Thursday, May 30, 2024
homeدنیاملک کے سابق ججوں کی اپیل بلڈوزر دہشت گردی پر سپریم کورٹ...

ملک کے سابق ججوں کی اپیل بلڈوزر دہشت گردی پر سپریم کورٹ مداخلت۔۔چیف جسٹس کو خط لکھا

نئی دہلی :(ایجنسی)

الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر کے بعد سپریم کورٹ کے تین سابق ججوں نے بلڈوزر سے لوگوں کے مکانات گرانے کی کارروائی کوخارج کر دیا ہے۔ ان تین سابق ججوں کے علاوہ 9 معروف قانونی ماہرین اور کارکنوں نے اس کارروائی کو قانون کا مذاق اڑایا ہے۔ ان لوگوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی ہے۔ پریاگ راج میں جے این یو کی طالبہ لیڈر آفرین فاطمہ کی والدہ پروین فاطمہ کے گھر کو مسمار کیے جانے کے بعد ملک بھر کی تمام مشہور شخصیات کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آرہا ہے۔ بلڈوزر سیاست کا آغاز یوپی سے ہوا، جسے بی جے پی کے زیر اقتدار ایم پی، گجرات، آسام، تریپورہ وغیرہ میں اپنایا گیا۔

سپریم کورٹ کے تین سابق ججوں اور 9 نامور شخصیت نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ وہ ریاستی حکام کی طرف سے مسلم شہریوں کے خلاف اختیار کیے جانے والے تشدد اور جبر کے راستے میں مداخلت کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ مظاہرین کے گھروں کو مسمار کرنا ناقابل قبول ہے۔ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے۔ سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے ان سابق ججوں میں بی- سدرشن ریڈی، وی گوپالا گوڑا اور اے کے گنگولی کے علاوہ ہائی کورٹ کے تین سابق ججوں اور چھ وکلاء کے دستخط ہیں۔ یہ خط 14 جون کو لکھا گیا ہے۔

اتوار کو پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے جاوید احمد کی بیوی کے گھر کو بلڈوز دے گرا دیا تھا۔ الزام ہے کہ جاوید مبینہ طور پر نوپور شرما کے متنازع ریمارکس کے خلاف 10 جون کو شروع ہونے والے احتجاج میں شامل تھے۔ سہارنپور میں بھی فسادات کے الزام میں دو لوگوں کی مبینہ طور پر غیر قانونی جائیدادوں کو بلڈوزر سے گرا دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے 3 سابق جج اور 9 ماہرین قانون نے کہا:’’جس طرح پولیس اور انتظامی افسران نے مل کر کارروائی کی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ ملزمان کو عدالتی دائرہ کار سے باہر جا کر سزا دی گئی ہے۔‘‘

یوپی پولیس نے 10 جون کے احتجاج کے لیے آٹھ اضلاع سے 333 لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور 13 ایف آئی آر درج کی ہیں۔

چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی حراست میں نوجوانوں کو لاٹھیوں سے مارا گیا، مظاہرین کے گھروں کو بغیر کسی نوٹس یا کارروائی کے مسمارکئے جانے اور اقلیتی مسلم کمیونٹی سےتعلق رکھنے والے مظاہرین کو پولیس کے ذریعہ پیچھا کئے جانے اور پیٹےجانےکے ویڈیو سوشل میڈیاپر گردش کررہے ہیں ، جو ملک کے دل کو دہلا رہے ہیں ۔

یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے مبینہ طور پر کارروائی کی منظوری دینے والے بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ افسران اور پولیس کو مظاہرین کو ہراساں کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

سابق ججوں اور ماہرین قانون نے سپریم کورٹ کو یاد دلایا ہے کہ ایسے نازک وقت میں عدلیہ کی اہلیت کا امتحان ہوتاہے۔ عدلیہ ماضی میں عوام کے حقوق کی محافظ بن کر ابھری ہے۔ خط میں سپریم کورٹ کی طرف سے کی گئی ازخود کارروائی کی مثالیں دی گئیں۔ 2020کی طرح مہاجر مزدوروں کو گھر بھیجنے پر مجبور کیا گیا۔ لاک ڈاؤن اور پیگاسس اسپائی ویئر معاملہ۔

اس پر دستخط کرنے والوں میں جسٹس اے پی شاہ دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور لاء کمیشن کےسابق چیئرمین ہیں ۔چھ سینئر وکلاء بھی اپیل کا حصہ ہیں -جس میں سابققانون وزیر شانتی بھوشن، پرشانت بھوشن، اندرا جے سنگھ، چندر ادے سنگھ، سری رام پنچو اور آنند گروور۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین