Thursday, May 30, 2024
homeتجزیہساحلی کرناٹک میں فرقہ واریت پھیلنے کی سیاسی تاریخ اور اس کا...

ساحلی کرناٹک میں فرقہ واریت پھیلنے کی سیاسی تاریخ اور اس کا اقتصادی پس منظر

(پارٹ-1)

محمد سجاد

جنوبی کرناٹک کا ساحلی علاقہ یعنی منگلور اور آس پاس کے اضلاع کو اب، یعنی 1990ء کی دہائی سے، “جنوبی ہند میں ہندوتو کی لیباریٹری” یعنی تجربہ گاہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور ہندو یوا سینے، جیسی بھگواء تنظیموں نے لو جہاد کی مخالفت اور گئو رکچھا کے نام پر، تشدد پھیلا کر، ان علاقوں میں، تیزی سے اپنا اثر بڑھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ: فائنل مقابلہ کے لیے آسٹریلیا نے کیا ٹیم کا اعلان، ہندوستانی ٹیم کا اعلان 28 مئی کو
کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت ہے، اور پہلے بھی رہ چکی ہے۔ اس سے قبل ان علاقوں کو امن پسندی اور جدیدیت کے لئے جانا جاتا تھا۔ بین الاقوامی تجارت، مغربی تہذیب کے اثرات، اونچی شرح خواندگی، تعلیم، بینکنگ، بہتر طبی سہولیات، اچھی کمیونیکیشن، وغیرہ، کے لئے یہ علاقہ جانا جاتا ہے۔ شمالی اور مشرقی بھارت کے مقابلے، شہری اور دیہی (زراعتی) معیشت بھی کافی بہترہے۔

اس پورے علاقے میں کم از کم پانچ زبانیں اور بولیاں بولی جاتی ہیں۔، تولو، بیئری، کونکنی، کنڑ، کوڑگا، وغیرہ۔ اس پورے علاقے میں (نسبتا) فرقہ وارانہ ماحول زیادہ نہیں تھا۔ سنہ 1968ء میں پہلی بار ایک فساد ہوا تھا، اور اس کے بعد پہلا اہم فساد ہوا تھا دسمبر 29، 1998ء میں، منگلور سے 30 کلو میٹر دور، سورتھکل کے پاس کے علاقوں میں۔ [شمالی کرناٹک کے ہبلی عیدگاہ کو لے کر اگست 1994 اور بنگلور میں اکتوبر 1994 میں بھی فساد ہوئے تھے]۔ ان فسادات پر کچھ اچھے تجزیاتی مضامین، پروفیسر مظفر اسدی (میسور یونیورسٹی)، نے شائع کیے ہیں، جن سے استفادہ نا گزیر ہے۔ ان کے علاوہ ایک خاتون صحافی گریشیما کوتھر (فرسٹ پوسٹ) نے بھی اپریل سے اگست 2019ء کے درمیان طویل رپورٹیں شائع کی ہیں۔ ان رپورٹوں سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے۔

مذکورہ فساد کے قبل، لگاتار فرقہ وارانہ تناؤ بنا ہوا تھا۔ نومبر 1998ء میں چرچ پر حملہ کیا گیا تھا (یوں بھی اس زمانے میں عیسائیوں کے خلاف تشدد بڑھا ہوا تھا، اڑیسہ میں گراہم اسٹینس کو نذر آتش کرکے بے رحمی سے مار دیا گیا تھا)، اسی دوران دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ ایک مسلم لڑکے پر ایک ہندو لڑکی کو چھیڑنے کے الزام میں کئ ہندو لڑکوں نے اسے زدو کوب کیا۔ ان کا تعلق ہندو جاگرن ویدیکے نام کی بھگوا تنظیم سے تھا۔ پولس نے ان ہندو لڑکوں کو گرفتار کر لیا۔ اس پر بھگوا تنظیموں نے کافی واویلا مچایا۔ تیسرا واقعہ یہ ہوا کہ یکچھگان مہوتسو میں کسی شر پسند نےایک بینر پھاڑ دیا تھا۔ ہبلی عیدگاہ اور بابو بودن گیری والے واقعات سے بھی بدلتے اور بگڑتے سماجی تعلقات کا پتہ چلنے لگا تھا۔ یہ علاقہ فرقہ واریت کی زد میں آ چکا تھا۔ ایسی مسموم فضا میں افواہوں کا بازار گرم تھا۔ عورتوں کی عصمت دری اور پولیس بربریت کی افواہیں لگاتار سماج میں تناؤ کا ماحول بنا رکھی تھیں۔ اس کے باوجود پولیس فساد روکنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہی تھی۔ بلکہ فسادیوں کو پولیس کی مدد ملنے کی رپورٹیں آ رہی تھیں۔

بہر کیف ان تینوں واقعوں کے بعد دسمبر میں جو فساد ہوا وہ دیہاتوں تک بھی پھیل گیا۔ جو لوگ ان تینوں واقعات میں شامل تھے ان لوگوں نے ہی دسمبر 1998ء والے فسادات میں بھی شرکت کی تھی۔ چھوٹے تاجروں اور دوکان داروں کو خاص طور سے لوٹا جا رہا تھا۔ کاروبار اور دکان داروں میں جن سے مقابلہ تھا، ان کو خاص طور سے نشانہ بنایا گیا۔ کرفیو کی نافرمانی ہندوتوا بریگیڈ کے لئے بہت آسان تھی۔

فسادیوں نے ہر حملے میں یہ ترکیب اپنائی تھی کہ اپنے گروہ کو چارٹکڑوں میں بانٹ رکھا تھا۔ ایک ٹکڑا پولیس سے الجھ جاتا اور باقی تین گروہ لوٹ اور آگ زنی کرتے تھے۔ دن کے اجالے میں اپنے چہروں کی شناخت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کارنامے انجام دے رہے تھے۔ زیادہ تر او۔ بی۔ سی۔ والے ہی تشدد میں شامل تھے۔ در اصل یہ فساد، مظہر تھا، پچھلے پچیس برسوں میں رونما ہونے والی اقتصادی، معاشی، سماجی، تہذیبی و معاشرتی تبدیلیوں کا۔ اگرچہ سنہ 1940ء کی دہائی سے ہی سنگھ پریوار کی کوششیں وہاں چل رہی تھیں۔ لیکن 1990ء کی دہائی کا آخیر آتے آتے انہیں کامیابی ملنے لگی۔ تاریخی اعتبار سے ہیڈ گیوار نے سنجیو کامتھ نام کے ایک وکیل (سارسوت برہمن) کو اس علاقے میں آر ایس ایس کی نظریاتی تبلیغ کی ذمہ داری سونپی تھی، یہ تفصیلات چندراشیکھر بھنڈاری کی کنڑ زبان میں لکھی کتاب میں درج ہیں۔

اوّل، زمین اور زراعت پر غلبہ بنت (نادوا) ہندوؤں کی اونچی ذات کا ہے۔ دوم، کونکنی اور برہمن کا غلبہ کاروبار پر، (بیئری مسلمانوں کا حصہ چھوٹی تجارتوں میں تھا) اور، سوم، کونکنی عیسائیوں کا غلبہ تعلیم اور تعلیمی اداروں پر، اس طرح ان تینوں گُروپس (آبادیوں) میں آپس میں کوئی تصادم یا مقابلہ نہیں تھا۔

سنہ 1974ء میں زرعی اصلاحات کا قانون بن گیا، لہذا زمینوں کے مالکوں کو اب اس قانون کے بعد بمبئی اور دیگرشہروں میں کاروبار کا ذریعہ اختیار کرنا پڑا۔ اس سے قبل 1969ء میں 14 بینکوں کو سرکار نے لے لیا تھا، (جن میں چار بینک اسی ساحلی علاقے کے سرمایہ داروں کے تھے)- یہ لوگ خاص طور سے اوڈوپی ہوٹلوں کی نسبتا بڑی تجارت میں شامل ہوگئے۔ یہی خوشحال مہاجرین اب اپنے اپنے گاؤوں میں وہاں کی روایتی تہذیبی و مذہبی پروگراموں (تہواروں) کے لئے فنڈ فراہم کرنے لگے۔ مثلا، ناگ منڈل، بھوت کولا، کمبلی، وغیرہ، جن میں گاؤں کی تقریباً پوری آبادی شریک ہوتی ہے (بھوت کولا یا بھوت آرادھنا میں تو بیئری مسلمانوں کی ہی سب سے زیادہ شرکت ہوتی ہے)- بھوت کے معنی ہوئے مر چکے آبا و اجداد بھوت بن جاتے ہیں جن کی پرستش کی روایت۔ علی چامنڈی بھوت، بوبباریا بھوت، ایسے دیوتا ہیں جن کی پوجا بیئری مسلمان، بللاوا (پوجاری) ہندو اور موگاویرا ہندو بھی مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ یعنی یہاں ایک سنکریٹک کلچر ہے۔ بیئری برادری کی زبان بھی مقامی بولی تولو، اور ملیالم کی ملی جلی شکل ہے، جینیوں کی مانند ان کے یہاں اب بھی گلڈ سسٹم قائم ہے، اور مقامی کلچر پڈیناراگ کا رواج بھی ان کے یہاں عام ہے۔ سماجی رتبہ کے مظاہرے کے لئے باری سسٹم، ماہرانہ روایت والی اللم سسٹم، اور ہندوؤں کی طرح گوتر سسٹم بھی ان کے یہاں جاری ہے۔ (پدننا نام کے folk گانوں میں یہ واضح ہے کہ بیئری یہاں کی قدیم آبادی ہے)۔ جبکہ زراعت سے منسلک نچلی ذاتوں کی کھیت مزدور والی آبادی اب زیادہ آزاد ہوگئی۔ (Guttenar سسٹم کا زوال ہوگیا)- اس آبادی کا ایک حصہ بھی اب آس پاس کے شہروں میں مزدوری اور چھوٹی تجارت میں داخل ہونے لگی۔

اسی دہائی میں اور اس کے بعد سے عرب ممالک کی ملازمت سے بیئری مسلمانوں میں خوش حالی آئی۔ جسے Gulf Boom کہتے ہیں۔ دوسری جانب نئی صنعتوں، اور بینکنگ کی بھی توسیع ہوئی۔ اس کے تحت، اب بیئری مسلمانوں کا بھی ایک دولت مند حصہ اب چھوٹی کے ساتھ ساتھ بڑی تجارتوں میں بھی داخل ہونے لگا۔ مقامی زبان کے بیئری لفظ کے معنی بھی تاجر کے ہی ہیں۔ سنہ1997ء کے ایک سروے کے مطابق، بیئری مسلمانوں کا دس فی صد عرب ممالک میں ملازم تھا، اور تیس فی صد ایسے تھے جو کم از کم دس سال عرب میں ملازمت کر کے واپس آ گئے تھے، اور مقامی تجارتوں میں داخل ہونے لگے تھے۔ اور اس طرح اب اقتصادی تصادم اور مقابلہ کا ماحول بننا شروع ہوگیا۔ یہ مقابلہ اونچی ذات کے بنت ہندوؤں کے علاوہ، بللاوا (پوجاری)، موگاویرا (مچھوارے)، جنہیں کاروی بھی کہا جاتا ہے، وغیرہ، سے بھی ہونے لگا۔

جنوبی کرناٹک میں بیئری مسلمانوں کی تعداد 15 فی صد ہے۔ ان کی 90 فی صد آبادی منگلور (بہ شمول بنت وال، پتور، بیلتھانگادی) ہی میں ہے۔ اس کے علاوہ اوڈوپی، کار کالا، اور کونڈاپور (نزد کیرل) میں بھی ہے۔ سنہ 1996ء میں بھی تقریباً 51 گرام پنچایتوں میں بیئری مسلمانوں کی تعداد خاصی اور بلدیاتی انتخابات میں فیصلہ کن طور پر بڑی تھی۔ نئی صنعت کاری کے طور پر شہروں اور نیم شہری علاقوں سے بیئری آبادیوں کو جبرا بے دخل کیا جانے لگا۔ بیئری آبادی، ماحولیاتی انصاف کی لڑائ لڑنے والوں کے ساتھ اس صنعت کاری کی مزاحمت اور مخالفت والی تحریکوں کے عام حصہ بن گئے۔ غریب بیئری قلی، بیڑی مزدور، ڈرائیور، ٹکسٹائل مزدور، اور سبزی، غلہ، بیچنے والی چھوٹی تجارت میں تھے، جبکہ خوش حال بیئری اب ہوٹل، گرم مصالحے، کاجو، پان سوپاری، لکڑی، وغیرہ، کی تجارت میں۔ عرب ممالک کی ملازمت نے بیئری مسلمانوں کی بڑی آبادی کو ہندوؤں کی او بی سی آبادی کے مقابلے کافی خوشحال بنا دیا تھا۔ ان خوش حالیوں کا مظاہرہ ان کی مساجد کی عمارتوں کی خوب صورتی و عظمت، مدارس کی عمارتوں، اور یوتھ کلب (یووک منڈل) کی سر گرمیوں سے بھی ہوا کرتا تھا۔ ہندو مچھواروں کی برادری، موگا ویرا، سے بیئری مسلمانوں کا اقتصادی مقابلہ اور تصادم اب بالکل نمایاں ہونے لگا۔ (در اصل 1968ء والے فساد کی بھی فوری وجہ یہ تھی کہ گوشت کی تجارت کرنے والا ایک مسلمان قادر، کا مبینہ طور پر رشتہ تھا ایک موگاویرا عورت سے۔ اس پر 1979ء میں ایک کنڑ فلم بھی بنی تھی، کاراوللی۔)

ایسے ماحول میں دہائیوں سے کوشاں سنگھ پریوار کے کارکن اب مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی سیاست کو فروغ دینے میں، اور انہیں بنیادوں پر ہندو اتحاد قائم کرنے میں، کامیاب ہونے لگے۔ رام جنم بھومی تحریک، بابری مسجد کا انہدام، اور اوڈوپی کے میٹھوں، بالخصوص، پیجا وور مٹھ نے رام جنم بھومی تحریک کے معرفت ہندوتوا کا لہر پیدا کر دیا۔ اوڈوپی کرشنا مٹھ یعنی پیجاور مٹھ کے سادھو، تیرتھ، اب ان کی عمر تقریباً 90 سال ہے، نے ساحلی کرناٹک میں رام جنم بھومی کی تحریک کو توانائی بخشی۔ گولوالکر کے زمانے سے ہی اس مٹھ کا تعلق آر ایس ایس سے گہرا تھا۔ سنہ 1940ء اور 1950ء کی دہائیوں میں تیرتھ ہی دلت بستیوں میں جایا کرتے تھے، اور عیسائی مبلغین کے خلاف دلتوں کے درمیان کچھ اپنی تبلیغ کا کام کرتے تھے۔ اس کا خوب اثر پڑا نچلی ذاتوں کی آبادیوں پر۔ حالانکہ اب بھی دلت اور دیگر غیر برہمنوں کو اس مٹھ کے مندر کے گربھ گریہہ اور جائے طعام تک جانے کی اجازت نہیں ہے۔ سنہ 1981ء میں میناکچھی پورم میں ایک ہزار دلتوں نے اسلام قبول کر لیا تھا تو سوامی تیرتھ نے ہی اس کے خلاف مہم چھیڑی تھی۔

ٹی وی سیریل رامائن کے بعد جب اس جنوبی علاقے میں بھی “نئے بھگوان”، رام، کے تئیں بھکتی پیدا کر دی گئ، اور ایودھیا میں رام مندر بنانے کی مہم، سنگھ نے شروع کردی، تب وشو ہندو پریشد نے گھر گھر جا کر اینٹیں مانگ کر جنوبی کرناٹک میں فرقہ واریت کی جڑیں مضبوط کرنا شروع کر دیا۔ (اب تو یہ حالت ہے کہ دلت سنگھرش سمیتی کے لیڈر اپنے دلتوں کو بھی ہندو سماج اتسو میں شریک ہونے سے روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں)۔

اوڈوپی میں آٹھ مٹھ ہیں جس کا تعلق دوویئیت ویدک فکر سے ہے۔ آر ایس ایس سے ہمدردی رکھنے والی کمیونیٹی نیٹورک بھی ہے۔ جن میں، کونکنی بولنے والے گوڑ سارسوت برہمن، چترپور سارسوت برہمن، تولو بولنے والے شیوالی برہمن، اور کنڑ بولنے والے ہویک برہمنوں نے ہندو مہاسبھا، اور اس سے بھی قبل برہمو سماج اور آریہ سماج کی تنظیمیں قائم کر رکھی تھیں۔ حالانکہ ساحلی کرناٹک کے بجائے بیلگاؤم میں اکتوبر 1935ء میں ہیڈ گیوار نے آر ایس ایس کی پہلی یونٹ قائم کی تھی۔ منگلور میں سنجیو کامت کی پہل پر، انناسیش کی مدد سے، کرکلا سداشیو راؤ نے آر ایس ایس کی شروعات کی تھی۔ سدا شیو راؤ کا تعلق گوڑ سارسوت برہمن پریشد سے تھا، اور وہ کینیرا بوائز ہاسٹل کا سپریٹینڈنٹ تھا۔ (یہ ہاسٹل اسی تنظیم سارسوت برہمن پریشد نے 1893ء میں قائم کیا تھا)- اسی ہاسٹل سے آر ایس ایس کے اس شاخ کی شروعات ہوئی تھی ستمبر 1940ء میں، یہیں اس کی منگلور شاخ کا پہلا دفتر تھا۔ دوسری شاخ قائم کی گئی پینتلیندپیت میں جہاں چندراشیکھر بھنڈاری، دس سال کی عمر سے، آر ایس ایس سے منسلک ہو گیا۔ گولوالکر نے ناگ پور کے ایک وکیل، یادو راؤ جوشی کی مدد سے جون 1942ء میں منگلور ضلع یونٹ آر ایس ایس کی قائم کی۔ جگن ناتھ راؤ جوشی نے پھر بھارتیہ جن سنگھ کی شروعات کی۔ سدا شیو راؤ کو ضلع سنگھ چالک اور جناردن ماللیا کو ضلع سکریٹری بنایا تھا۔ اس طرح صوبہ میں بنگلور، منگلور، بیلاری اور دھارواڑ، یہ چار مرکز آر ایس ایس کے بنے۔ سبھی یونٹ میں برہمنوں کا ہی غلبہ تھا۔ فرینک ایف کولون کی کتاب، کاسٹ ان اے چینجنگ ورلڈ، کے مطابق، سارسوت برہمن کا جھکاؤ انیسویں صدی کے آخر سے ہی ہندو “نیشنلزم” کی جانب ہونے لگا تھا۔ انیسویں صدی میں عیسائی مبلغین کے زیر اثر نچلی ذاتوں میں، بالخصوص، بللاوا کے درمیان، جدید علوم کا فروغ ہونے لگا تھا۔ بللاوا تیر اندازی اور تاڑی اتارنے سے منسلک سمجھے جاتے تھے۔ اور ان علاقوں میں تولو بولنے والی آبادیوں میں سب سے بڑی آبادی بللاوا کی ہے۔ یہ لوگ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت بھی کرنے لگے۔ اس کے ردعمل کےطور پر ان علاقوں میں انیسویں صدی کے آخر میں آریہ سماج کا اثر بڑھنے لگا۔

دسمبر 1998ء کا یہ سورتھکل فساد انہیں اقتصادی تبدیلیوں کا مظہر تھا۔ انہیں بنیادوں پر مارچ 1998ء میں ہوئے بارہویں لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے رام کرشن ہیگڑے (1926-2004) کی لوک شکتی سے اتحاد کر کے ایک بڑی کامیابی حاصل کی تھی، جس میں لنگایت اور برہمن (LiBra) کا سوشل انجینرنگ کامیاب ہوا تھا۔ حالانکہ اس چناؤ میں دلت، کسان (زیادہ تر، او۔ بی۔ سی) اور ماحولیاتی تحریکوں کے کارکنوں کے بڑے حصے نے اسی اتحاد کو ترجیح دی تھی۔ اس کے بعد اگلے چند برسوں میں فرقہ وارانہ فسادات کا ایک سلسلہ چلتا رہا اور ہندوتوا مضبوط ہوتا رہا۔ میسور، بیلگاوم، ہبلی، گوکک، دکچھن کنڑا، اوڈوپی، کے علاقوں میں لگاتار متعد چھوٹے بڑے فسادات ہوتے رہے۔

گودھرا (گجرات) میں فروری 2002ء میں جو تشدد ہوا اس کا رد عمل مذکورہ علاقوں میں نمایاں طور پر دکھائی دیا۔ اوڈوپی کے کونڈاپور کے آسوڈی میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ گاؤں کے تہواروں میں بیئری مسلمان لوگ ہندوؤں کو سازشاً ایڈس سے متاثر کر رہے ہیں، پھر اچانک اس افواہ میں ایک ٹوئیسٹ لا دیا گیا اور اینتھریکس پھیلانے کی افواہ پھیلائی گئی۔ یہ بھی افواہ پھیلائی گئی کہ مسلمان لڑکے ہندو عورتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بڑھتی فرقہ واریت کی وجہ سے پہلے ہی ان تہواروں میں مسلمانوں کی شرکت، اور مزاروں پر ہندوؤں کی شرکت، کم ہونے لگی تھی۔

(مضمون نگار پروفیسر محمد سجاد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبۂ تاریخ سے منسلک ہیں)

متعلقہ خبریں

تازہ ترین