کیا ایران، روس، چین، کا مثلث نیا عالمی نظام قائم کر کے فلسطین کا مسئلہ حل کرے گا؟

فلسطینیوں کے ساتھ ناانصافی، بربریت اور نسل کشی کی اصل وجہ اسرائیل کی طاقت نہیں بلکہ امریکہ اور دیگر سامراجی ملکوں کی بیجا پشت پناہی اور کھلی ناانصافی ہے۔

0
92
اردن کے شہر عمان میں شہری 31 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں ایک احتجاج کے دوران جمع ہیں (روئٹرز)

عبیداللہ ناصر
راحت اندوری مرحوم کا یہ شعر غیور، حوصلہ مند، بہادر، باحمیت اور جنگجو فلسطینیوں اور ظالم، جابر، سفاک، غاصب اسرائیلی حکمرانوں کی سوچ و فکر کی مکمل تشریح ہے۔ گزشتہ سو برسوں سے فلسطینی اپنے ساتھ ہوئی تاریخی ناانصافی کے خلاف برسر پیکار ہیں اور صیہونی پوری سفاکی کے ساتھ ان کی نسل کشی کر رہے ہیں۔ 1917 میں برطانوی وزیر خارجہ لارڈ بالفورس کے فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کی حمایت کے اعلان کے ساتھ ہی صیہونی دہشت گرد تنظیم ہگانہ نے فلسطین میں قتل عام کا بازار گرم کر دیا تھا۔ وہ کئی محاذوں پر سازش کر رہے تھے اور برطانوی-امریکی سامراج کی اخلاقی، سیاسی، فوجی اور معاشی طاقت ان کے ساتھ تھی۔ دوسری جانب فلسطینی اپنے وطن، اپنے گھر، اپنی زمین، اپنے زیتون کے باغات وغیرہ کی حفاظت کے لیے اکیلے تھے۔ خلافت عثمانیہ ختم ہو چکی تھی، عرب سرزمین کے حصّے بکھر چکے تھے اور برطانوی-امریکی سامراج کے تابعدار حکمراں عربوں پر حکومت کر رہے تھے۔ تاریخ کے کسی دور میں بزدل اور بے حمیت نہ رہنے والے عرب حکمراں بزدلی، عیاشی، بے حمیتی کا نمونہ بنے ہوئے تھے جبکہ عرب عوام ان استبدادی حکمرانوں کے مظالم کے آگے مجبور تھے۔ وہ کڑھ کڑھ کے قبلہ اول پر صیہونیوں کا قبضہ دیکھ رہے تھے۔ فلسطینیوں پر ہو رہے مظالم سے ان کے دلوں میں آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ فلسطین کے جہاد میں شامل ہونا چاہتے تھے مگر اپنے استبدادی حکمرانوں کے سامنے مجبور تھے۔

کم و بیش یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مصر میں جمال عبدالناصر کے فوجی انقلاب کے بعد کئی عرب ملکوں میں انقلابی حکمران برسر اقتدار آئے اور کئی ملکوں میں شاہی نظام نافذ رہا۔ اسرائیل کے خلاف رویہ سخت ہوا، کچھ جھڑپیں بھی ہوئیں، آخر کار 1967 میں اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کی مشترکہ فوج کو محض چھ دنوں میں دھول چٹا کر خطہ میں اپنی فوجی برتری قائم کر دی۔ 1973 میں مصر کی فوج نے اسرائیل کا یہ زعم توڑ دیا تھا، لیکن امریکی سازش میں پھنس کر انور سادات نے جیتی ہوئی بازی شکست میں تبدیل کر دی اور اسرائیل کی فوجی برتری کا یہ سکہ گزشتہ نومبر تک چلتا رہا۔ لیکن 7 نومبر کو حماس نے اسرائیل کا یہ غرور، یہ زعم تہس نہس کر دیا جس کے بعد اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے حماس کے قبضہ والے غزہ پر وحشیانہ بمباری شروع کر دی جو آج بھی جاری ہے۔ اب تک 15 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں نصف بچے ہیں۔ بچوں کو نشانہ بنانا اسرائیل کے ذریعہ فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کی سازش کا حصّہ ہے۔ اسرائیل نے بھلے ہی غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا ہے، 15 ہزار فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے، لیکن وہ فلسطینیوں کے جذبہ حریت اور جذبہ شہادت کو نہیں ختم کر سکا۔ یہی صیہونیوں کی سب سے بڑی شکست اور فلسطینیوں کی سب سے بڑی فتح ہے۔

فلسطینیوں کے ساتھ یہ ناانصافی، بربریت اور نسل کشی کی اصل وجہ اسرائیل کی طاقت نہیں بلکہ امریکہ اور دیگر سامراجی ملکوں کی بیجا پشت پناہی اور کھلی ناانصافی ہے۔ ’اسرائیل کو اپنے تحفظ کا حق ہے‘، یہ کہہ کر اس کو فلسطینیوں کی نسل کشی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ امریکہ اور یوروپ کی یہودی لابی اور اسلام دشمنی (اسلامو فوبیا) کی وجہ سے اسرائیل کی دیدہ دلیری اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ امریکہ کے صدر کی بھی نہیں سنتا۔ یہاں تک کہ اس کے مظالم اور نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانے والے متحدہ اقوام کے سکریٹری جنرل کو بھی وہ نشانہ بنا لیتا ہے اور اب تو وہ خود اس معاہدہ کو ہی مسترد کر رہا ہے جو اس نے اوسلو میں امریکی صدر کی موجودگی میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات سے کیا تھا۔ اس معاہدہ کے تحت اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقہ خالی کر دے گا اور وہاں فلسطینی ریاست قائم ہو جائے گی۔ اس معاہدہ پر اس نے جزوی عمل تو کیا اور فلسطینی اتھارٹی نام سے فلسطین کا ایک انتظامی علاقہ وجود میں آیا، لیکن اس کی حیثیت اسرائیل میونسپلٹی سے زیادہ کی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ وہ ان فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بسانے لگا جس کو اسے معاہدہ کے تحت خالی کرنا تھا۔ اس کی اس حرکت سے فلسطین میں ہی یاسر عرفات کی پوزیشن بہت کمزور ہو گئی اور وہ ایک شکست خوردہ نا امید رہنما کی طرح اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ مگر اسرائیل کی ان وعدہ خلافیوں کا یہ انجام ہوا کہ فلسطین کی جنگ آزادی کے لیے حماس نام کی ایک زیادہ سخت گیر ملیشیا وجود میں آ گئی جس نے اسرائیل کے وجود کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اسے عرب حکمرانوں سے کم مگر ایران سے بھرپور فوجی سیاسی اور سفارتی حمایت مل رہی ہے اور وہ اتنی طاقتور اور منظم ملیشیا بن چکی ہے کہ اسرائیل کو دن میں ہی تارے دکھلا دیتی ہے۔ اسرائیل گزشتہ نومبر میں ہوئے خطرناک حملے کے بعد اسی حماس ملیشیا کو ختم کرنے کے لیے غزہ پر وحشیانہ بمباری کر رہا ہے۔ اس کا مقصد حماس کو نیست نابود کر دینا ہے، لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ کسی فوج کو شکست دی جا سکتی ہے، ہزاروں فوجیوں اور لاکھوں انسانوں کو مارا جا سکتا ہے، لیکن کسی جذبہ، کسی نظریہ کو نہیں مارا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں : لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا سے بھی معطل ہوئے 45 اپوزیشن اراکین، معطل اراکین پارلیمنٹ کی تعداد 92 پہنچی
بقول ہندوستانی مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر ’’دنیا کے کسی ملک نے وہ اسلحہ نہیں بنایا ہے جو 35 کروڑ ہندوستانیوں کو مار سکے۔ لیکن ہم 35 کروڑ ہندستانیوں نے اپنے ملک کی آزادی کے لیے مر مٹنے کا تہیہ کر لیا ہے۔‘‘ فلسطینی مجاہدین آزادی پر بھی مولانا محمد علی جوہر کا یہ لافانی جملہ صادق آتا ہے۔ اسرائیل اور اس کے پشت پناہ امریکہ، برطانیہ و دیگر ممالک کے حکمرانوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ انصاف کے بنا امن نہیں قائم ہو سکتا۔ اسرائیل سو سال سے بھی زیادہ وقفہ سے فلسطینیوں پر مظالم کر رہا ہے، لیکن ان کے جذبہ حریت کو نہیں مٹا سکا ہے اور اگلے سو برسوں تک مٹا بھی نہیں سکتا۔ جب تک فسطینی مزاحمت کا سلسلہ جاری رہے گا وہ نہ محفوظ رہے گا اور نہ ہی چین سے بیٹھ سکے گا۔ آج حالت یہ ہے کہ اسرائیل پر چوطرفہ حملے ہو رہے ہیں۔ اس کا اسلحہ خانہ اور خزانہ دونوں خالی ہو رہا ہے۔ اس کی تھو تھو ہو رہی ہے۔ خود امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے سربراہ بھی اب اپنے رویہ پر نظر ثانی کے لیے مجبور ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کے ملکوں کے عوام اسرائیل کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں جس سے ان سربراہوں کی سیاسی پوزیشن خراب ہو رہی ہے۔ فلسطینی کاز کو ایسی عالمی حمایت شاید ہی پہلے کبھی ملی ہو جیسی آج مل رہی ہے۔

اسرائیل کی بیجا حمایت امریکہ، برطانیہ اور سامراجی طاقتوں کو بھاری پڑ رہی ہے۔ ویسے بھی دنیا ایک نئے عالمی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے جہاں امریکی بالادستی کا خاتمہ یقینی دکھائی دے رہا ہے۔ عالمی نظام روس اور چین کی طرف جھک رہا ہے۔ فلسطینی مزاحمت اس نئی صورت حال کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ روس، چین اور ایران کا مثلث مغربی ایشیا میں ایک نئے دور کا آغاز کرنے والا ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین مفاہمت کرانے اور ابراہمی معاہدہ کا جو پانسہ پھینکا تھا، جس کا مقصد فلسطین کی جنگ آزادی اور فلسطینیوں کی مزاحمت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا تھا، حماس اور فلسطینیوں نے ایک بڑی قربانی دے کر امریکی سامراج کی یہ سازش ناکام کر دی ہے، اور فلسطینی مسئلہ کو مرکز و محور بنا دیا ہے۔ امریکہ اب پھر دو ریاستی فارمولہ پر عمل کرنے کی بات کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل سابقہ معاہدہ کے باوجود اب اسے مسترد کر رہا ہے۔ اب اگر ایران، روس اور چین مل کر اسرائیل پر یہ دباؤ بنا لے گئے جس کی بادل نخواستہ ہی سہی سعودی عرب سمیت سبھی عرب ملکوں کو حمایت کرنا ہی پڑے گی تو امریکہ کا مغربی ایشیا سے پتہ صاف ہونا یقینی ہے۔ اس لیے یہ امریکہ کے بھی مفاد میں ہے کہ وہ یہودی لابی کا خوف چھوڑ کر اسرائیل کو فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مجبور کرے۔ یہی مغربی ایشیا کے مسئلہ کا ایماندارانہ اور منصفانہ حل ہے۔ اور یہ اسرائیل کے مفاد میں بھی ہے۔ جنگ سے زیادہ امن تحفظ کی گارنٹی ہوتا ہے، اسرائیل جتنی جلد یہ سمجھ لے اتنا ہی سب کے لیے بہتر ہے۔