Wednesday, May 29, 2024
homeاہم خبریںناخدا مسجد میں آخر کب نکاح کا دھندا بند ہوگا؟۔۔تمام فساد کی...

ناخدا مسجد میں آخر کب نکاح کا دھندا بند ہوگا؟۔۔تمام فساد کی جڑ نکاح کے ذریعہ روپیہ بٹوڑنے کی کوشش ٹیپوسلطان مسجد میں طرفین کے والدین اور گارجین کے بغیر نکاح پر پابندی۔۔نا خدا مسجد میں یہ اصول کب نافذ کیا جائے گا؟ روپے کی خاطر تمام اصول و ضوابط، تحقیق و جستجو کے قوانین کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔

ناہید اختر
انصاف نیو ز آن لائن :

گرچہ ناخدا مسجد کے تنازع کے کئی پہلو ہمارے سامنے آرہے ہیں اور اس تنازع کا ہر پہلو مسلمانوں کو شرمندکردینے والا ہے۔مگر ان تما م پہلوؤں میں سب سے شرمناک نکاح خوانی کا دھندا ہے۔ٹیپو سلطان مسجد میں مولانا برکتی کے امامت سے برطرفی اور طرفین کے گارجین اور والدین کے بغیر نکاح پڑھانے پر پابندی عائد ہے۔اس کی وجہ سے مسجد ناخدا مسجد میں نکاح پڑھانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ناخدا مسجد کا موجودہ تنازع بھی نکاح خوانی سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مساویانہ تقسیم کو لے کر ہی شروع ہوا۔اور اب اس حد تک شرمناک موڑ پر پہنچ گیا ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے پستی کی تمام حدوں کو پار کیا جارہا ہے۔امام اور اس کے حامیوں نے برسر عام موذن پر زنا کرنے کا الزام عائد کیا۔جب کہ ان لوگوں نے اس سلسلے میں کوئی چار شہادت پیش نہیں کی۔عبد القادر نامی گواہ کا آڈیو وائرل ہورہا ہے جو دعویٰ کررہا ہے اس کے نام پر جھوٹ بولا جارہا ہے اور اس نے اس طرح کے کوئی بھی گھناؤنا جرم کا عینی شاہد نہیں ہے۔

مسجد میں نکاح سنت ہے، زمانہ نبوت اور بعد کے ادوار میں یہاں تک آج بھی عرب ممالک امیر و غریب سب کے نکاح مسجد میں ہی ہوتے ہیں، مگر اس کے اصول وضوابط ہیں۔اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستانی معاشرہ میں نکاح کی مجلس 99فیصد شادی ہال یا پنڈال میں ہوتے۔مسجد میں نکاح پڑھانے بالخصوص ناخدا مسجد، ٹیپوسلطان اور اب مولانا برکتی کے نجی دفتر جو چاندنی چوک میں واقع ہیں ایسے جوڑے آتے ہیں جو والدین کی مرضی کے بغیر شادی کرتے ہیں۔دو بالغوں کو اپنی پسند کی شادی کرنے کا مکمل حق ہے۔اس کیلئے مذہب کے ساتھ ملک کا دستور بھی اجازت دیتا ہے۔

مگر سوال ہے کہ کیا اس کیلئے مسجد میں آنے والے ہر جوڑے کا نکاح پڑھادیا جائے۔یا اس کے بھی اصول وضوابط ہیں۔ہماری ٹیم نے ملک کے دیگر بڑے شہر ممبئی، دہلی اور بنگلور کے مساجد میں نکاح پڑھانے کے اصول و ضوابط کو معلوم کیا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ ممبئی میں مسجد میں نکاح پڑھانے کیلئے کم سے کم تین دن قبل مسجد کے متولی کو درخواست دی جاتی ہے اور اس کی منظوری ملنے کے بعد ہرفرض نماز کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ سنت کے بعد ایک نکاح ہے اور پھر نکاح کی مجلس منعقد ہوتی ہے جس میں عام نمازی بھی شریک ہوتے ہیں اور یہ طریقہ عین سنت ہے۔

مگر ناخدا مسجد میں اما م صاحبان دفتر سجا کر بیٹھے ہوتے ہیں کوئی نکاح پڑھانے کیلئے مرغا آئے۔پھر نکاح پڑھانے کی فیس کیلئے مول تول ہوتے ہیں، اگر کوئی پریمی جوڑا ہے تو اس سے من مانی فیس وصولی جاتی ہے۔اس اسٹوری کو لکھنے کیلئے میں نے ناخدا مسجد میں نکاح پڑھواچکے کئی جوڑوں کا انٹرویو لیا اور معلومات حاصل کی تو کئی معلومات ایسے حاصل ہوئے ہیں جو کافی چونکادینے والے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب مساجد اور مدارس فرقہ پرستوں کے نشانے پر ہیں ایسی لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کیسے اختیار کیا جاسکتا ہے۔

ایک پریمی جوڑے (جوڑے کی سیکورٹی کی وجہ سے نام چھپایا جارہا ہے)نے بتایا کہ اس کے والدین شادی کیلئے رضامند نہیں تھے۔اس لئے وہ نکاح پڑھانے کیلئے ناخد مسجد گئے تھے۔اس کے پاس محض دو ہزار روپے تھے مگر اما م صاحب نے نکاح پڑھانے سے انکار کردیا۔دس ہزار سے کم روپے نکاح پڑھانے پر راضی نہیں ہوئے۔پاس میں موجود مسجد کے موذن نے کہا کہ امام صاحب ا ن کے پاس روپے نہیں ہیں اس لئے دو ہزار روپے لے کر نکاح پڑھوادیں۔مگر امام صاحب غصہ ہوگئے او ر موذن صاحب سے کہا کہ آپ خاموش رہیں۔اس کے بغیر نکای نہیں ہوسکتا ہے۔اسی درمیان امام صاحب کی نظر میرے کان کے بالی پر پڑگئی اورانہوں نے کہا کہ اگر روپے نہیں ہیں تو جاؤ یہ بالی پیچ کر روپے جمع کروں۔بہت ہی بے ہودے اند از میں انہوں نے کہاکہ پیار و محبت کی قیمت چکانی ہوگی۔آخر کار مجھے بالی پیچ کر ہم نے اپنا نکاح کرایا۔۔

کئی پریمی جوڑے نے اسی طرح کے جابرانہ واقعات سنائے ہیں۔یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ اس طرح کا رویہ زیادہ تر واقعات میں ایک ہی نائب امام کا نام لیا گیا ہے۔کئی جوڑوں نے بتایا کہ ان سے کوئی بھی شناختی کارڈ یا پھر معلومات حاصل نہیں کی گئی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین