Wednesday, May 29, 2024
homeتجزیہمدارس اسلامیہ کے خلاف بی جی پی حکومت کی کاررواییاں-۔آرٹیکل 30 کی...

مدارس اسلامیہ کے خلاف بی جی پی حکومت کی کاررواییاں-۔آرٹیکل 30 کی روح پامالی

نور اللہ جاوید

یوپی میں مدرسوں کا سروے۔آرٹیکل 30 کی روح پامال۔ مسلمانوں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت
’’اقلیتوں کا تحفظ ‘‘ مہذب معاشرے کی سب سے بڑی پہچان ہوتا ہے، لارڈ ایکٹن کا یہ مشہور قول ہے’اگر کسی ملک میں اقلیتوں میں احساس تحفظ نہیں ہے تو اس ملک کو آزاد اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا‘ چنانچہ ملک کے پہلے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے جنہیں موجودہ حکمراں جماعت گاندھی اور نہرو سے بڑا لیڈر باور کرتی ہے، آئین ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ اور ان میں سلامتی کے احساسات کو پیدا کرنا ہمارا مشن ہے‘‘ چنانچہ ہندوستان کے دستور میں اقلیتوں میں سلامتی کے احساسات کو مستحکم اور خصوصی تحفظات کی ضمانت دیتے ہوئے آرٹیکل 30شامل کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کیسوا نندا بھارتی کیس (1973) کے فیصلے میں اقلیتوں کے تحفظ کو ہندوستان کے آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا تاہم آئینی ضمانت اور یقین دہانی کے باوجود حالیہ برسوں میں مرکز اور بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستی حکومتوں نے مسلم دشمنی اور اکثریت نوازی کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ آئین کے مستقبل اور اس کی بقا کے آگے سوال ہیں کہ آیا ملک کے موجودہ حالات میں ہندوستان کا دستور اپنی بنیادی روح کے ساتھ باقی رہ پائے گا یا نہیں؟ حالیہ برسوں میں مختلف سطحوں پر اقلیتوں کے بنیادی حقوق پر مسلسل حملے، دہشت گردی کے الزامات کی بنیاد پر آسام میں مدرسوں کی انہدامی کارروائی اور یو پی میں بچوں کے تحفظ و سیکیورٹی ایکٹ کے حوالے سے غیر سرکاری مدرسوں کے سروے کے فیصلے نے اقلیتوں کی سیکیورٹی ومذہبی آزادی، دستور کے مستقبل، جمہوریت کے تحفظ اور ہندوستانی معاشرہ میں رواداری کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دستور کے بنیادی ڈھانچے کی پامالی پر ملک کی سول سوسائٹی کی خاموشی سب سے زیادہ افسوسناک ہے۔ سیکولر جماعتوں کی خاموشی نے فکر و تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے کہ کیا سیاسی جماعتوں نے ووٹ بینک کی فکر میں آئین اور ملک کے اقدار سے منہ موڑ لیا اور ان کا مطمح نظر صرف اور صرف اقتدار کا حصول رہ گیا ہے؟ اس لیے وہ اکثریتی طبقے کی ناراضگی کے خوف سے اقلیتوں کے تحفظ اور سیکورٹی کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ دستور کی حفاطت کون کرے گا؟

آسام میں مدارس اسلامیہ حکومت کے نشانے پر کیوں ہے؟
’’بلڈوزر ماڈل ‘‘ہندوستان کی جمہوریت کے لیے بدنما داغ بنتا جا رہا ہے۔ بلڈوزر کمپنی کا معائنہ کرنے پر برطانیہ کے سابق وزیر اعظم بورس جانسن کو سخت تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی شہر میں یوم آزادی کے موقع پر پریڈ میں بلڈوزر کی نمائش نے امریکی معاشرہ کو شرمندہ کر دیا اور شہری انتظامیہ کو مسلمانوں سے معافی مانگنی پڑی۔ بلڈوزر عالمی سطح پر ظلم وزیادتی، اقلیت مخالف کارروائیوں کا استعارہ بن گیا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عظمت رفتہ کی اساطیری داستانوں کے اسیر ہندوتوا طبقے کو دنیا بھر میں ہندوستان کی ہونے والی بدنامیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ چنانچہ اقلیتوں، پسماندہ و محروم طبقات اور حکومت مخالف گروپوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے یوگی کا طریقہ کار برانڈ بنتا جا رہا ہے۔ ’’یوگی برانڈ‘‘ کی پیروی میں بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے بے چین ہیں۔ کرناٹک کے وزیرا علیٰ کی یوگی برانڈ کو نافذ کرنے کی دھمکی اس کا بین ثبوت ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسواسرما مسلم دشمنی میں ہندتوا کے تمام برانڈ لیڈروں کو پیچھے چھوڑنے کے لیے بے قرار ہیں، چنانچہ وہ مئی 2021 میں وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد سے ہی مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کر رہے ہیں۔ آسام میں حکومت کے امداد سے چلنے والے مدارس کے کردار کو تبدیل کرنے کے بعد انہوں نے مقامی اور غیر مقامی کے نام پر مسلمانوں کو منقسم کیا ہے۔ مساجد کے اماموں کے رجسٹریشن اور اب دہشت گردی کے الزامات کی بنیاد پر مدرسوں کے انہدام کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے وہ ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ایک فرد کی غلطیوں کی سزا کیا پورے ادارے کو دی جا سکتی ہے؟ ماضی میں وزارت داخلہ اور ملک کی اہم حساس ایجنسیوں کے افسران جاسوسی کے الزامات میں پکڑے گئے ہیں تو کیا اس بنیاد پر پورے ادارے کو تحلیل کر دیا جائے گا؟ یونیورسٹی اور کالجوں کے اساتذہ اور طلبا بھی ماضی میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، ان کے خلاف مقدمات بھی چلائے گئے اور سزائیں بھی ہوئیں تو کیا اس بنیاد پر اس تعلیمی ادارے پر بلڈوزر چلا دیا گیا ہے۔ کرپشن، بدعنوانی اور قومی خزانے کو لوٹنے کے بے شمار واقعات ہوئے ہیں مگر کسی بھی ایک واقعے میں اس طریقے سے جابرانہ اور ظالمانہ کارروائی نہیں کی گئی تو پھر اگر کسی بھی مدرسے کا کوئی استاذ کسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کی سزا پورے ادارے کو تباہ و برباد کرکے کیوں دی جارہی ہے؟ یہ وہی ہیمنت بسوا سرما ہیں جو 2014 سے قبل تک کانگریسی لیڈر کے طور پر مدارس کو روحانیت کا مرکز قرار دیتے تھے مگر آج وہ قسم کھا رہے ہیں کہ مدارس کا وجود ختم کر کے رہیں گے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ اپنی نفرت انگیز مہم کے ذریعہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ دراصل انہوں نے 2021 میں بہت ہی بلندبانگ دعوؤں کے ساتھ وزارت اعلیٰ کی کمان سنبھالی تھی مگر ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اپنے کاموں کے بنیاد پر عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں ناکام رہے۔ اس سال آسام بھیانک ترین سیلاب کی زد میں آیا مگر بسواسرما سیلاب سے متاثرہ علاقے میں موثر انداز میں راحت رسانی مہم پر توجہ دینے کے بجائے مہاراشٹر کی ٹھاکرے حکومت کو گرانے کی سازش میں مصروف رہے۔ جب آسام میں ناراضگی پھیلی تو انہوں نے’’سیلاب جہاد‘‘ کا شگوفہ چھوڑ کر عوامی توجہ کو بھٹکانے کی کوشش کی۔ ایک ایماندار اور حقیقت پسند آفیسر نے اس پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر امن وامان بحال کرنے کا اپنا فرض ادا کیا۔ اب انہوں دہشت گردی کی آڑ لے کر مدارس کے خلاف جن کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔ اس سے ان کے مقاصد پورے ہوں یا نہ ہوں مگر مذہب کی بنیادوں پر معاشرے کی تقسیم مزید گہری ہو جائے گی۔
ہیمنت بسوا سرما اور ان کی حکومت کس طرح سے جھوٹ پھیلا رہے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قومی میڈیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان مدارس کا انہدام دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے مگر انتظامی سطح پر ان تینوں مدرسوں کو منہدم کرنے کے لیے جو نوٹسیں جاری کی گئیں وہ حکومت کے دعوے اور قومی میڈیا کی خبروں سے برعکس ہیں۔ اگست کے آخری عشرے میں تین مدرسوں کو منہدم کرنے کے لیے جاری ہونے والے نوٹسوں میں کوئی اور وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے کسی بھی مدرسے کو دہشت گردی کی بنیاد پر منہدم نہیں کیا گیا ہے۔ یہ الگ سوال ہے کہ جن وجوہات کی بنیاد پر ان مدرسوں کو منہدم کیا گیا ہے وہ درست ہیں یا نہیں مگر یہ سوال لازمی ہے کہ آخر دہشت گردی کی افواہ پھیلا کر ان مدرسوں کے خلاف کارروائی سے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ دراصل یہ طریقہ کار بھی یوگی برانڈ کا حصہ ہے۔ اسی سال جون میں الہ آباد میں توہین رسالت کے خلاف پرتشدد احتجاج کی سازش کرنے کے الزام میں جے این یو کی سابق طالبہ آفرین فاطمہ کے والد محمد جاوید کی گرفتاری سے محض ایک دن بعد ان کے گھر کو منہدم کردیا گیا۔ بادی النظر میں ایسا لگ رہا تھا کہ یہ کارروائی احتجاج میں شامل ہونے کی وجہ سے کی جا رہی ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ چونکہ مکان کی تعمیر غیر قانونی طریقے سے ہوئی تھی اس لیے یہ کارروائی ہوئی ہے۔ مگر غیر قانونی تعمیرات اور غیر قانونوی متجاوزات کے خلاف کارروائی کے بھی اپنے اصول ہیں، ملزم کو اپنی صفائی میں بات رکھنے اور دلیل پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا لازمی ہے مگر یہ قانون و ضابطے اس معاشرے کے لیے ہوتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ یہاں نہ اب کوئی قانون ہے اور نہ قانون کی بالا دستی۔

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
آل آسام تنظیم مدارس قومیہ کے سکریٹری عبدالقادر نے ہفت روزہ دعوت کو بتایا کہ تینوں مدرسوں کو منہدم کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ کی جانب سے جو نوٹسیں جاری کی گئیں وہ میڈیائی پروپیگنڈے اور حکومت کے تاثرات سے بالکل الگ تھیں۔ ویرا باڑی مدرسہ کو غیر قانونی بجلی کنکشن رکھنے کی وجہ سے منہدم کر دیا گیا۔ڈھاکالیا پاڑہ والا مدرسہ کی عمارت کو سرکاری اراضی پر ہونے کے الزام میں منہدم کر دیا گیا۔ 31 اگست کو آسام کے ضلع بونگائی گاؤں میں واقع مرکز المعارف قریانہ مدرسہ کی انتظامیہ کو محض ایک رات قبل ڈپٹی کمشنرکے دفتر نے نوٹس جای کرتے ہوئے کہا کہ مدرسہ کے احاطے میں آگ اور زلزلے سے نمٹنے کے لیے ناکافی انتظامات اور کھلی جگہ کی کمی ہے اس لیے مدرسہ کو منہدم کیا جائے گا۔ راتوں رات 200 طلبا کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ۔اس کے بعد بلڈوزر سے مدرسہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا۔ ٹی وی چینلوں پر انہدامی کارروائی کے مناظر حکومت کے دعوے کو جھوٹے ثابت کرتے ہیں کہ عمارت کافی مضبوط ہے۔تاہم یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ کیا آسام میں صرف یہی تین مدارس غیر قانونی طریقے سے تعمیر ہوئے تھے؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔مدارس کے وجود کو ختم کرنے کے اپنے امنگوں و خواہشات کی تکمیل کے لیے ہیمنت بسوا سرما قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ یہ کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ اس ملک میں نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی قانون کی بالا دستی۔ حکمراں جماعت کے لیڈروں کے منہ سے نکلنے والے الفاظ ہی قانون ہیں اور وہی جج بھی ہیں۔ اے آئی یو ڈی ایف کے صدر مولانا بدرالدین اجمل جنہوں نے دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف آسام حکومت کی کارروائیوں کی تائید کی تھی مگر جب ان کارروائیوں کا سلسلہ دراز ہوا تو انہوں نے عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ وہ عدالت کب جاتے ہیں اور عدالت اس معاملے کو کس قدر حساسیت سے لیتی ہے۔

گزشتہ سال یکم اپریل کو آسام میں 610 سرکاری مدارس کو اپر پرائمری، ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں تبدیل کردیا گیا۔ گوہائی ہائی کورٹ نے حکومت کے فیصلے کی تائید کی ہے۔ یہ پورا معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں ہے۔ آل آسام تنظیم مدارس قومیہ کے تحت 1000 غیر سرکاری مدارس چلتے ہیں اس کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے وفاق المدارس کے تحت سیکڑوں آزاد مدرسے چلتے ہیں ۔
گوہاٹی میں آسامی اخبار میں کئی سالوں سے صحافی کی حیثیت سے کام کرنے والے محمد شکیل نے ہفت روزہ دعوت کو بتایا کہ دراصل ہیمنت بسوا سرما اپنے ان قدامات کے ذریعہ مسلمانوں کے صبرو ضبط کا پیمانہ ناپنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مسلسل ایسے اقدامات کر رہے ہیں جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور وہ رد عمل میں کوئی ایسا کام کر جائیں جس کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو ‘سبق’ سکھایا جا سکے۔ مگر وہ بھول رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں کے صبر و ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو اس کا نتیجہ لا اینڈ آرڈر کی خرابی کی صورت میں ہمارے سامنے آئے گا۔محمد شکیل نے بتایا کہ ہیمنت بسوا سرما کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ریاست میں انکاؤنٹر کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ خود کو بہترین ایڈمنسٹریشن ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر انہوں نے ثابت کر دیاہے کہ وہ اصل میں جوڑ توڑ کے ماہر ہیں ایڈمنسٹریٹر نہیں۔ گزشتہ 6 سالوں سے آسام میں بی جے کی حکومت ہے۔ اس کے باجود آسام میں دہشت گرد اگر سرگرم ہیں تو یہ ان جیسے لیڈروں کی ناکامی ہے۔
گوہاٹی ہائی کورٹ کے سینئر وکیل اور آل انڈیا مسلم مشاورت آسام کے جنرل سکریٹری حافظ عبد الرشید کہتے ہیں کہ آسام کے مسلم وکلا اور مسلم تنظیمیں اس پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جلد ہی ہم کوئی فیصلے کرنے کی پوزیشن میں پہنچ جائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گرفتاری سے لے کر انہدامی کارروائی تک غیر قانونی طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے۔طاقت کا اندھا دھند استعمال ہو رہا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو آسامی معاشرے میں مجرم بنانا اور انہیں شناخت سے محروم کرنا ہے۔

یو پی میں مدرسوں کا سروے اور آرٹیکل 30
آسام میں مدارس کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ یو پی کی حکومت نے ریاست بھر کے غیر سرکاری مدارس کا چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت سروے کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سروے اکتوبر کے اختتام تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سروے کرانے کے پیچھے یو پی حکومت کی منشا کیا ہے اس سے متعلق کوئی واضح بیانات سامنے نہیں آئے ہیں، بعض وزرا کے بیانات اس معاملے میں متضاد ہیں۔ یوگی حکومت میں واحد مسلم وزیر دانش انصاری جو وزارت اقلیتی امور کے وزیر مملکت ہیں کہتے ہیں کہ مدرسہ کے ہاسٹل میں طلبا کے بنیادی سہولتوں کی دستیابی سے متعلق سروے قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال کے تحت کرایا جائے گا۔ دوسری طرف اقلیتی امور کے سینئر وزیر دھرم پال سنگھ کہتے ہیں کہ اس سروے کا مقصد نصاب اور مدارس کے بنیادی ڈھانچے کا جائزہ، غیر ملکی تنظیموں کے ساتھ وابستگی اورآمدنی کے ذرائع معلوم کرنا ہے۔ اس قسم کے بیانات سے حکومت کی منشا، نیت اور مقصد کچھ بھی واضح نہیں ہے۔
ہوگی حکومت مسلم مخالف برانڈ کے طور پر خود کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور یوگی برانڈ کو ملک بھر میں دہرانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ہندوستانی مدارس کے تاریخی کردار اور مسلم معاشرے میں اصلاح اور تعلیم کے فروغ میں مدارس کی خدمات سے دنیا واقف ہے، اس کے ساتھ ہی دائیں بازو کی جماعتیں اس حقیقت کو بھی جانتی ہیں کہ مسلم شناخت کے تحفظ میں مدارس اور مساجد کا اہم کردار رہا ہے۔ ان دونوں مضبوط اداروں کی موجودگی میں نہ مسلمانوں کو شناخت سے محروم کیا جا سکتا ہے اور نہ مسلم معاشرے کو ہندو معاشرے میں ضم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ آر ایس ایس کے لیڈر وقتاً فوقتاً اپنی اس خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ ہندوستان میں رہنے کے لیے مسلمانوں کو ہندوؤں کی تہذیب و تمدن میں ضم ہونا ہو گا چنانچہ ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی مدراس اور اس کے نصاب کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ 1999 میں اقتدار میں آنے کے بعد سابق وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی سرحدی اضلاع میں واقع مدارس کی نگرانی کی ہدایت دے چکے تھے۔
ہندوستان کے آئین کا آرٹیکل 30اقلیتوں کو تعلیمی اداروں کے قیام اور ان کا انتظام کرنے کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 30(1) میں کہا گیا ہے کہ تمام اقلیتوں کو چاہے وہ مذہب یا زبان کی بنیاد پر ہوں، اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہے۔ آرٹیکل 30(1A) اقلیتی گروپوں کے ذریعہ قائم کردہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی جائیداد کے حصول کے لیے رقم کے تعین سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 30(2) میںکہا گیا ہے کہ حکومت امداد دیتے وقت کسی بھی تعلیمی ادارے کے ساتھ اس بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کر سکتی کہ وہ اقلیت کے زیر انتظام ہے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب اور زبان سے تعلق رکھتے ہوں۔
اس آئین کی تشریح کرتے ہوئے مشہور قانون داں پروفیسر فیضان مصطفی نے انگریزی اخبار ’’دی ہندو‘‘ میں اپنے ایک مضمونAn SC verdict violative of minority rightsمیں لکھا ہے کہ ’آئین کے وضع کرنے والوں نے اپنی حکمت میں آرٹیکل 30 کے تحت کوئی پابندی شامل نہیں کی ہے (جب کہ دیگر بنیادی حقوق پر مبنی آرٹیکل شرطیں لگائی گئی ہیں) تاہم اقلیتی ادارے صحت، سینیٹری اور میونسپل کے ضوابط کے تابع ہیں۔ پروفیسر فیضان مصطفی نے ریورنڈ سدھارج بھائی کیس میں سپریم کورٹ کے 6 رکنی بنچ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا ہے۔ کیرالا ایجوکیشن بل کیس 1957 میں سپریم کورٹ کی 7 رکنی بنچ نے جس کی سربراہی چیف جسٹس ایس آر داس کر رہے تھے، کہا تھا کہ ’’دفعہ 30 میں غالب لفظ کا انتخاب کیا گیا ہے اس لیے اقلیتی تعلیمی اداروں پر نہ حکومت کا نصاب نافذ ہو سکتا ہے اور نہ اساتذہ کی اہلیت سے متعلق کوئی ضابطہ طے کیا جا سکتا ہے۔
چونکہ آرٹیکل 30 دستور کا بنیادی حصہ ہے اور اس کو آسانی سے کمزور نہیں کیا جا سکتا اس لیے یو پی کی حکومت نے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت سروے کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ صحت، میونسپلٹی کے معاملات میں حکومت کے متعینہ اصول و ضوابط کی پابندی کرنی لازمی ہے۔

مدارس اسلامیہ کے لیے لمحہ فکریہ!
آئینی ضمانت کے باوجود مدارس کے نظام میں دخل اندازی کرنے کے لیے حکومت کے پاس متعدد بہانے اور دلیلیں ہیں اس لیے صرف آرٹیکل 30 کی بنیاد پر موجودہ حالات سے آنکھیں نہیں موندی جا سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے نئے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ملت اسلامیہ بالخصوص ملک کی مقتدر تنظیموں اور اداروں مثلا دارالعلوم دیوبند، ندوۃ علما لکھنو، جامعۃ فلاح، جامعۃ الاصلاح، مظاہر العلوم سہارن پور، جامعہ مبارک پور اشرفیہ، جماعت اسلامی ہند، جمعیۃ علما، جمعیۃ اہل حدیث، ملی کونسل، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور مسلم پرسنل لا بورڈ جیسی تنظیموں کو مشترکہ طور پر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔
آرٹیکل 30 کی موجودگی میں شاید نصاب تعلیم اور طریقے تعلیم کے حوالے سے مداخلت کی کوشش نہ کی جائے مگر طلبا کی اقامت، مالی لین دین، حکومتی ضوابط کے مطابق تعمیرات کی بنیاد پر مداخلت کرنے کی راہیں کھلی ہیں۔ چند سال قبل یوگی حکومت نے تعمیری کاموں کے حوالے سے ہی دارالعلوم دیوبند پر جرمانہ عائد کیا تھا اور آسام میں جن تین مدرسوں کے خلاف انہدامی کارروائی ہوئی ہے وہ سب انہی بہانوں سے ہوئی ہیں۔ آسام سے تعلق سے رکھنے والے انگریزی صحافی وعالم دین مولانا برہان الدین قاسمی نے آسام اور اتر پردیش کے حالات کے حوالے سے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داروں کو انتظامی امور سے متعلق چند بنیادی مشورے دیے ہیں۔
مدرسہ یا مکتب کو بہر صورت کسی رجسٹرڈ ٹرسٹ یا سوسائٹی کے تحت لایا جائے۔ چھوٹے مدارس جن میں طلبہ کی تعداد 20 سے کم اور اساتذہ تین سے کم ہوں ان کو قریبی ادارے کے ساتھ ضم کر دیا جائے یا ان اداروں کو مکتب کی تعلیم باقی رکھتے ہوئے پرائیویٹ اسلامی اسکول میں تبدیل کر دیا جائے۔
ہر ادارہ وتنظیم کا اپنا ایک کرنٹ بینک اکاؤنٹ ہو اور آمدنی واخراجات میں زیادہ سے زیادہ بینک کا استعمال کریں۔
بہر صورت سالانہ آئی ٹی آر فائل کریں۔
مدارس اور مکاتب کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ مقامی افسروں سے پرائیوٹ اور مائناریٹی اسکول کے طور پر تعلیمی نظام جاری رکھنے کی اجازت حاصل کریں۔
گر مدرسہ اقامتی ہے اور اس میں مطبخ وغیرہ ہے تو پہلے سے ضابطہ معلوم کر کے اس کے لیے بھی الگ سے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لیں۔
دارالاقامہ میں قانونی طور پر صحیح اور بچوں کے لیے صحت مند نیز صاف ستھرا ماحول بنائیں۔
بچوں کے والدین یا سرپرستوں سے ان کی تعلیم اور مدرسہ میں قیام کے تعلق سے داخلہ فارم میں ہی الگ خانہ کے ذریعہ اجازت لی جائے۔
ہر مدرسہ یا مکتب اردو کے علاوہ مقامی زبانوں میں بھی داخلہ فارم کا استعمال کرے، نیز ہر سال نئے فارم کے ساتھ داخلے کی تجدید کریں۔ تمام طلبہ کے آدھار کارڈ یا ووٹر آئی ڈی کارڈ کی فوٹو کاپیاں داخلہ فارم کے ساتھ منسلک رکھیں۔ مدارس کے ابنائے قدیم کی لسٹ اور ان کے متعلق ممکنہ معلومات بھی تیار رکھیں۔
اساتذہ اور ملازمین کو باقاعدہ ان سے درخواست لے کر ان کے مقامی پولیس کلیرینس سرٹیفکیٹ کے ساتھ ادارہ میں ملازمت دیں۔
ادارے کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ وقتا فوقتا ضلعی تعلیمی افسروں کے رابطے میں رہیں اور بچوں کی تعلیم وتربیت کا نظام ملک کے تعلیمی قانون RTE-2009 کے مطابق رکھیں۔ نیز ادارے کے پروگراموں میں پولیس انتظامیہ، علاقائی غیر مسلم سیاسی اور سماجی افراد کو گاہے بگاہے بلاتے رہیں۔ اسی طرح مقامی عوام اور مدارس کے ساتھ محبت اور عقیدت کے تعلق کو مزید فروغ دیں۔
(ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کا بقا اور لائحہ عمل)

متعلقہ خبریں

تازہ ترین