دعوت افطار کے سیاسی کرن کے چلن کے درمیان بنگال انسٹی ٹیوٹ ملٹی کلچرل اسٹڈیز نے ”غزوہ بدر کے تناظر میں مسلمانوں کے تعلیمی مسائل“ کے عنوان سے مذاکرے کا انعقاد کرکے مثال قائم کی

0
157

دعوت افطار کے سیاسی کرن کے چلن کے درمیان بنگال انسٹی ٹیوٹ ملٹی کلچرل اسٹڈیز نے ”غزوہ بدر کے تناظر میں مسلمانوں کے تعلیمی مسائل“ کے عنوان سے مذاکرے کا انعقاد کرکے مثال قائم کی

کلکتہ19اپریل (انصاف نیوز آن لائن)
سیاسی افطار پارٹیوں،تصویر کشی اورافطار جیسے مذہبی امور کے سیاسی استعمال کے چلن کے دوران بنگال انسی ٹیوٹ ملٹی کلچرل اسٹڈیز اور مولانا حسرموہانی کے زیر اہتمام افطار کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک میں اسلامی تاریخ کا سب سے اہم واقع ”غزوہ بدر‘’میں گرفتار کئے کفار مکہ کے نوجوانوں کو تعلیم فراہم کرنے کی شرط پر رہائی“ کے تناظر میں بھارت میں مسلمانوں کی تعلیم کے ایشو پر ایک مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔جس میں سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

افطار سے قبل صحافی نور اللہ جاوید نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ اسلامی تاریخ میں ”غزوہ بدر“ کے واقع کو صرف کفار اور مسلمانوں کے درمیان محاذ آرائی کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے۔اسلامی تاریخ کی اس پہلی جنگ میں حصرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر صرف کفار مکہ کو شکست دینا نہیں تھابلکہ اس محاذ آرائی کے ذریعہ دنیا کو پہلی مرتبہ جنگ کے اصول سے متعارف کرایا گیا۔جنگ میں خواتین، بچے، بوڑھے پر حملے نہیں ہوں گے۔ان لوگوں کو معاف کردیا جائے گا جو فرار چاہتے ہیں۔تعداد سے زیادہ حق پر یقین اور نصرت الہی کا بھروسہ ضروری ہے۔جنگ میں فتح ہونے کے بعدبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی وہ مثال پیش کی جس کی نظیر آج تک اس مہذب دنیا پیش نہیں کرسکی ہے۔وہ قیدی جو تاوان ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے انہیں مدینہ کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کی شرط پر رہا کردیا گیا۔نور اللہ جاوید نے عام مسلمانوں کی تعلیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان بچوں کی فکر کرنی ہوگی جن کے والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔
اس موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے مشہور سماجی و بزرگ کارکن حاجی عبدالعزیز نے اسلامی تعلیمات اور نظریہ رتعلیم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام تعلیم کے فروغ کے ساتھ جوابدہی اور احتساب کا تصور پیش کرتا ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ اسلام نے تعلیم کے ساتھ، خدمت خلق، اللہ کے نزدیک جوابدی اور خشیت کو بھی لازمی قرار دیتا ہے۔ایسی تعلیم جس میں اللہ کے سامنے جوابدہی ہو۔
خیال رہے اس دعوت افطار میں جادوپور یونیورسٹی، پریذیڈنسی یونیورسٹی، عالیہ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسرز، لیکچررز اور طلباء نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ کنگ فہد یونیورسٹی دمام میں فزکس کے پروفیسر و سائنس داں محمد غوث اعظم خان اور لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کی اسکالر لیالی محمد بھی موجود تھیں۔

سینٹ زیویئرز کالج میں ریاضی کے اسسٹنٹ پروفیسر ربیع الاسلام نے افطار کے بعد اس پروگرام کی نظامت کی۔
جادو پور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر عبدالمتین نے تعلیم کی بگڑتی ہوئی حالت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بنگال کے دیہی علاقوں میں تعلیم کی صورت حال خراب ہوئی ہے۔مگر کیا کلکتہ اور آس پاس کے علاقے کی صورت حال کیا ہے اس طرف بھی دیکھیں۔کلکتہ شہر کے مشہور اردو اسکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔جب کہ ایک زمانے میں یہ اسکول عام مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا تھا۔انہو ں نے کہا کہ ہماری کوشش جدوجہد کا سارا محور مڈل کلاس کے مسلمانوں تک رہتا ہے جب کہ ہمیں عام مسلم بچوں کی فکر کرنی چاہیے۔سرکاری اسکولوں کی بدحالی سے مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ کی مہم کو شدید جھٹکا لگا ہے۔

سماجی کارکن منظر جمیل، جو کہ ملی الامین کالج فار گرلز کے ممبر اور پسماندہ افراد کے لیے مفت تعلیم فراہم کرنے والی کے ای سی ٹی اکیڈمی کے ٹرسٹی بھی ہیں نے کہا کہ پبلک تعلیمی اداروں کے زوال سے مسلمان، پسماندہ اور دلت طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان ہی سرکاری اسکولوں کے طلبا نے ماضی میں دنیا بھر میں اپنا مقام بنایا ہے مگر آج کیوں نہیں؟ اس کی وجوہات پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔

سماجی کارکن امتیاز ملا نے کہاکہ ”ہندوستان کی آزادی کے بعد ہمیں مختلف مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔کئی مسائل کا ہمنے مقابلہ کیا ہے تاہم تعلیمی مسائل پر اب تک ہمیں کامیابی نہیں ملی ہے۔اس کیلئے ہمیں مشترکہ جدو جہد کرنی ہوگی اور ناامیدی اور مایوسی سے نکلنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اچھے کوچنگ سینٹرز کی ضرورت ہے۔ اور لڑکیوں اور لڑکوں کو اپنے دفاع کے لیے مارشل آرٹس سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپیل کی، ”پولیس یا غنڈوں سے مت ڈرو۔ جب آپ کے گھروں کے باہر کچھ ہوتا ہے تو اپنے دروازے اور کھڑکیاں بند نہ کریں۔

مولانا حسرت موہانی فاؤنڈیشن کے سربراہ اوردعوت افطار کے میزبا ن،سماجی اور تعلیمی کارکن حسین رضوی نے اسلامی تاریخ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح انصار برادری نے ہجرت کے بعد صحابہ کرام کی حمایت کی تھی۔ہمیں ہجرت کے واقعے اور انصار کے رویے سے سیکھنا چاہیے کہ وہ دوسروں کی حمایت کریں۔ اگر ہم اسے تعلیم کے میدان میں نافذ کر سکتے ہیں تو اس سے بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس کے لیے ہم میں سے ہر ایک کو ایک بچے کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور اس بچے کی تعلیم حاصل کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔“رضوی نے یہ بھی بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بنگال میں مدھیامک بورڈ کے امتحان میں چار لاکھ کم طلبا شریک ہوئے، اس جانب ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ایسے طلبہ کو پڑھائی میں واپس لانے میں مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

کوئین میری یونیورسٹی لندن سے جنوبی ایشیا کے مورخ لیلی الدین نے مختصراً بتایا کہ تاریخ کو جاننا اور سمجھنا کیوں ضروری ہے، ”ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ ہم کون ہیں۔ اس لیے میں نے تاریخ کا انتخاب کیا۔دوسرے مضامین کے ساتھ ساتھ تاریخ کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ اس سے ہماری قدیم ثقافت کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ سیاست اور بصری فنون کا مطالعہ کرنا بھی ضروری ہے، دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے واضح طور پر سمجھنا چاہے۔
کلکتہ ہائی کورٹ کے وکیل شمیم اختر جو تعلیمی اداروں کی تقرری میں بدعنوانی کے خلاف مقدمات کی پیروی کررہے ہیں اور بنگال میں اساتذہ تقرری کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ ملاقات اور اس طرح کی میٹنگ کا سلسلہ جاری رہے۔

نوجوان صحافی آفاق حیدر اس دعوت کے میزبانوں میں شامل تھے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرنے والے میں پروفیسر سیف اللہ، پروفیسر شمیم اختر قاسمی، جناب امتیاز حسین شامل تھے۔
مشہور انگریزی صحافی محمد شفیع، شبانہ اعجاز، شاہنواز اختر، نوشاد مومن، ڈاکٹر محمد وقار، مولانا اعجاز قاسمی اور دیگر افراد بڑی تعدا د میں موجود تھے۔