریگنگ کی شکایت کی جاتی تھی۔ کہا یہ جاتا تھا کہ سی پی ایم سائنٹفک ریگنگ کرتی ہے جس کے سہارے وہ ایک لمبی مدت سے مغربی بنگال میں حکمرانی کر رہی ہے۔ کانگریس تمام کوششوں کے باوجود نہ سی پی ایم کو کمزور کر پاتی تھی اور نہ اس کے زوال کا سبب بن پاتی تھی۔ پارٹی کے اندر بہت دنوں تک کشمکش جاری رہی کہ مارکسی حکومت یا بایاں محاذ کی حکومت کیسے ختم کی جائے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ کانگریس کے اندر ایسے بہت سے لیڈر ہیں جو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے حکمراں محاذ سے ملے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے کانگریس بے اثر ہوکر رہی۔

محترمہ ممتا بنرجی نے کانگریس سے الگ تھلگ ہوکر ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ کی تشکیل کی۔ 17سال تک محاذی حکومت سے ترنمول کانگریس ممتا بنرجی کی قیادت میں نبرد آزما رہی۔ بالآخر 2011ءمیں ممتا بنرجی اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئیں۔ پہلے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد سے اقتدار کی کرسی پر فائز ہونا چاہتی تھیں۔ 2006ءمیں بی جے پی سے سیاسی اتحاد کرکے اسمبلی کا الیکشن ترنمول کانگریس لڑی تھی مگر کامیاب نہیں ہوئی۔ ممتا بنرجی کو اچھی طرح اندازہ ہوگیا کہ بی جے پی کے ساتھ مل کر وہ مغربی بنگال میں حکومت کی تشکیل نہیں کرسکتی تو کانگریس سے انتخابی اتحاد ترنمول کانگریس نے کیا اور 2011ءمیں ترنمول کانگریس اور کانگریس کے اتحاد کو کامیابی ملی۔ مخلوط حکومت قائم ہوئی لیکن بہت جلد ممتا بنرجی کانگریس سے علاحدہ ہوگئیں۔ 2016ءاور 2021ءکے الیکشن میں ترنمول کانگریس تنہا لڑکر اسمبلی الیکشن میں کامیاب ہوئی۔

2016ءمیں ترنمول کانگریس کا مقابلہ کانگریس اور سی پی ایم کے اتحاد سے تھا اور 2021ءمیں مقابلہ بی جے پی سے ہوا۔ بی جے پی اور ترنمول میں بظاہرہ زبردست مقابلہ تھا۔ 2019ءکے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو 18 سیٹوں پر کامیابی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ سمجھا جارہا تھا کہ دونوں پارٹیوں میں سے کوئی بھی کامیاب ہوسکتی ہے۔ بی جے پی نے سارا زور لگا دیا۔ ہر طرح کا ہتھکنڈہ استعمال کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ساری طاقت جھونک دی۔ بی جے پی نے کامیابی کے لئے روپئے پیسے پانی کی طرح بہایا۔ ان سب کے باوجود ممتا بنرجی کی سیاسی حکمت عملی کامیاب ہوئی اور وہ بی جے پی کو 77سیٹوں پر سمٹنا پڑا۔ پھر بھی بی جے پی مغربی بنگال میں دوسرے نمبر کی پارٹی ہوگئی۔ اسمبلی میں مین اپوزیشن کا رول ادا کرنے لگی۔ کانگریس اور سی پی ایم اس قدر کمزور اور ناکام ثابت ہوئی کہ دونوں پارٹیوں کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ سیاسی تجزیہ نگار یہ کہتے ہیں کہ ترنمول کانگریس ےا ممتا بنرجی نے دونوں پارٹیوں کے کس بل کو اپنی سیاسی طاقت کے بل بوتے پر کہیں کا نہیں رکھا۔ بی جے پی کو مغربی بنگال کو پیر جمانے اور دوسرے نمبر کی پارٹی بنانے میں دو وجہوں سے کامیابی ہوئی۔ ایک وجہ تو مرکز میں اس کی حکومت ہے اور تھی اور دوسری وجہ بی جے پی کے پاس منی پاور تھی اور ہے۔

الیکشن سے کچھ پہلے ’انڈین سیکولر فرنٹ ‘ (آئی ایس ایف) کے نام سے فرفرہ شریف کے پیرزادہ جناب عباس صدیقی صاحب نے ایک پارٹی کی تشکیل کی اور اپنے بھائی نوشاد صدیقی کو پارٹی کا صدر مقرر کیا۔ نوزائیدہ پارٹی ہونے کے باوجود بھانگور اسمبلی حلقہ سے نوشاد صدیقی اسمبلی کی سیٹ پر کامیاب ہوئے۔ محترمہ ممتا بنرجی یا ان کی پارٹی کو آئی ایس ایف کی ایک سیٹ پر کامیابی ایک آنکھ بھی نہیں بھائی۔ جمہوری جذبے اور جمہوری قدروں کو نظر انداز کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے آئی ایس ایف کے سیاسی وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ الیکشن کے بعد جب آل پارٹی میٹنگ ہوئی تو جس کے پاس ایک ایم ایل اے بھی نہیں تھا اس پارٹی کو شرکت کی دعوت دی گئی لیکن آئی ایس ایف کو دعوت نہیں دی گئی۔ 21جنوری کو نوزائیدہ پارٹی کا ’یوم تاسیس‘ تھا۔ یوم تاسیس منانے کے لئے بھانگور سے آئی ایس ایف کے کارکنان اور لیڈران جب کلکتہ کے رانی راش منی روڈ کے جلسے میں شرکت کے لئے آرہے تھے تو ترنمول کانگریس کے شرپسند عناصر نے ان پر حملہ کیا۔ آئی ایس ایف کے بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ دھرمتلہ میں اسی روز جب آئی ایس ایف نے احتجاجاً راستہ بلاک کیا تو پولس نے آئی ایس ایف پر ایک طرفہ کارروائی کی۔ بغیر اعلان کے آنسو گیس کے گولے داغے اور بغیر اعلان کے لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ بہتوں کو زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ چند پولس والے بھی زخمی ہوئے۔ ایم ایل اے نوشاد صدیقی اور ان کے 16، 17 رفقاءکو حراست میں لے لیا گیا۔ بعد میں آئی ایس ایف کے مزید لوگوں کی گرفتاری ہوئی۔ اب تک آئی ایس ایف کے 65 افراد زیر حراست ہیں۔ ایم ایل اے کو جس طرح گرفتار کیا گیا اور جس طرح مختلف تھانوں میں ایف آئی آر درج کیا گیا، پہلے ان کو پولس حراست میں لیا گیا اور پھر آٹھ دس روز کے بعد جوڈیشیل کسٹڈی میں دیدیا گیا۔ لیدر کمپلیکس پولس اسٹیشن میں ان کے خلاف جو ایف آئی درج کیا تھا اس کی بنیاد پر باروئی پور کی عدالت نے انھیں پھر پولس کسٹڈی میں دے دیا گیا۔ اس طرح کی کارروائی عام طور پر یوگی آدتیہ ناتھ کے جنگل راج میں ہورہی ہے۔ آئی ایس ایف کے ساتھ بالکل انوکھے قسم کی کارروائی ہورہی ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈران اور کارکنان ترنمول پر بے تحاشہ حملے کرتے ہیں جس میں پولس بھی زخمی ہوتی ہے اور ترنمول کے کارکن بھی زخمی ہوتے ہیں، لیکن بی جے پی کے خلاف ایسی کارروائی نہیں کی جاتی جیسی آئی ایس ایف پر کی جاتی ہے۔ بی جے پی کے کارکنوں اور لیڈروں کو یاتو تھانہ لے جاکر پولس چھوڑ دیتی ہے یا دوچار روز حراست میں رکھ کر عدالت سے رہائی مل جاتی ہے۔

یہ مختلف قسم کی کارروائی اور دہرے معیار کی کارروائی قابل فہم ہے اور وجہ بالکل ظاہر ہے۔ بی جے پی کے کارکنوں کے ساتھ اگر ممتا بنرجی یا ان کی حکومت غیر جمہوری یا غیر آئینی کارروائی کرے گی تو مغربی بنگال میں مرکز کی طرف سے گورنر بھی موجود ہیں اور مرکزی حکومت کی کڑی نظر بھی ممتا حکومت پر ہے جس کی وجہ سے بی جے پی یا ان کے کارکنوں کے خلاف ترنمول کی حکومت سخت کارروائی کرنے سے قاصر ہے، لیکن نوزائیدہ پارٹی کے ترنمول کانگریس ایسی کارروائی کر رہی ہے جیسے ایک بچہ کے گلے کو دبایا جارہا ہے اور اس کی آواز بھی نکلنے نہیں دی جارہی ہے۔ یہ سراسر غیر آئینی اور غیر جمہوری رویہ ہے۔ کچھ روز پہلے تریپورہ میں ممتا بنرجی نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ تریپورہ میں ڈبل انجن کی سرکار نہیں ہے بلکہ بی جے پی کی ڈبل اسٹینڈرڈ کی سرکار ہے۔ آخر ممتا بنرجی سے کون دریافت کرے گا کہ پولس کی طرف سے جو ڈبل اسٹینڈرڈ کی کارروائی ہورہی ہے کیا یہ جمہوریت کشی نہیں ہے؟ کیا یہ آمرانہ رویہ نہیں ہے؟ ایم ایل اے نوشاد صدیقی نے موجودہ حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ان پر اور ان کی پارٹی پر جو ظلم و بربریت روا ہے وہ پنچایت انتخابات کے پیش نظر ہے۔ بہت سی جگہوں میں جس بھانگور کا علاقہ بھی شامل ہے ترنمول کانگریس کے اثرات زائل ہوچکے ہیں۔ پارٹی کو بحال کرنے کے لئے آئی ایس ایف کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
افسوس کا مقام ہے کہ مغربی بنگال کے الیکشن میں سیاسی پارٹیاں اور خاص طور پر حکمراں پارٹی غریب مسلمانوں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ مسلمان خود بھی اپنی غربت اور افلاس کی وجہ سے بہت سستے داموں میں استعمال کرلئے جاتے ہیں۔ مسلمان خود آپس میں دست و گریباں ہوتے ہیں۔ قتل ہوتے ہیں اور قتل کرتے ہیں۔ پنچایت الیکشن میں یا دوسرے انتخابات میں زیادہ تر مسلمانوں کا خون بہتا ہے۔ ایک پنچایت الیکشن میں 70 افراد مارے گئے تھے جس میں 50 مسلمان تھے۔ یہی تناسب تقریباً ہر الیکشن میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ مغربی بنگال میں بھکمری اور جہالت بدقسمتی سے مسلمانوں کے پاس ہے۔ اس کا فائدہ سیاسی پارٹیاں بہت آسانی سے اٹھا لیتی ہیں۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی معاشی حالت سب سے زیادہ مغربی بنگال میں خراب ہے۔

جہاں جہاں فسادات یا تشدد برپا ہوتا ہے وہاں دیر سویر بم بازی بھی ہوتی ہے۔ مغربی بنگال میں بم کلچر کی وبا بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ غریب افراد بم بنانے کا بھی کاروبار کرتے ہیں اور سبھی پارٹیوں کو بغیر کسی امتیاز کے فروخت کرتے ہیں۔ کبھی کبھی بم سازی کے دوران بم پھٹ جاتے ہیں اور بم بنانے والے ہی اپنے بم کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں اس کلچر سے خوب واقف ہیں اور خاص طور پر حکمراں جماعت کو بھی اچھا خاصا علم ہے۔ پولس کو بھی اس کا علم ہوتا ہے۔ بم کلچر مغربی بنگال میں کم ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے۔ کانکی نارہ میں جب فساد ہوا تھا تو تین چار مہینے رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ جس پولس افسر کو حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے کانکی نارہ بھیجا گیا تھا اس افسر نے خاکسار کو ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ بم سازی کی وجہ سے بنگال کی صورت حال بہت ہی بھیانک ہے۔ ملاقات کے دوران وفد میں کئی لوگ شامل تھے۔ مشہور سماجی کارکن مسٹر اوپی شاہ بھی تھے۔ ایک گھنٹہ کی گفتگو کے بعد جب میں نے پولس افسر سے کہا کہ کیا یہ سمجھا اور لکھا جاسکتا ہے کہ بنگال بارود کے ڈھیر پر آباد ہے؟ پولس افسر نے کہاکہ بالکل لکھا جاسکتا ہے اور کہا جاسکتا ہے۔ پولس افسر پر حکومت کو اعتماد تھا یہی وجہ تھی کہ اس افسر کو فساد زدہ علاقے میں بھیجا گیا تھا۔ پولس افسر تجربہ کاراور بردبار تھا جس کی وجہ سے اپنی سربراہی میں وہ بہت جلد کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ پولس کے اندر کمیوں اور خرابیوں کے بارے میں جب میں نے پوچھا تو پولس افسر نے مثبت میں جواب دیا۔ دھرمتلہ میں 21جنوری کو پولس والے جب آئی ایس ایف کے کارکنوں پر حملہ کر رہے تھے تو انتہائی غلیظ اور گندی گالیاں ان کے منہ سے نکل رہی تھیں ۔ موجود رپورٹروں نے اپنے کانوں سے سنیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی بنگال کی پولس کے اندر فرقہ واریت پیدا ہوگئی ہے اور مسلمانوں کو پولس کا ایک طبقہ فرقہ واریت کی بنیاد پر اچھوت سمجھتا ہے۔
جب کسی علاقے یا ریاست میں نظم و ضبط قائم نہیں رہتا۔ ماحول پراگندہ ہوتا ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کمزور ہے، وہ حالات پر قابو پانے یا سنبھالنے میں ناکام ہے۔ محترمہ ممتا بنرجی کو اچھا سیاست داں سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے اندر فرقہ پرستی نہیں ہے، لیکن موجودہ حالات جو گواہی دے رہے ہیں وہ اس کے برعکس ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین