بنگال میں سرکاری اسکول بحران سے دوچار۔ اقلیت ، دلت اور پسماندہ طبقات کے بچے آخر کہاں جائیں گے؟؍نور اللہ جاوید

ایک طرف یونیورسٹی اور اعلیٰ تعلیمی ادارے بحران کے شکار ہیں تو دوسری طرف ریاست میں حکومت کے زیر انتظام سرکاری اسکول بند ہو رہے ہیں،ترک تعلیم کرنے والے طلبہ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ایسے میں تعلیمی صورت حال کو بہتر کرنے کے بجائے بنگلہ زبان کے نام پر سیاست کی جارہی ہے۔

0
551

ںوراللہ جاوید

’’تعلیمی ترقی، آبادیاتی تبدیلی، سماجی ترقی اور جمہوریت کی کلید ہے‘‘ ترقی پذیر ممالک اور تیسری دنیا کے حکمراں اور عوام اس حقیقت کو جاننے کے باوجود سب سے زیادہ تعلیم کو ہی نظر انداز کرتے ہیں ۔ان ممالک کے قومی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص فنڈ اور پبلک ڈسکورس میں تعلیمی پرمسائل بحث و مباحثہ اور اس کے لیے نیوز چینلس، اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ اور کوریج سے انداز ہ لگایا جا سکتا ہے۔ مرکزی حکومت بہت ہی زور و شور سے یہ دعویٰ کررہی ہے کہ محض چند سالوں میں بھارت دنیا کی پانچ تیز رفتار معیشت والے ممالک میں شامل ہوجائے گا۔مگر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے برعکس تعلیم کے تعلق سے بھارت کا وہی رویہ ہے جو تیسری دنیا کے ممالک کا ہے۔نج کاری کی رتھ پر سوار بھارت کی حکومت کا ایک بڑا حلقہ تعلیم کے شعبے کی نجکاری کی پر زور وکالت کر رہا ہے۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری ماضی میں اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کرنے کا مزاج نہ صرف زعفرانی ہے بلکہ سماج واد یعنی یکساں مواقع میں یقین کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتوں کا بھی یہی رویہ ہے۔تعلیمی مسائل اور سرگرمیاں قومی ڈسکورس سے باہر ہیں، حالیہ برسوں میں ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی آزادی اور خود مختاری پر حملے ہوئے ہیں، سیاسی دخل اندازی کی گئی مگر نام نہاد اشرافیہ اور سول سوسائٹی خاموش تماشائی بنے رہے۔ طلبا کے فکر ونظر کو ایک محدود سانچے میں ڈھالنے کے لیے کیمپس کے ماحول کو کشیدہ کیا گیا، مگر ان امور پر کتنی بحثیں بھی ہوئیں۔ گزشتہ ہفتے بہار میں اسکولی تعلیم پر جن جاگرن شکتی سنگٹھن کے سروے رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے ہیں کہ سرکاری اسکولوں میں حاضری کی شرح 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ تعلیم کا معیار خراب ہے، بنیادی ڈھانچہ مایوس کن ہے، دوپہر کا کھانا ناقص معیار کا ہے اور نصابی کتب اور یونیفارم کے لیے براہ راست فائدہ کی منتقلی ناکامی سے دوچار ہے۔ (دعوت کے اگلے شمارے میں اس سروے رپورٹ پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا جائے گا) 4؍اگست2023ء کو رپورٹ کے اجرا کے موقع پر ماہر اقتصادیات جین ڈریز نے اس پوری صورت حال کو ’’تعلیمی ایمرجنسی ‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اسی طرح کی رپورٹ اترپردیش، جھارکھنڈ، اڈیشہ اور دیگر ریاستوں میں پرائمری اسکولوں کے بند ہونے خبریں آچکی ہیں۔

مغربی بنگال میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بحران کس قدر شدید ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت حکومت کے زیر انتظام چلنے والی 31 یونیورسٹیوں میں کل وقتی وائس چانسلرز نہیں ہیں۔ حالیہ چند مہینوں میں مغربی بنگال کے گورنر نے جو ریاستی یونیورسٹیوں کے چانسلر بھی ہیں، ریاستی حکومت کے مشورے کے بغیر یونیورسٹیوں کے لیے عارضی چانسلروں کی تقرری کی ہے۔نتیجتاً وائس چانسلروں کو وزارت تعلیم سے تعاون نہیں مل رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی ریاستی یونیورسٹی حکومت کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتی ہے۔ گورنر اور ریاستی حکومت کے درمیان تنازع کی قیمت یونیورسٹیاں چکارہی ہیں۔ یہ تعطل کب ختم ہوں گے اور کب گورنر اور ریاستی حکومت سیاسی عناد سے اوپر اٹھ کر یونیورسٹیوں میں حالات معمول پر لانے کی کوشش کریں گے اس سے متعلق کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔ جب کہ ان میں سے بیشتر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی مدت کورونا کے دور میں ہی ختم ہوگی تھی۔ اس وقت حکومت نے کورونا کا عذر پیش کرتے ہوئے وائس چانسلروں کی مدت میں توسیع کردی گئی تھی ۔اس کے بعد سے اب تک حکومت ان یونیورسٹیوں کے لیے مستقل وائس چانسلروں کی تقرری کرنے سے قاصر رہی ہے۔وائس چانسلروں کی تقرری کے اختیارات کو لے کر ریاستی حکومت اور راج بھون کے درمیان جنگ جاری ہے۔سوال یہ ہے کہ وائس چانسلروں کی تقرری میں غیر معمولی تاخیر کیوں ہوئی ہے؟ ریاستی حکومت نے سرچ کمیٹی کی تشکیل کے لیے اسمبلی میں نئے قوانین پاس کیے ہیں، چوں کہ گورنر نے دستخط نہیں کیے ہیں اس لیے یہ بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تنازعات ایک ایسے وقت میں رونما ہورہے ہیں جب یونیورسٹیوں میں تعلیمی نصاب میں تبدیلی لائی جارہی ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کے تحت گریجویشن چار سالہ کیا جا رہا ہے۔ پی ایچ ڈی اور دیگر کورسوں میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ ایسے میں یونیورسٹیاں مستقل وائس چانسلروں سے محروم ہیں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بڑے پیمانے پر اسامیاں خالی ہیں۔

اس بحران کے دوران مغربی بنگال کابینہ نے اپنی تعلیمی پالیسی کو منظور ی دیدی ہے۔بنگال حکومت کے تعلیمی پالیسی اور مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسی میں فرق کیا ہے اور دونوں ایک دوسرے سے کس قدر مختلف ہے اس پر زیادہ باتیں کرنے کی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ ریاستی حکومت کی تعلیمی پالیسی کا مسودہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ابھی کابینہ نے منظوری دی ہے ۔دیگر مرحلے باقی ہیں۔ تاہم حکومت نے اسکولی نظام تعلیم میں سہ لسانی فارمولہ کے تحت 8ویں جماعت تک بنگلہ بطور ایک سبجیکٹ لازم کردیا ہے۔ بظاہر اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ریاستی و علاقائی زبان میں مہارت لازمی ہے۔ تاہم یہ کسی دوسری زبان کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔یہ اسی طرح غلط ہے جس طرح ہندی کو ملک بھر میں تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کو ’’ہندی سامراج‘‘ قرار دے کر مخالفت کی جاتی ہے۔ اسکول میں بنگلہ لازمی قرار دینے کے معاملے میں حکومت کے رویے میں نرمی آئی ہے۔ ماضی میں دارجیلنگ کے سوال پر مہینوں احتجاج اور فسادات ہوچکے ہیں ۔اب حکومت نے سہ لسانی فارمولہ کے تحت سیکنڈ اور تھرڈ لنگویج کے طور پر پڑھنے کا اختیار دیا ہے۔اسکولی تعلیم میں بنگلہ کو لازمی قرار دیے جانے کی نیت پر شک و شبہ کی گنجائش اپنی جگہ ہے تاہم چند ایسے بنیادی حقائق ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے اور ان حقائق کی روشنی میں بنگلہ لازمی کرنے کی حکومت کی نیت اور ارادے پر سوال اٹھنا لازمی ہے ۔

بنگال کی 90 فیصد آبادی کے بچے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ ممتا حکومت نے اسکولی نظام تعلیم کو مستحکم اور مربوط کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ مغربی بنگال کے محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی یعنی ممتا بنرجی کے دور اقتدار میں 7810 پرائمری اسکولس بند ہوگئے ہیں ۔2016ء میں پرائمری اسکولوں کی تعداد 76,703 تھی جو 2021ء میں کم ہو کر 75,299 ہو گئی۔ ضلع پرولیا کو چھوڑ کر تمام اضلاع میں دس سالوں میں پرائمری اسکولوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ تاہم، اسی عرصے میں پرولیا میں صرف ایک نیا اسکول قائم کیا گیا تھا۔ 2012ء میں یہاں اسکولوں کی کل تعداد3 ,490 تھی جس میں محض ایک اسکول کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار سرکاری اسکولوں کے ہیں۔اب حکومت نے 8 ہزار امداد یافتہ اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں 6,845 پرائمری اسکولس ہیں اور 1,362 ہائی پرائمری اسکولس ہیں۔ان اسکولوں میں 531صرف کولکاتا میں ہیں۔حکومت کے مطابق ان اسکولوں میں 30سے کم طلبا ہیں ۔اوسطاً ان اسکولوں میں 17 یا 20 طلبا ہیں جبکہ اسکولوں سے منسلک کل وقتی اساتذہ کی تعداد 19,083 اور ایڈہاک اساتذہ کی تعداد 1,181 ہے۔ اگر حکومت اسکولوں کو بند کرنے کے اپنے منصوبے کو آگے بڑھاتی ہے تو فرض کریں کہ ہر اسکول میں اوسطاً 25 طلبہ کا داخلہ ہوتا ہے تو تقریباً دو لاکھ طلبا اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔

2022ء کے مقابلے 2023ءمیں مدھیامک امتحان دینے والے طلبا کی تعداد میں 4 لاکھ کمی آئی ہے۔ 2022ء میں 10,775,98 طلبا نے مدھیامک امتحان دیا تھا جو 2023ء میں کم ہو کر 6,98724 ہوگئی ہے۔اسی طرح ہائر سیکنڈری امتحان میں اس سال 8.5 لاکھ طلبا نے شرکت کی ہے۔ اگرچہ یہ تعداد 2022ء کے مقابلے میں زیادہ ہے مگر غور طلب ہے کہ 2021ء میں 10.5 لاکھ طلبا نے مدھیامک امتحان پاس کیا تھا۔ گویا 2 لاکھ طلبا مدھیامک امتحان کے بعد ڈراپ آوٹ ہوئے ہیں۔

ایک طرف اسکول بند ہو رہے ہیں، طلبا کی تعداد کم ہے تو دوسری طرف اسکولوں میں اساتذہ کی قلت ہے۔اساتذہ کی تقرری میں گھوٹالہ کی وجہ سے اساتذہ کی معتربیت سوالوں کی زد میں ہے۔ دوسرا، غلط ٹرانسفر پالیسی کی وجہ سے دیہی علاقوں میں اساتذہ نہیں ہیں، بیشتر اساتذہ نے شہری علاقوں میں ٹرانسفر کرالیا ہے۔اس سے متعلق ایک معاملہ کلکتہ ہائی کورٹ میں زیر غور بھی ہے۔ ایک رپورٹ میں سرکاری اسکولوں میں ریاضی کے اساتذہ کی 3,132 اسامیاں خالی ہیں۔فزکس کے اساتذہ کی 1,795 سیٹیں خالی ہیں۔اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کا بحران نسبتاً گہرا ہے۔بیشتر ہائر سیکنڈری اسکولوں میں اساتذہ نہیں ہیں۔اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی قلت کی ایک بڑی وجہ ریزرویشن پالیسی ہے۔ریزرویشن کی وجہ سے اسامیاں ڈیڈ لاک ہوگئی ہیں ۔گزشتہ دس سالوں میں اردو میڈیم اسکولوں میں ریزرویشن کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوئی مخلصانہ کوشش نہیں کی گئی ہے۔کچھ طالع آزما مسلم سیاست دانوں نے کچھ کرتب دکھائے مگر وہ سب ناکارہ ثابت ہوئے، اس کی وجہ سے اردو میڈیم اسکولوں کے طلبا کو دوسرے میڈیم والے اسکولوں کو جانا پڑرہا ہے۔ حق تعلیم قانون کے مطابق، پرائمری اسکولوں میں استاد اور طالب علم کا تناسب 30 طلبا پر ایک استاذ کا ہونا لازمی ہے۔ سیکنڈری اسکولوں میں 35 طلبا پر ایک استاذ کا ہونا لازمی ہے لیکن اطلاعات کے مطابق، ریاست میں پرائمری اسکولوں میں 73 طلبا پر ایک طالب علم ہے جب کہ سیکنڈری اسکولوں میں اساتذہ اور طلبا کا تناسب 72 طلبا پر ایک استاذ ہے۔ اردو میڈیم اسکولوں میں یہ تناسب مزید خراب ہے۔ 2021ء کی یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق ریاست میں ایک لاکھ سے زیادہ تدریسی عہدے خالی ہیں۔جرنل آف ایمرجنگ ٹیکنالوجیز اینڈ انوویٹیو ریسرچ میں شائع ہونے والی 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق مصنفہ مومیتا ڈے نے لکھا ہے کہ جنوبی 24 پرگنہ میں 2011ء میں کل 6 ,255,71 طلبا پانچویں سے آٹھویں جماعت تک پڑھتے تھے ان میں 90.4 فیصد سرکاری اسکولوں میں پڑھتے تھے۔ 2015ء میں سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والوں کی تعداد کم ہوکر 80.56 فیصد ہوگئی ہے۔

یہ اعداد و شمار ظاہرکرتے ہیں بنگال کے اسکولوں کا بحران کورونا وائرس کی پیدوار نہیں ہے۔ان اعدادو شمار کی روشنی میں یہ بات سامنے آرہی ہے کہ سرکاری اسکولوں سے عوام کا اعتماد کم ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ صورت حال کیوں پیدا ہوئی ہے۔سرکاری اسکولوں سے عوام کا اعتماد کیوں کم ہوا ہے؟ آل بنگال پرائمری ٹیچرس ایسوسی ایشن (اے بی پی ٹی اے) کے ریاستی سکریٹری موہن داس پنڈت بتاتے ہیں کہ ترنمول کانگریس کی حکومت کی غلط پالیسیوں سے تعلیمی نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔سرکاری پرائمری اسکولوں میں انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ پہلی اور دوسری جماعت کے لیے مضامین کے لحاظ سے نصابی کتابیں نہیں ہیں۔ زیادہ تر اسکولوں میں استاد اور طالب علم کا تناسب درست نہیں ہے۔ میرٹ نہ رکھنے والوں کو غیر قانونی طور پر بطور اساتذہ تعینات کیا گیا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر والدین کی ایک بڑی تعداد سرکاری اسکولوں سے غیر مطمئن ہے۔ ایک اور ماہر تعلیم بتاتے ہیں کہ سابقہ دور حکومت میں گاؤں کے پرائمری اسکولوں کو چلانے کے لیے ایک گاؤں کی تعلیمی کمیٹی بنائی جاتی تھی، اس میں پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل کمیٹیاں ہوتی تھیں۔ اب وہ کمیٹیاں موجود نہیں ہیں۔ حکم راں جماعت کے پنچایت ممبران یا کونسلر اسکول چلارہے ہیں اس کی وجہ سے تعلیمی ادارے سیاست کا شکار ہوگئے ہیں ۔

آل بنگال پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری دھربو سکھر منڈل بتاتے ہیں کہ اسکولوں میں طلبا کی تعداد میں سال بہ سال کمی کی ایک بڑی وجہ سے سماجی اقتصادی حیثیت ہے۔گزشتہ ایک دہائی یا اس سے زیادہ کے عرصے میں مالی حالت بہتر ہونے کے بجائے خراب ہوئی ہے۔ سرکاری اسکیمیں کاغذ پر ہی رہیں۔ اسکول کے تعلیمی نظام پر زیادہ اثر نہیں ہے۔کنیاشری اسکیم جو مدھیامک امتحان کے بعد طالبات کو دی جاتی ہے اس کی وجہ سے ہائر سیکنڈری میں طالبات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے مگر لڑکوں کی تعداد میں کمی آئی ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ صورت حال کوئی امید افزا نہیں ہے۔لڑکوں میں ڈراپ آوٹ کی شرح میں اضافہ کسی بھی سماج کے لیے بہتر نہیں ہے۔

ایک طرف حکومت صرف 8ویں جماعت تک بنگلہ زبان لازمی کررہی ہے تو دوسری طرف بنگال سول سروسز امتحانات میں بنگلہ کو لازمی قرار دیتے ہوئے ہر امیدوار کو 300 نمبر کا پرچہ پاس کرنا لازمی کردیا گیا ہے۔بنگلہ زبان کے ماہرین بتاتے ہیں کہ 8ویں جماعت تک بنگلہ کو بطور سبجیکٹ پڑھنے والا کوئی بھی طالب علم سول سروسز امتحانات میں 300نمبر کے پرچہ میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا ہے۔پہلے سول سروسز امتحان میں صرف بنگلہ جاننا لازمی تھا، ظاہر ہے کہ سول سروسز امتحان کے لیے اس شرط سے نہ صرف اردو و ہندی میڈیم کے طلبا متاثر ہوں گے بلکہ انگریزی میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے والے بنگالی طلبا بھی متاثر ہوں گے۔

ان اعداد و شمار کی روشنی میں یہ سوال اہم ہے کہ حکومت پرائمری اسکولوں میں حالت کو مستحکم کرنے کے بجائے بنگلہ کو لازمی کرنے کی سیاست کا کیا مطلب ہے؟ جب اسکول ہی باقی نہیں رہیں گے تو بنگلہ کون پڑھے گا؟ کئی ماہرین بتاتے ہیں کہ دراصل حکومت تعلیم کے شعبے میں نجکاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ صورت حال دیہی علاقے میں اقلیتوں ، دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ طبقات کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس سے مزید ناخواندگی میں اضافہ ہوگا لہٰذا سوال یہ ہے کہ بنگال میں تعلیمی بحران پر خاموشی کیوں چھائی ہوئی ہے؟ سول سوسائٹی اس کے خلاف آواز بلند کیوں نہیں کررہی ہے؟کیا بنگلہ لازم کرنے کے پیچھے یہ مقصد بھی کارفرما ہے کہ جذباتی سیاست کی آڑ میں ناکامیوں کو چھپایا جائے؟ کیوں کہ کم و بیش یہی صورت حال مرکزی حکومت نے بھی پیدا کررکھی ہے۔ہندی کے نام پر سیاست تو ہورہی ہے مگر بچوں میں ہندی پڑھنے کا رجحان کیسے پیدا ہو اس کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی ہندی کے چمپئن بن کر نمودار ہوئے ہیں ۔آج کل ہر پروگرام میں انگریزی کو ہٹانے اور ہندی کو لانے کی بات کرتے ہیں جبکہ بہار میں تعلیمی نظام مکمل طور پر تہس نہس ہوگیا ہے۔