ممتا بنرجی کو آر ایس ایس سے گریز کیوں نہیں ہے؟

0
55

نور اللہ جاوید

ممتا بنرجی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران آر ایس ایس کی تعریف میں جو کچھ کہا وہ کوئی غیر متوقع نہیں تھا۔اگر حافظہ میں محفوظ ہے تواس سے قبل بھی انتخابی جلسے میں وہ اسی طرح کا بیان دے چکی ہیں ، اگرچہ انتخابی ہماہمی میں ممتا بنرجی کے اس بیان پر اپوزیشن جماعتوں نے اس طرح سے رد عمل نہیں دیا جو اس وقت دیا ہے۔ ریاستی سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’آر ایس ایس اتنی بری نہیں ہے،اس میں ابھی بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو بی جے پی کو ناپسند کرتے ہیں ‘‘۔ممتا بنرجی کے اس بیان پر سیاسی تبصرے تیز ہوگئے ہیں ۔ایک طرف کانگریس اور سی پی آئی ایم جیسی سیاسی جماعتوں نے ممتا بنرجی کے اس بیان کو آر ایس ایس سے ہم آہنگی اور حمایت حاصل کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا ہے ۔جب کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے رد عمل میں کہا ہے کہ ہمیں ممتا بنرجی کی تعریف کی ضرورت نہیں ہے۔

ممتا بنرجی کے خلاف سب سے تیزوتند تنقید آل انڈیا مسلم مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے کی ہے۔انہوں نے ممتا بنرجی کے بیان کی ویڈیوکلپ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ’’2003 میں بھی ممتا نے آر ایس ایس کو’’محب وطن‘‘ قرار دیا تھا۔ آر ایس ایس نے ممتا بنرجی کو دُرگاکے سرٹیفکٹ سے نوازا تھا‘‘۔ آر ایس ایس ہندو راشٹر چاہتی ہے۔ اس کی تاریخ مسلم مخالف نفرت انگیز جرائم سے بھری پڑی ہے۔گجرات قتل عام کے بعد ممتا بنرجی نے بی جے پی حکومت کا دفاع کیا تھا۔مجھے امید ہے کہ ترنمول کانگریس کے مسلم چہرے ممتا بنرجی کی ایمانداری اور مستقل مزاجی کی تعریف کریں گے‘‘۔

گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بنگال میں کوئی خاص اثر قائم کرنے میں ناکام رہنے والے اسدالدین کے لیے ممتا بنرجی کی تنقید کرنے کا اس سے بڑھ کر کوئی بہتر ین موقع نہیں ہوسکتا تھا اور انہوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔کانگریس اور سی پی آئی ایم مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ممتا بنرجی کے عروج میں آر ایس ایس کا ہاتھ ہے ۔2011اور 2016کے اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی کو آر ایس ایس کی حمایت حاصل تھی اور اس کی بدولت ہی وہ اقتدار میں پہنچی ہیں ۔کانگریس کے ریاستی صدر ادھیررنجن چودھری نے کہا کہ 2003میں ممتا بنرجی نے آر ایس ایس سے کھلے عام تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگال میں بائیں محاذ کو شکست دینے کےلیے ان کی مدد کریں ۔کانگریسی لیڈران یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ ممتا بنرجی کو کانگریس سے علیحدہکرنے میں بھی آر ایس ایس کا ہاتھ رہا ہے اور یہ طویل مدتی منصوبے کا حصہ تھا۔

ممتا بنرجی اور آر ایس ایس کے درمیان تعلقات

ممتا بنرجی اور آر ایس ایس کے درمیان تعلقات کوئی نئی بات نہیںہے، 1999میں کانگریس سے علیحدگیکے بعد ممتا بنرجی اور بی جے پی کے درمیا ن اتحاد اور تعلقات ایک دہائی تک جاری رہے ،2002میں گجرات فسادات کے بعد بھی ممتا بنرجی نے بی جے پی سے راہیں الگ نہیں کیں،اس درمیان متعدد مرتبہ ممتا بنرجی نے آر ایس ایس کی تعریف کی اور آر ایس ایس و بی جے پی لیڈران ممتا بنرجی کی تعریف کرتے رہے ہیں۔اٹل بہاری واجپئی ان کے گھر کا دورہ کرچکے ہیں۔یہ اس دور کی بات ہے جب ان دونوں کے درمیان تعلقات تھے۔ 2004کے پارلیمانی انتخابات اور 2006کے اسمبلی انتخابات میں کراری شکست کے بعد ممتا بنرجی کو یہ ادارک ہوا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ رہ کر بنگال میں اقتدار تک نہیں پہنچ سکتی ہیں، نندی گرام اور سینگورمیں حصول اراضی کو لے کر بائیں محاذ کی غلط پالیسی کے بعد ممتا بنرجی نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کرکے 2011کے اسمبلی انتخابات میں بائیں محاذ کے 34سالہ اقتدار کا خاتمہ کیا۔2011کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو بنگال میں محض 3فیصدووت ملے تھے۔مگر محض چار سال بعد بنگال میں بی جے پی نے 18فیصد ووٹ حاصل کرکے سب کو حیران کردیا ۔گرچہ اس کو مودی لہر سے تعبیر کیا گیا مگر سیاسی تجزیہ نگار یہ مانتے ہیں کہ ممتا بنرجی کی ’’شناخت کی سیاست‘‘نےبنگال میں آر ایس ایس اور بی جے پی کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کیا۔بنگال سے تعلق رکھنے والے مشہور صحافی سن گھندھو بھٹاچاریہ نے اپنی کتاب ’’مشن بنگال :زعفرانی نقطہ نظر‘‘میں ممتا بنرجی کے دس سالہ دوراقتدار میں آر ایس ایس کی مقبولیت اور اس کی توسیع کے اس باب پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ میں نے بھی اپنی کتاب’’بنگال کے مسلمان‘‘ میں بنگال میں برہمن ازم، پولرائزیشن اور آر ایس ایس کے عروج پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔برہمن واد اور نیشنل ازم بنگال کی سیاست میں کبھی بھی غیر مانوس نہیں تھا۔ملک کی دوسری ریاستوں کے برخلاف بنگال میں کبھی بھی برہمن ازم کو چیلنج نہیں کیا گیا ہے۔ گزشتہ 70سالہ سیاست کا بنگال کے نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تویہ حقیقت ہمارے سامنے واضح ہوتی ہے کہ بنگال کی تمام سیاسی جماعتوں پر برہمن لیڈروں کی اجارہ داری رہی ہے۔

ممتا بنرجی سے قبل تک بائیں محاذ بنگال کی سیاست ’’روٹی ، کپڑا اور مکان‘‘کے نعرے کے ارد گرد گھومتی تھی ۔بنگال میں منڈل کمنڈل کی سیاست کا بھی اثر نہیں ہوا۔مگر ممتا بنرجی نے اپنے اقتدار کے شروعاتی سالوں میں ’’مسلم ووٹروں ‘‘ کو خوش کرنے کےلیے کئی ایسے اقدامات کیےجس سے اگرچہ مسلمانوں کی سماجی ، تعلیمی ترقی پر کوئی اثر نہیں پڑا مگر بنگال میں ہندتو کی سیاست کے مواقع پیدا ہوگئے۔2019کے پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی نے ریاست کی 18سیٹوں پر کامیابی حاصل کرکے یہ ثابت کردیا کہ بنگال کی زمین ان کےلیے اب بنجر نہیں ہے۔اس کے جواب میں ممتا بنرجی نے بھی ہندتو کی سیاست شروع کی اور انہوں نے سیکولر سیاست کی راہ اپنا نے بجائے بی جے پی کے نقش قدم پر چلنے کو ترجیح دی ۔چناں چہ گزشتہ چند سالوں میں سرکاری طور پر رام نومی ، ہنومان جینتی ، درگا پوجا کا اتسو، سیاحتی مقام دیگھا میں پوری کے طرز پر جگن ناتھ کی مندر کی سرکاری خرچ پر تعمیر کی جارہی ہے۔بی جے پی کے جے شری رام کے نعرے کے جواب میں برہمن کی بیٹی ہونے کا نعرہ بلند کیا گیا۔انتخابی جلسوں میں وید کے منتر پڑھے گئے۔اس کے ساتھ ساتھ ممتا بنرجی نے بنگال کی ثقافت و کلچر کا بھی نعرہ بلند کیا اور بی جے پی بنگالی ثقافت و کلچر کو صحیح طور سے سمجھنے میں ناکام رہیں چناں چہ 2021کے اسمبلی انتخاب میں ممتا بنرجی سرخرو رہی۔بنگال میں برہمن واد بھی ہے اور مذہبی بالادستی پر مبنی نیشنل ازم بھی ہے مگر فرق یہ ہے کہ بنگال کے ماحول میں نفرت انگیزی نہیں ہے۔مسلمانوں کے خلاف تعصب توہے مگر سرعام نفرت کا اظہار نہیں ہوتا ہے۔جب کہ بی جے پی کھلے عام نفرت انگیز نعرے لگارہی تھی یہ چیز بنگالی اشرافیہ کو قبول نہیں تھی ۔تاہم بی جے پی کے خوف سے مسلم ووٹ کا متحد ہوجانا بھی ممتا بنرجی کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ۔بی جے پی اور آر ایس ایس کےلیے یہ کامیابی کسی بھی درجے میں کم نہیں ہے کہ سیکولر جماعتیں کانگریس اور بائیں محاذ کا خاتمہ ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی بنگال کی سیاست سے لبرل پالیسی، اقلیت ، پسماندہ طبقات اور دلتوں کی بہتری کےلیے اقدامات کی کوشش اور سیکولرازم کے تحفظ کی کوششوں کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے ۔ اس وقت یہ مقابلہ ہے کہ کون سب سے بڑا ہندو ہے۔

چناں چہ یکم ستمبر کویونیسکو کی جانب سے درگا پوجا کو ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے پر ممتا بنرجی کی قیادت میں مذہبی جلوس نکالاگیاجس میں مسلمانوں نے بھی حیرت انگیزطور پر شرکت کی۔جب کہ کچھ مسلم چہرے والے پارٹی ورکرس اپنے گلے میں درگا کی مورتی لٹکائے ہوئے تھے۔ممتا بنرجی کی ہندتو کی یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو بظاہر رضاکارانہ طور پر اپنی مذہبی شناخت سے دستبردار ہونے پر رضامند کرلیا ہے۔

کرناٹک میں گنیش چتوتھی کو لے کر جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے مگر بنگال کی بھی اپنی کہانی ہے۔کولکاتہ کے ریڈ روڈ پر سوسال سے زاید عرصے سےعیدین کی نماز ہوتی آرہی ہے۔ایک لاکھ کے قریب افراد عیدین کی نماز میں شریک ہوتے ہیں ۔یوم جمہوریہ کے موقع پر اسی روڈ پریڈ نکالا جاتا تھا۔مسلمانوں کے علاوہ کبھی بھی کوئی دوسری مذہبی تقریب کا اہتمام نہیں کیا گیا۔مگر ممتا بنرجی نے بہت ہی آسانی سے اسی ریڈ روڈ پر درگا پوجاکا رنیوال منعقد کرکے خاموشی سے ہندو پرست ہونے کا پیغام دیدیا ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی مسلم حلقے سے مخالفت تو دور سوال بھی کھڑا نہیں کیا گیا کہ آخر ریڈروڈ کا ہی درگا پوجا کے کارنیوال کےلیے انتخاب کیوں کیا جارہا ہے؟ کولکاتہ شہر میں کئی میدان اور مشہور شاہراہیں ہیں جہاں یہ تقریب ہوسکتی تھی مگرریڈروڈ جہاں سوسال سے زاید عرصے سے عیدین کی نمازیں ہوتی رہی ہیںوہاں درگا پوجا کارنیوال کیوں کیا گیا ہے۔نام نہاد سیکولر جماعتوں کا یہ بدترین چہرا ہے جو کھلے عام ہندتو کی سیاست کرنے والوں سے کہیں زیادہ بھیانک نظرآتا ہے۔