طلبا لیڈر انیس خان کے قتل پر پولس انتظامیہ سوالوں کی زد میں انیس کے والد کو بنگال پولس پر بھروسہ نہیں سی بی آئی جانچ کا مطالبہ

0
89

کلکتہ20فروری :
عالیہ یونیورسٹی کےسابق طالب علم اور این آر سی و شہری ترمیمی ایکٹ مخالف تحریک چہرہ رہے انیس الرحمن کے قتل کےبعد ہوڑہ کے آمتا پولس اسٹیشن کے تحت ساردا دکھن پارہ گائو ں میں ماتم بچھا ہوا ہے۔ایڈیشنل پولس سپرنڈنٹ کی نگرانی میں ا س قتل کی جانچ شروع ہوگئی ہے۔تاہم انیس الرحمن کے والد سالم خان اور گائوں والوں کا کہنا ہے کہ چوں کہ اس قتل میں براہ راست میںپولس ملوث ہے اس لئے انصاف کی امید نہیں ہے۔اس پورے معاملے کی سی بی آئی جانچ ہونی چاہیے۔
اس پورے معاملے میں پولس کا کردار سب سے زیادہ مشکوک ہے۔سالم خان کا کہنا ہے کہ اس گھر چار افراد پولس بن کر آئے اور پہلے اس کے ساتھ بدتمیزی کی اس کے بعد اس کے بیٹے کو گھر کے اوپر دھکیل کرماردیا۔ہم لوگ فوری طور پر انیس الرحمن کو لے کر الوبیڑیا اسپتال گئے مگر ڈاکٹروں نےمردہ قرار دیدیا۔اس واقعے کے فوری بعد آمتا پولس کو اطلاع دی مگر ایک بجے رات کے بعد پولس صبح دس بجے پہنچی ہے۔پولس نے فوری کارروائی جان بوجھ کر نہیں کی ہے۔ہم نے آمتا پولس اسٹیشن کو فون کرکے بتایا کہ آپ کے تھانے کے آفیسر بن کر میرے گھر ایک پولس آفیسر اورتین سیوک آئے تھے۔سالم خان نے کہا کہ پولس ہماری بات کو سننے کو تیار نہیں آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صبح دس بجے پولس جب آئی تو اس کے کئی آفیسر اس پورے معاملے کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔کسی نے کہا کہ موت کے وقت انیس الرحمن نے شراب پی رکھی تھی۔سالم خان نے کہا کہ میرے بیٹے نے کبھی بھی شراپ کیا کوئی بھی تمباکو کااستعمال نہیں کیا۔انیس الرحمن کے دوستوں نے بھی بتایا کہ وہ رات 12.30بجےتک میلاد کے پروگرام میں شریک تھے ۔بلکہ اس نے میلا د میں تقریر کرنے آنے والے مولانا صاحب سے ملاقات بھی کی تھی۔
دوسری جانب آج آمتا پولس اسٹیشن کے سامنے آئی ایس ایف اور دیگر پارٹیوںکے ورکروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ انیس الرحمن کی موت کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے۔توار کو ایک پریس کانفرنس میں، ہوڑہ ضلع (دیہی) کی پولیس سپرنٹنڈنٹ سومیا رائے نے کہا کہ اس رات انیس کے گھر کون گیا تھا، اس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں انیس کے خلاف تھانے میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔
صورت حال کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہوڑہ گرامین کی ایس پی سومیا رائے کو بھوانی بھون میں طلب کیا گیا ہے۔ ریاستی پولیس کے ڈی جی نے اس معاملے پر رپورٹ طلب کی۔ بھوانی بھون ذرائع کے مطابق انیس خان کی موت کے معاملے میں تفتیشی افسر ڈی ایس پی رینک کا افسر ہوگا۔ چونکہ پولیس پر بھی الزامات لگائے گئے ہیں، اس لیے اس معاملے کی جانچ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کرے گی۔
خیال رہے کہ جمعہ کی رات انیس کے اہل خانہ کے مطابق جمعہ کی رات چار افراد شہری رضاکاروں اور پولیس کے بھیس میں انیس کے گھر آئے۔ پھر ان میں سے 3 اوپر انیس کے گھر گئے۔ اس کے بعد انیس کے سر پر وار کر کے اسے چھت سے نیچے پھینک دیا گیا۔ تاہم، جیسا کہ پولیس نے شروع سے دعویٰ کیا ہے، جمعے کی رات تھانے سے کوئی بھی انیس کے گھر نہیں گیا۔ ایسے میں پولس اس بارے میں سوچ رہی ہے کہ کون سیوک رضاکار اور پولیس والے کے بھیس میں انیس کے گھر گیا۔ اہل خانہ نے شکایت کی ہے کہ واقعہ کے بعد سے انیس کا موبائل فون نہیں ملا۔اہل خانہ نے مزید شکایت کی کہ پولیس انیس کی موت کے 24 گھنٹے بعد گھر پہنچی۔ نتیجے کے طور پر، خاندان کو خدشہ ہے کہ اس وقت تک کچھ ثبوت ضائع کردئیے گئے ہوں گے۔
تاہم فرانزک ٹیم آج انیس کے گھر جاکر پورے معاملے کی جانچ کی ۔چھت سے تکیے پھینک کر جانچ کی ۔ فرانزک ٹیمنے اس جگہ کو نشان زد کیا جہاں انیس چھت سے نیچے گرا تھا۔ ح
مقامی آمتاکے او سی دیببرتا چکرورتی نے کہا کہ اس رات انیس کے گاؤں پر کوئی چھاپہ نہیں مارا گیا۔ تاہم اتوار کی دوپہر سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ اس رات انیس کے گھر کون گیا تھا اس کی تفتیش جاری ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق انیس کے خلاف دو مقدمات درج ہیں۔ مگر کسی بھی معاملے میں ان کے خلاف سمن جاری نہیں تھا ۔