افسانہ’وقنا عذاب النار‘ (منشائے مصنف سے مکالمہ)

0
58

امتیاز وحید
(شعبہئ اردو، کلکتہ یونیورسٹی)

معاصر اردو فکشن میں پروفیسر حسین الحق کانام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وقیع تجربہ اور اعلی تعلیم سے متصف پروفیسرحق کے پاس بے پناہ تخلیقی قوت ہے، بحیثیت فن کار انھوں نے اس کا اظہار بھی کیا ہے۔ بنیادی طور پروہ تدریس کے آدمی تھے۔علمی اور خوانقاہی پس منظر تھا، باقاعدہ سندیافتہ عالم اور مولوی تھے۔انگریزی،اردواور فارسی کے رمزشناس تھے۔ترجمہ، مذہب اور ادب بطورِ خاص فکشن میں انھیں دلچسپی تھی۔تعلیم یافتہ افرادمیں خود کو منوانے کی ایک ہٹ ہوتی ہے،وہ ان میں بہت تھی۔ عبدالصمد نے لکھا ہے کہ انھیں ”اپنے آپ کو منوانے اور اپنی انفرادیت کو قائم رکھنے کا جنون تھا“۔ اسی وصفِ خاص کی بدولت جدیدت سے قربت کے باوصف ان میں نہ کوارانہ تقلید تھی اور نہ خود کو دہرانے کا عیب۔ بحیثیت افسانہ نویس کمالِ احتیاط اور شعوری بالیدگی سے کام لیتے ہوئے وہ کلام حیدری کے بقول اس بات پر قادر تھے کہ’کرفیو‘ پر افسانہ بنتے ہوئے لفظِ کرفیو کا مطلق استعمال نہ کریں اور نفس مضمون کی ترسیل بھی ہوجائے۔یہ کمال ہر فن کار کا مقدر نہیں بنتا۔پروفیسرحق میں اسلامی علائم، نصوصِ اسلامی، قرآنی آیات اوررمزوایمائیت کو بروئے کار لانے اور افسانہ تراشنے میں انھیں بطورِ ٹول استعمال کرنے کا ہنر بھی موجود تھا۔

سردست حسین الحق کے افسانوی مجموعہ’پسِ پردۂ شب‘ میں شامل ایک افسانہ ’وقناعذاب النار پر گفتگو مقصود ہے۔میں نے اس افسانہ میں منشائے مصنف پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ یہ دیکھنا اور سمجھنا ممکن ہوپائے کہ کوئی فن پارہ اپنی طبیعت میں محض ایک آرٹ ہے یا اس کے پس پردہ تخلیق کار کی داخلی کائنات ہوتی ہے، جہاں اس کی نیت اور اس کی اشتہا کے میلے لگتے ہیں اور جہاں اس کا آرٹ اس کے باطن کی خوشی یا کرب کا اظہاریہ ہوتا ہے، تو نظرافسانہ کے ٹائٹل ’وقنا عذاب النار‘پر ٹک جاتی ہے۔یہ نصِ اسلامی سے افسانہ نگار کے گہرے انسلاک کا اعلامیہ ہے، جو قرآن کریم کی دوسری سورت’سورۃالبقرا‘کی ایک دعائیہ آیت ”الھم ربنا آتنافی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار“ سے ماخوذ ہے۔یہ دعا اللہ کے رسول ﷺ اکثر و بیشتر مانگا کرتے تھے۔اس میں دنیا اور آخرت دونوں جہان میں ہر قسم کی بھلائی مانگی گئی ہے۔یہ نہایت اعلی درجے کی دعا ہے۔اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ افسانہ نگار نے اپنے افسانہ کی اساس ایک مقدس ہستی کی سب سے مرغوب اور وہ بھی قرآنی آیت سے ماخوذ دعا پر رکھی ہے تاکہ بدی اور شر کے خلاف مضبوط محاذ آرئی کی اپنی داخلی خواہش کو دعائیہ پیرائے میں پیش کرسکے۔

افسانہ ’وقنا عذاب النار‘ میں افسانہ نگار نے وطن عزیزہندوستان اور اس کی تقسیم کے قضیے کوموضوعِ بحث بنایا ہے۔ یہ پیش کش کلیتاً علامتی اور استعاراتی ہے۔یہ افسانہ تقسیم ملک کے تیس سال بعد کا محاسبہ ہے؛ایک دل خراش اور دل پاش محاسبہ۔افسانہ نگار نے آزادی کے بعد ملک کے تیس سالہ سفرکو ایک حنوط شدہ لاش کی صورت میں پیش کیا ہے۔وہ لاش جو تعفن زدہ ہے، جس کی انتڑیاں باہر نکل چکی تھیں، چاروں طرف کیڑے لگے ہوئے تھے اور بدبو سے ساری فضا مکدر ہورہی تھی۔ بدی کی اس انتہا کو حسین الحق اپنے افسانہ میں یوں بیان کرتے ہیں:
”لاش تیس سال سے بھی زیادہ پرانی تھی۔مگر اس کی موت کا احساس ہی تیس سال بعد ہواتو اسے کیا کیاجائے!
جس نے بھی سنا حیرت زدہ رہ گیاکہ ایک لاش تیس سال تک رکھی رہی اور لوگوں کو یہ احساس تک نہ ہوسکا کہ یہ لاش ہے۔
لیکن سب خموش تھے کہتے بھی کیا کہ غلطی تو اپنی کہ تیس سال تک ایک لاش کو عزت دیتے رہے اور اچانک معلوم ہواکہ جس کی اتنی عزت کی گئی وہ زندہ نہیں بلکہ مردہ تھا۔

لوگ شرمندہ تھے اور مشتعل بھی‘ لیکن اشتعال کا انفعال بھی ممکن نہیں تھاکہ وہ جو اب تک اس کی زندگی کا یقین دلارہے تھے وہ فرار ہوچکے تھے اور لاش تنہا پڑی ہوئی تھی……“۔(’پسِ پردۂ شب‘، ص:۲۹)
آرٹ اور فن پارہ لفظوں کی وساطت سے اظہار کی راہیں تلاش کرتا ہے۔لفظوں کا انتخاب فن کار کی شدت اور اس کی انتہائی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔عظیم اور وشال بھارت کے سالم جسم کے دو ٹکڑوں ہوگئے اور کشت و خون کا بازار گرم ہوا۔لوگ اپنی ہی دھرتی میں اجنبی بن گئے اورایک دوسرے کے لیے بیگانے بھی۔تقسیم ملک میں وسیع پیمانے پر قدروں کی پامالی ہوئی۔اب اس انسانیت سوز ملک کی حیثیت فن کار کے لیے حنوط شدہ لاش سے زیادہ نہیں۔تیس سال اور اب اس پر اضافی پینتالیس سال گزرگئے یعنی کل پچھترسال کا طویل وقفہ بیت گیا لیکن اس میں اشتعال اور انفعال کی جو کیفیت پہلی تھی وہ نہ صرف علی حالیہ برقرار ہے بلکہ دن بہ دن اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

افسانہ میں جن لفظیات اور ان کی وساطت سے واقعات کا تانابانا بنا گیا ہے،ان میں صورت واقعہ کی نزاکت اس وقت پوری طرح تشت ازبام ہوکر اپنی انتہاکو پہنچتی ہے جب افسانہ نگار بتاتا ہے کہ لاش سے”بدبو کا ایک زوردار بھبھکا لوگوں کی طرف لپکا……دوچار مہتر اور ڈوم پکڑکر لائے گئے ……وہ سب مہتر اور ڈوم بھی بیہوش ہوکر گرپڑے……پھرشہرکا شہر ویران ہونے لگا۔……اب صورت حال یہ ہے کہ لوگ بھاگ رہے ہیں اور دوحصوں میں بٹی اور سڑی ہوئی لاش یا لاشیں ان کا تعاقب کررہی ہیں ……لوگ بھاگ رہے ہیں اور اسباب و علل کے بارے میں بے پر کی ہانک رہے ہیں اور آہستہ آہستہ سب دوحصوں میں بٹی ہوئی لاش بنتے جارہے ہیں“۔

معلوم ہوتا ہے کہ حسین الحق نے ایک تہذیبی نوحہ کو افسانہ کی صورت میں ڈھال دیا ہے۔ فن اگرلازوال ہوتا ہے اور زمان و مکان کی قید سے ماورا ہوتا ہے تو یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ حسین الحق نے جن تیس برسول کے تہذیبی انحطاط پر قلم اٹھایا ہے سال بہ سال اس میں شامل کرتے جائیے فن پارہ کا سیاق بڑھتے ماہ و سال کے ساتھ بامعنی ہوتا چلاجائے گا اور حقائق کی تلخ کامی سے ذہن و دل کے گرد ہالہ بنتا چلا جائے گا۔

تقسیم بلاشبہ ایک المناک اور انسانیت سوز سانحہئ عظیم ہے۔تاریخ میں وہ سارے واقعات درج ہیں، جن سے اس کے اسباب و علل پر آج بھی مباحثے ہوتے ہیں لیکن ملک نے جو تہذیبی شکست کھائی ہے، اس کی بھرپائی اب ممکن نہیں۔ حسین الحق نے جس دل سوزتار کو چھیڑا ہے اور جو Narrativeکھڑا کرنے کی کوشش کی ہے،وہ بحیثیت ہندوستانی ہمارے لیے لمحہئ فکریہ ہیں اور ہمیں سنجیدہ غور وفکر کی دعوت دیتے ہیں۔

منشائے مصنف کی تلاش میں‘ میں نے ہندوستان کے نوم چومسکی کہے جانے والے بڑے اور جید قلم کار صحافی خوش ونت سنگھ کی کتابThe End of the Indiaکے مشمولات پر نظر دوڑائی توخوش ونت کے اس ایک جملے نے میرے ہوش اڑادئے کہ ”اگربھارت ٹوٹا تو اس کا قصوروار پاکستان سمیت کوئی بیرونی طاقت نہیں بلکہ خود جنونی ہندو ہوں گے“۔ خوش ونت سنگھ کا یہ اعتراف کہ وہ خود گجرات گئے اور حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک سرکاری رپورٹ ان کی نظر سے گزری، جس میں بتایا گیا تھا:”جنونی ہندو بڑے آرام سے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی“۔ خوش ونت سنگھ بڑی بے باکی سے دوٹوک انداز میں رام جی کے ان پجاریوں کو روان کا حواری کہتا ہے جو بھارت کی گلی کوچوں میں ترشول بانٹتے پھرتے ہیں۔خوش ونت سنگھ کی یہ کتاب حسین الحق کے داخلی کرب کا اظہاریہ ہے۔خوش ونت سنگھ نے جس طرح مرض اور اس کے تدارک کی تدابیرپر روشنی ڈالی ہے؛حسین الحق کے نزدیک ’وقناعذاب النار‘ کا دعائیہ فقرہ ملک عزیز کو تباہی سے محفوظ رکھنے کی وہی مثبت تدبیر ہے۔

صحافی، مصنف اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے انڈیا شاخ کے سربراہ جناب آکار پٹیل کی حال ہی میں شائع قابل مطالعہ کتاب Price of the Modi years میں عالمی اقتصادیات، سماجی اور سیاسی گراف میں تیزی کی گراوٹ پر بڑی کارآمد بحث کی گئی ہے۔رام چندرگوہا کایہ تبصراتی نوٹ ملاحظہ ہوں:
India ranked at number 85 on the Henley Passport Index, number 94 on the International Food Policy Research Institute’s Global Hunger Index, number 103 on the World Economic Forum’s Human Capital Index, and number 131 on the UN’s Human Development Index. On many of these indices, India’s position has slipped since Narendra Modi became prime minister in 2014.
جناب آکار پٹیل نے ایک دوسری کتاب Our Hindu Rashtryaلکھی ہے،جو عصری تناظر میں قابل مطالعہ ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کی طرح ہندوستان بھی Majoritarian State میں تبدیل ہورہا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ عملی طور پر ہم نے ہندو راسٹربنالیا ہے،اسے مزیدہندو راشٹریہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ اس کے اپنے برے انجام اور نتائج ہیں، جو پاکستان بھگت رہا ہے، سری لنکا اور اب ہندوستان بھگتنے کی تیاری کررہا ہے۔ کووڈ کے دوران امرناتھ یاترا کی اجازت دی۔مہاکمبھ میلا اور اشنان کی اجازت دی گئی۔ بابری مسجد کا فیصلہ اکثریتی طبقہ کے منشا کے حسب حال کیا گیا۔

آج بھی ہمارا ملک اونچ نیچ اور چھوا چھوت جیسے لایعنی اور ذلیل سیاق سے اوپر نہیں اٹھ سکا ہے۔آج بھی نیچی ذات والا اپنی ذات اور برادری کی قیمت چکارہا ہے؛عدلیہ کا نظام بھی کچھ کم افسوس ناک نہیں۔ حسین الحق کو ممکن ہے اس انتہائی زوال اور ملک کا ذلت آمیز سیاق لفظوں کے مزیدسفاک انتخاب پر مجبورکرتااور وہ ملک کی قدروں کی گریزاں کیف و کم کو حنوط شدہ لاش سے زیادہ سخت گیرالفاظ میں بیان کرتا اور یہ سب ملک کو عذاب سے بچانے کی اس کی داخلی اشتہا ہوتی۔
خوش ونت سنگھ اور آکار پٹیل کی کتابیں تو خیر غیرافسانوی تحریر یں ہیں لیکن افسانوی نثرکے زمرے میں صحافی سعید نقوی کی حالیہ تصنیف The Muslim Vanishes حسین الحق کے منشا کی درست تعبیر ہے۔
نہ وہ رشکِ طلعتِ حور ہے،نہ جوابِ جلوۂ طور ہے
مگر ایک بات ضرور ہے،کوئی بات اس میں ضرور ہے