طلبا لیڈر انیس کے قتل کی جانچ کیلئے ممتا بنرجی کا ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا اعلان۔۔۔۔۔والد سالم خان کا ممتا بنرجی سے ملاقات سے انکار۔۔۔۔۔سی بی آئی جانچ پر مصر

0
774

کلکتہ 21فروری (انصاف نیوز)
سوالوں کی زد میں آنے کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اب خود سامنے آکرہونے والے نقصانات بھر پائی شروع کردی ہے۔پہلے انیس خان کے والد کو ریاستی سیکریٹریٹ نوبنو طلب کیا گیا مگر جب انہوںنے فوری ملاقات کرنے سے انکار کردیا تو آج میں ممتا بنرجی نے غیرجانبدارانہ جانچ کی یقین دہانی کراتے ہوئے اعلیٰ سطحی ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ کمیٹی 15 روز میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔ انکوائری کمیٹی میں ڈی جی، چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری اور سی آئی ڈی کے افسران پر مشتمل ہوگی۔


ممتا بنرجی کے ملاقات کی دعوت پر سالم خان نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ کلکتہ جاکر وزیرا علیٰ ممتا بنرجی سے ملاقات نہیں کرسکتے ہیں ۔اگر وزیر اعلیٰ ان کے گھر آتی ہیں تو وہ بات کرسکتے ہیں ۔ممتا بنرجی کے ذریعہ بھروسہ دلانے کے بعد بھی اہل خانہ نے کہا کہ ایس آئی ٹی سے انصاف کی امید نہیں ہے کیوں کہ اس پورے معاملے میں پولس اور مقامی لیڈروں کا کردارمشکوک ہے۔
ریاستی وزیر پنچایت اروپ رائے نے مقتول طلبا لیڈر انیس خان کے گھر کا دورہ کیا اور سالم خان سے بات چیت کرکے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کا پیغام پہنچایا۔انہو ں نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے میں آزادنہ و مصنفانہ جانچ کرائی جائے گی ۔اس واقعے کی ڈی ایس پی رینک کے آفیسر جانچ کریں گے ۔مقتول طالب علم رہنما کے گھر کے باہر چار مسلح پولیس اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے مقتول طلبا لیڈر انیس خان کے قتل کی تحقیقات کے لیے خصوصی انکوائری ٹیم تشکیل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ کمیٹی 15 روز میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔ انکوائری کمیٹی میں ڈی جی، چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری اور سی آئی ڈی کے افسران پر مشتمل ہوگی۔ وزیر اعلیٰ (ممتا بنرجی) نے بھی انیس کے اہل خانہ کو غیر جانبدارانہ تحقیقات کا یقین دلایاہے۔
انیس کے اہل خانہ کو یقین دلاتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’میں جان واپس نہیں دلا سکتی ہوںیہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ میرا یقین کرو، میں جو کچھ بھی کر سکتی ہوں وہ کر و ں گی۔ حکومت غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے، انصاف ہوگا۔ میں صرف اتنا ہی وعدہ کر سکتی ہوں۔ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔جو بھی قصوروار ہےاس کو سزا ملے گی ۔ اس کی مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوگی۔ اس کے لیے کوئی معافی نہیں ہے۔ ‘
وزیر اعلیٰ نے مزید دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت ترنمول کے انیس کے ساتھ کافی اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انیس کے ساتھ ہماری اچھی بات چیت تھی۔ الیکشن کے دوران انیس نے بھی ہماری بہت مدد کی۔ اب کئی بڑی باتیں کر رہے ہیں۔
مقتول انیس خان کے دادا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ریاستی پولیس کی کسی بھی تفتیش پر بھروسہ نہیں ہے۔ مقتول طالب علم رہنما کا خاندان اب بھی سی بی آئی جانچ کے مطالبہ پر اٹل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست کی طرف سے مقرر کردہ انکوائری کمیٹی سی بی آئی کی مدد کر سکتی ہے۔
خیال رہے کہ ایک دن قبل ایس پی نے ڈی ایس پی رینک کے آفیسر ےسے جانچ کرانے کا اعلان کیا تھا۔مگر یہ معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے۔مقتول انیس خان ایک زمانے سے سی پی آئی ایم کے طلبا تنظیم آئی ایس ایف سے وابستہ تھا اس کے بعد وہ عباس صدیقی کی جماعت آئی ایس ایف سے وابستہ ہوگئے تھے۔
سوشل میڈیا پرانیس خا ن کا ایک پوسٹ وائرل ہورہا ہے جس میں انیس خان نے لکھا تھا کہ وہ ھمکیوں سے خوف زدہ نہیں ہونے والے ہیں ۔وہ لوگوں کی مدد اور یہاں کے عوام کےلئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
خیال رہے کہ جمعہ کی رات چار افراد جس میں ایک شخص پولس آفیسر کے لباس میں تھا اور تین افراد سیوک پولس کے لباس تھا گھر میں جبرا داخل ہوکر انیس خان کو دوسری منزل کے چھت سے ڈھکیل کر قتل کردیا تھا۔یہ چاروں افراد خود کو پولس کے طور پر متعارف کرایا تھا۔انیس خان کی موت کے 30گھنٹے بعد فرانزک ٹیم اس دن انیس (ہاؤڑا ڈیتھ) کے گھر پہنچی۔ انہوں نے مختلف طریقوں سے منظر کا جائزہ لیا۔