Wednesday, May 29, 2024
homeدنیالہو کی آنچ سے لفظ پگھلانے والا سخن تراش: سلیم فگار

لہو کی آنچ سے لفظ پگھلانے والا سخن تراش: سلیم فگار

عالیہ خان، پٹنہ، بہار

پاکستان کی نتی نسل کے نمائندہ شاعر سلیم فگار بیک وقت نظم اور غزل دونوں اصناف میں مشق_ سخن کے ذریعہ اپنی ادبی حیثیت مستحکم کرنے میں سرگرم ھیں۔ وہ اُن صاحبان_ کمال میں شامل کئے جانے کے وصف سے مالا مال ھیں جن سے شاعری کا مستقبل پر شکوہ ادبی سرمایہ کی امید وابستہ کر سکتا ھے۔ سلیم فگار کو بھی اس کا علم یا اندازہ ھے کہ انکی دیانت دارانہ کاوش سے سخن کا ایک نیا ،معتبر اونچا مکان تعمیر ھو سکتا ھے اس لئے اس امکان پر اشتباہ یا اعتراض کرنے والوں سے وہ سیدھا مکالمہ کرتے ھیں۔

بنیاد کو تو ایسے ہی مت ٹھوکریں لگا
کیا تجھ کو علم کیا بنوں تعمیر ہو کے میں۔

دیدہ وروں کی آنکھ سے اوجھل پڑے ھوئے
بے مایہ ھیں سخن ابھی میرے کہے ھوئے

لگتا ھے ابھی سارا سفر باقی پڑا ھے
ھم جیسے ابھی اپنے ھی گھر سے نہیں نکلے

اس اعتماد کی نیو میں طبع_ موزوں، زبان دانی، غزل کی روایت سے واقفیت،غزل کے نئے امکانات کا اندازہ،اپنا نظام_ فکر، شعور کی با لید گی، لسانی رویہ، تجربہ، مشاہدہ اور فرش و فلک کے درمیان بکھری ہوئی ریزہ ریزہ زندگی کے پھیلاؤ پر گرفت جیسی چیزیں ھیں ۔ یہ اعتماد اُن کی غزلوں اور نظموں میں نمایاں نظر آتا ھے۔چونکہ یہاں زیر _ غور غزل ھے اس لئے نظم کی تکنک، ٹریٹمنٹ، کرافٹ، ہیئت اور موضوعات پر گفتگو کسی اور موقع کیلئے محفوظ کی جاتی ھے۔فی الحال اسی پر بات ہو جس سے سروکار ھے یعنی غزل ۔
سلیم فگار غزل میں اپنے انفراد کی تلاش میں ھیں اس لئے مجموعی طور پر غزل کے اور غزل گوئی میں اپنے بھی امکانات کا جائزہ لے کر کسی نئی یا غیر پامال پگڈنڈی کی تلاش میں ھیں۔غزل کے معلوم اور معروف سے الگ ھونے کی تڑپ یا تمنا سے ہر زندہ ذھن آباد ھے اور کئی دوسروں کی طرح سلیم فگار کی بھی کوشش نہ صرف دانستہ و دیدہ بلکہ علم و عقل کی روشنی میں ھے۔

کرن کے اُجلے دامن سے ہی سارے رنگ نکلے ھیں
سو خود کو روشنی کی طرح سادہ کر رھا ھوں میں

کچّے رنگوں کی اس نمائش سے
میں اٹھا، سادگی کی سمت گیا

قوس_ قزح کے سات رنگوں میں ہر رنگ کسی نہ عہد اور عہدے، فرد اور فرض ، رنگ اور رس ، طلب اور تسکین، انتشار اور اہتمام ، فتنہ اور فرزانگی، شدت اور شفقت کا نمائندہ ھے اس لئے تمام رنگوں کو آپس میں ملا کر بنائے گئے الگ الگ شیڈ س بھی ، جن سے مناظر و مظاہر سے لے کر خیالات و خواب تک کائنات کے

ہر رنگ کا احاطہ ممکن ھے، ذھن کو کسی نہ کسی طرف لے جائے ھیں۔سلیم فگار نے ایک کرن کے رنگوں کے ٹوٹ کر ہفت رنگ ھونے سے قبل کے نقطہ _ ارتکاز کو پکڑنے اور اس سے فیض حاصل کرنے کو ترجیح دی۔یعنی سادگی کو اپنا لیا کہ اسی سے تمام رنگ نکلتے ھیں۔اور سادگی اُن کے دونوں شعری مجموعہ” ستارہ سی ایک شام” سے ” تغیر ” تک زبان اور بیان میں ہر جگہ اُن کے اعلان کی تائید کرتی نظر آتی ھے۔
سلیم فگار پاکستان کے چکوال سے برطانیہ جا کر بسے ھیں اور دوسروں کی طرح نئی تہذیب اور نئے تقاضوں کی شدت جھیلتے ہوئے ان تجربات سے گزر رہے ھیں جن میں مہجری ادب پروان چڑھتا ھے۔
انکے یہاں مہاجرت کا تجربہ شخصی یا اجتماعی سے بھی بالا ٹر ھوا ھے۔

کاش ایسا ہی
کوئی دن نکلے
جو ڈھلے تو اپنے گھر جاؤں

وہ غزل میں تمام رنگوں اور حوالوں کو سمیٹنے کی خواہش میں مبتلا ھیں ۔ گو کہ نظموں میں سلیم فگار زیادہ راست بیانی اور کھلے پن اور ھم عصر زندگی کے منفی و مثبت پر زیادہ بے تکلفی سے بات کرتے ھیں مگر غزلوں میں ایجاز و ایمائیت اور اشاروں کنایوں سے لطیف اور نرم پیرایہ میں کلام کرنے کی تہذیبی مجبوری ان کو زیادہ گہرے اور گاڑھے رنگوں میں سامنے آنے کا موقع اور مہلت فراہم کرتی ھے۔ اُن کی غزلوں کے اشعار میں کبھی کبھی نادر اور نئی شبیہیں جھلک اٹھتی ھیں۔ کہیں حیرانی کو انگیخت کرتی ہوئی کہیں ہولناکی کو متحرک کرتی ھوئی

میں کائنات سے مصروف گفتگو ھوں ابھی
فلک سے آج بھی میرا سوال جاری ھے

ھر اینٹ کے اندر سے کوئی جھانک رھا ھے
اس شہر پر اسرار کی دیوار میں کچھ ھے

ایسے اشعار سلیم فگار کی غزلوں میں اور بھی ھیں۔ اصل میں یہ منظر اس زندگی کا ہے جسے جھیلنے پر نئی صدی کا انسان مجبور کیا گیا ھے۔

میں اپنی عمر کا تاوان بھر کے پہنچا ھوں
تو فکر _ تازہ کے رستے نکل کے آئے ھیں

اُن کے یہاں زیست کی شدتوں کا بیان کم اور شدتوں پر قابو پانے کا رجحان نمایاں ھے۔ مھجری، عشق، اقدار، فرد کی ازیت، زمانے کی کج روی،موسم کا تضاد، تمدنی ٹکراؤ، اور وہ سب جو سانسوں کا قرض چکانے کے عمل میں روانی یا رکاوٹ کا موجب بنے ، سلیم فگار کی غزل میں شعر کا موضوع ھے۔

دے وسعت_ خیال کہ دنیا کو چھان کر
اگلا قدم میں وسعت_ افلاک پہ دھروں

تم ھوتے ھو ساتھ مرے جب كوہ_ گراں کے موسم میں
ایسا لگتا ھے بوجھل دن اُڑتے بادل ھو جاتے ھیں

بنتا جاتا ہے نقش کاغذ پر
ھم اسے خود کہاں بناتے ھیں

کر
کر کے ویران ان زمینوں کو
چاند پر بستیاں بناتے ھیں

خود میں تجھ کو تلاش کر لوں گا
سر پہ میرے جنون طاری رکھ

کتنے آفاق منتظر تھے مرے
میں ھی گھر بار سے نہیں نکلا

یوں ھی چلتے رھے تو ممکن ھے
خود سے اک روز ھم گزر جائیں

سلیم فگار کی شاعری کا دائرہ بڑا ہے ۔ وہ اپنی بات کہنے کیلئے دیگر علوم و فنون سے بھی فیض اٹھاتے ھیں اور اپنے کینوس پر زندگی کا ایک نیا رنگ نئے شیڈ میں اجاگر کرنے کی تخلیقی کوشش جاری رکھتے ھیں۔پہلے چاند اور پورے چاند کے درمیان کی چودہ راتیں سمندر سمیت ہر ذخیرہ _ آب اور کچھ حساس انسانوں پر مد و جزر کی سنگینی کے ساتھ گزرتی ھیں ۔ ان راتوں کی بے چینی ہمارے یہاں چاند اور چکور کے حوالے سے ہی جانی جاتی ھے چاند کی طرف سمندر کا دل کھنچنے کا جو تجربہ سلیم فگار کے یہاں نظم ھوا وہ میرے بہت محدود اور مختصر مطالعہ میں نہیں تھا۔ چاندنی راتوں میں سمندر کا اچھال یا ابال علم نجوم یا علم الافلاک کا ایک بھرپور موضوع ھے اور اگر پہلی بار نظم ہوا ھے تو بڑی بات ھے۔
وہ شعر یہاں نقل کئے جانے کا تقاضا کرتا ھے۔

عجب ھے وحشت_ ہجراں کہ چآند راتوں میں
فلک کی سمت سمندر اچھلنے لگتا ھے

ویسے ھی غزل کے شعر میں پرکار کا استعمال اس خوبی سے پہلی بار نظر سے گزرا

آنکھ کی پرکار سے کیوں کھینچتے ھو دائرے
بے سبب ان ایڑیوں پر گھومنا اچّھا نہیں

سلیم فگار غزل میں عشق کے حوالے سے بھی کچھ نئے تجربات نظم کرنے میں مصروف ھیں اور قاری کو ایک لطیف جذبے سے آشنا کراتے ھیں۔

میں اُس کی آنکھ کے زیر و زبر سمجھتا ھوں
پلک پہ کیوں وہ پلک لمحہ _ سوال گری

ردائے شرم لئے آنکھ میں میں آگے بڑھا
ھوا میں اُڑ کے جب اُس کے بدن سے شال گری

کیا کیا طلسم کھلتے رھے میری ذات پر
تصویر دیکھتا رھا تصویر ھو کے میں

کھو دیئے ھیں چاند کتنے اک ستارہ مانگ کر
مطمئن ھوں کس قدر پھر بھی خسارہ مانگ کر

تُم آئے تو تنہائی سے
دل نے نقل مکانی کی

ایسے اشعار کثیر تعداد میں ہیں جو اُنکی تیز نگاہی اور منظر شناسی کی شہادت ھیں۔ بہت کٹھور سچائیان بھی اُن کے بیان کو اپنی طرف راغب کرتی ھیں اور اس صورت میں سلیم فگار کے حاوی رجحان سے الگ ہونے کے باوجود اُن کے سماجی سروکار کی گواہی دینے کچھ اور اشعار آتے اور شاعر کی فکر کا تکملہ کرنے کی ذمے داری نبھاتے ھیں۔

وہ دیکھ ٹہنیوں پہ نمو پا رھے ھیں خوف
کتنے ہی حادثات ھیں خندہ زمین پر

پہلے مٹّی کھیت کی بیچی گئی
پہلے مٹّی کھیت کی بیچی گئی تھی اب فگار
بھوک کی کلہاڑیوں سے پیڈ کٹتا دیکھنا

دیکھئے کس سمت جاتا ھے کنارہ چھوڑ کر
اب کے دریا بہ رھا ھے اپنا دھارا چھوڑ کر

دھیرے دھیرے ان ذہنوں میں
کتنے جنگل اُگ آتے ھیں

سلیم فگار اپنے انفراد کی جستجو میں نئی زمینیں بھی تلاش کرتے ھیں، شعروں کے نئے پیکر بھی تراشتے ھیں، نئی ترکیبی(جامہ _ آغاز ، اسم _ ابد راز)بھی وضع کرتے ہیں اور نئے جہانوں کی بھی سیر کرتے ھیں۔وہ بے شبہ نئی شبیہیں بنانے کیلئے لہو کی آنچ میں لفظوں کو پگھلا کر کسی خیال کو شعر میں ڈھا لتے ھیں۔اُن کی کثیر جہتی اور رنگا رنگی کی ایک معمولی جھلک دکھانے کیلئے انکے کچھ متفرق اشعار بھی نقل ہونے چاہئیں

اب آسمان سارا مری دسترس میں ھے
انگلی اٹھا، کسی بھی ستارے کے بات کر

متعلقہ خبریں

تازہ ترین