بنگلہ دیش میں جمہوریت کےنام پر ڈھونگ۔7جنوری کو انتخابات نہیں بلکہ حسینہ کی آمریت پر مہر لگے گی

0
120

نوراللہ جاوید

سال 2024اس معنی میں کافی اہم ہے کہ نئے سال کے پہلے چار مہینوں میں بر صغیر کے تینوں ممالک بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ یہ انتخابات ان تینوں ممالک کے لیے ہی نہیں بلکہ مکمل بر صغیر کی سیاست کے لیے بھی کافی اہم ہیں، کیوں کہ اس وقت ان تینوں ممالک میں جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ان تینوں ممالک میں جمہوری اقدار ،خود مختار ادارے، میڈیا اور عدلیہ کی آزادی خطرے میں ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تینوں ممالک امریکہ کے بجائے روس سے قربت اور تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستان کا پورا سیاسی عمل فوج کی مرہون منت ہے۔ پاکستانی افواج ہمیشہ سیاسی انجیئنرنگ کرتی رہی ہیں۔ اپنی من پسند حکومتیں بناتی اور گراتی رہی ہیں۔ بھارت اور پاکستان کی جمہوریت کے درمیان کوئی موازنہ نہیں ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی جمہوریت مستحکم اور انتخابی عمل کہیں زیادہ شفاف اور منصفانہ ہے تاہم جمہوری ادارے، عدلیہ اور میڈیا کی خود مختاری کے حوالے سے بھارت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ہفت روزہ دعوت کے گزشتہ شماروں کے اہم اسٹوریوں میں پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا کی خود مختاری کے خاتمے اور ان اداروں کے زوال کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی جا چکی ہے کہ بھارت میں میڈیا، عدلیہ اور پارلیمنٹ تینوں ادارے اپنی خود مختاری سے محروم ہو رہے ہیں اور ان پر شب خون مارنے کی کوشش کی جاری ہے۔ بر صغیر کا تیسرا ملک بنگلہ دیش جس کی عمر پاکستان اور بھارت کے مقابلے میں کم ہے مگر جمہوریت اور انتخابی عمل ان دونوں ممالک کے مقابلے کہیں زیادہ خراب صورت حال سے دوچار ہے۔
بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ گزشتہ 14 سالوں سے برسر اقتدار ہیں۔ انہوں نے ان سالوں میں اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اپوزیشن اور سیاسی مخالفین کی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔بنگلہ دیش کی جیلیں حسینہ کے سیاسی مخالفین سے بھر دی گئی ہیں شیخ حسینہ جب 2008 میں بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئیں تو اس وقت انہوں نے بنگلہ دیش کے عوام سے جدید، ترقی پسند اور آزاد جمہوری روایات قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ اقتدار میں آتے ہی انتقامی جذبے سے لبریز تھیں۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے لیڈروں اور رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کا عمل شروع کیا۔ عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے عدلیہ کے تعاون سے جماعت اسلامی کی پوری لیڈرشپ کو غدار اور ملک دشمن ثابت کرنے کے لیے مقدمات چلائے اور کئی سینئر رہنماؤں کو سزائے موت بھی سنائی گئی۔حال ہی میں جماعت اسلامی کے سینئر رہنما اور مفسر قرآن شیخ دلاور سعیدی کا جیل میں انتقال ہو گیا۔ میت کی نماز جنازہ اور ان کے چاہنے والوں کی نماز جنازہ میں شرکت بنیادی حق ہے مگر حسینہ خوئے انتقام میں اس قدر اندھی ہوچکی تھیں کہ انہوں نے مفسرقرآن شیخ دلاور سعید کے نماز جنازہ میں شرکت کرنے سے عوام کو روکنے کی کوشش کی اور اس کی وجہ سے بنگلہ دیش میں حالات خراب ہوئے اور بڑے پیمانے پر نماز جنازہ کے شرکا پر لاٹھی چارج کا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمن نے بنگلہ دیش کے قیام اور نئے ملک کا اقتدار سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ قیامِ بنگلہ دیش کے سیاسی مخالفین جو اب بنگلہ دیش کے شہری ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور ہم سب مل کر بنگلہ دیش کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔مگر حسینہ کے جذبہ انتقام نے اپنے والد کی حسین روایات کا احترام نہیں کیا۔ حسینہ کے 14 سالہ اقتدار کا سب سے کریہہ اور بدبو دار پہلو یہ ہے کہ اس نے بے رحمی سے اپنے سیاسی و نظریاتی مخالفین کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ گزشتہ دو انتخابات میں جس طرح سے وہ منتخب ہوکر آئی ہیں وہ سوالوں کی زد میں رہا ہے۔’ ووٹروں کو ایک سے زائد امیدواروں میں سے کسی ایک امیدوار پر اپنی پسند کا مہر لگانے کا حق ہے۔ ووٹرس اگر ایک سے زائد امیدواروں کے انتخاب کی آزادی سے محروم ہیں تو وہ انتخاب کسی بھی صورت میں انتخاب نہیں کہلاتا۔ ماضی کے دونوں عام انتخابات میں بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔سو سے زائد سیٹوں پر حسینہ کی عوامی لیگ نے بلا مقابلہ کامیابی حاصل کی تھی۔حسینہ کی آمریت کو بنگلہ دیش کی اشرافیہ، عدلیہ اور فوجی افسران کی بھر پورحمایت حاصل ہے۔

سال گزشتہ نومبر میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے عین قبل 23 اکتوبر کو بنگلہ دیش کی حکومت نے انصار بٹالین بل 2023 نافذ کیا۔ اس بل کے ذریعہ انصار بٹالین کو نیم فوجی معاون فورسیس کا درجہ دیتے ہوئے مشتبہ افراد کے گھروں میں داخل ہونے، گرفتار کرنے، حراست میں لینے اور مبینہ مجرموں کو پولیس کے حوالے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اکتوبر سے اب تک بنگلہ دیش کی جیلیں تنگ ہوگئی ہیں۔بنگلہ دیش میں کل 68 جیلیں ہیں جن میں 42,700 قیدیوں کی گنجائش ہے۔مگر ان جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 80 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ان قیدیوں میں 25 ہزار سے زائد بی این پی اور اس کے اتحادیوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی لیڈر اور ورکرز ہیں۔ بی این پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر سمیت تقریباً تمام سینئر رہنماؤں اور پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کو ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے، تاکہ پارٹی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال نہ کر سکے۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے، بی این پی کے لاکھوں رہنما اور کارکن اپنے گھروں سے دور چھپے ہوئے ہیں۔دوسری جانب ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کے کاک ٹیل بم دھماکے، پولیس پر حملے وغیرہ کے منصوبے بنانے کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد کارروائی کی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ ان حالات میں اپوزیشن جماعتوں کے انتخابات بائیکاٹ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ چنانچہ بی این پی سمیت ملک کی بیشتر اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ان حالات میں بنگلہ دیش کے انتخابی عمل کو جواز کس طرح بخشا جاسکتا ہے۔اگر چوتھی مرتبہ حسینہ اقتدار میں آتی ہیں تو کیا وہ منقسم بنگلہ دیش کو متحد کرپائیں گی۔
گزشتہ 14 سالوں میں حسینہ اپنے آپ کو بہترین منتظم اور بنگلہ دیش کی اقتصادی حالت کو بہتر کرنے والی لیڈر کے طور پیش کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔حالیہ برسوں میں انہوں نے اس انتخاب میں اپنی اقتصادی کامیابیوں کو اجاگر کیا ہے۔حالیہ مہینوں میں انہوں نے کئی منصوبوں کا سنگ بنیاد یا پھر افتتاح کیا ہے۔ان میں ڈھاکہ ایلیویٹڈ ایکسپریس وے اور دریائے کرنافولی کے نیچے بنگا بندھو سرنگ (جنوبی ایشیا کی پہلی زیر آب سرنگ) روپ پور میں 2400 میگاواٹ کے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔اس کے لیے حسینہ کی حکومت روس سے یورینیم کی پہلی کھیپ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے تعاون سے ڈھاکہ میں حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 کا افتتاح۔ اکھورا-اگرتلہ براڈ گیج لائن، مونگلا پورٹ ریل لائن، پدما برج ریلوے لنک، ایم آر ٹی لائن 6 اور میتری پاور پلانٹ کے یونٹ II کا افتتاح شامل ہے۔

حسینہ یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے دور اقتدار میں بنگلہ دیش زبردست اقتصادی اور سماجی ترقی کر رہا ہے۔عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق قومی جی ڈی پی 2021 میں 416.3 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔جب کہ 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے وقت بنگلہ دیش کی جی ڈی پی 2.6 بلین ڈالر تھی۔بچوں کی اموات کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے۔ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں سیکنڈری سطح کے اسکولوں میں داخلہ لے رہی ہیں اور تمام بچوں میں سے 98 فیصد کم از کم پرائمری سطح کی تعلیم مکمل کر رہے ہیں۔ ملک کی فی کس آمدنی اس وقت جنوبی ایشیا میں دوسری سب سے بڑی ہے۔ مگر یہ حسینہ کی اقتصادی ترقی کا صرف ایک پہلو ہے۔ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اندرون ملک معاشی عدم مساوات میں گزشتہ چھ سالوں کے درمیان کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔عالمی عدم مساوات کی رپورٹ 2022 کے مطابق بنگلہ دیش میں صرف ایک فیصد آبادی کے پاس 16.3 فیصد دولت ہے۔ بنگلہ دیش کے مشہور اخبار ’’ڈیلی اسٹار‘‘ میں 24 دسمبر 2023 میں سنٹر فار پالیسی ڈائیلاگ (CPD) کی ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے بنگلہ دیش میں امیر اور غریب کے درمیان آمدنی میں عدم مساوات اس سطح تک بڑھ گیا ہے کہ ملک دو معاشی نظاموں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔سی پی ڈی سے وابستہ تھنک ٹینک کے ایک معزز فیلو پروفیسر مستفیض الرحمان کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے اعلیٰ آمدنی والے افراد کے اثاثے 2010 میں کم آمدنی والے گروپ سے 30 گنا زیادہ تھے اب یہ 80 گنا بڑھ چکا ہے۔ یہ معاشرے میں تفاوت کی سطح کو ظاہر کرتا ہے اور یہ واضح طور پر جامع ترقی کے تصور کے خلاف ہے۔ سی پی ڈی کے ریسرچ ڈائریکٹر خوندکر غلام معظم کہتے ہیں کہ معاشی شعبے میں عدم مساوات کوکم کرنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں انتخابات کے بعد اصلاحات کی کوئی امید نظر نہیں آتی ہے۔ کیوں کہ انتخابات ہنگامہ آرائی اور عدم مسابقت کے ماحول میں منعقد ہو رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ انتخابات کے بعد بھی عدم مساوات بڑھ سکتی ہے۔ غلام معظم کے مطابق جن ریگولیٹرز میں اصلاحات کی ضرورت تھی ان میں بنگلہ دیش بینک، بنگلہ دیش سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، بنگلہ دیش مسابقتی کمیشن، مالیات، تجارت، بیرون ممالک میں بنگلہ دیشی مزدوروں کی بہبود اور بیرون ملک ملازمت، لیبر اور روزگار کی وزارتیں، بنگلہ دیش ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز شامل ہیں۔ اتھارٹی اور انڈسٹریل پولیس۔ سی پی ڈی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر فہمیدہ خاتون کے خیال میں اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے گڈ گورننس قائم کرنا آسان کام نہیں ہو گا کیونکہ مفاد پرست گروہ مضبوط ہیں اور عوامی اداروں پر بنگلہ دیش کی اشرافیہ نے قبضہ کر رکھا ہے۔

معاشی عدم مساوات ہی واحد مسئلہ نہیں بلکہ بنیادی چیزوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور قیمتوں میں جاری اضافہ گھریلو عوامل سے متاثر ہو رہے ہیں۔چاول، چینی اور تیل جیسی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں 2019 سے 2023 کے درمیان 9 سے 400 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق اشیاء اور خدمات کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے،اس سے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اپنا پیٹ بھرنا مشکل ہو رہا ہے کیونکہ تنخواہیں اور اجرتیں اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی ہیں۔بنگلہ دیش کا قرضہ ابھی بھی جی ڈی پی کے مقابلے میں کم ہے۔مگر قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے کیونکہ زر مبادلہ کے ذخائر گر رہے ہیں اور غیر رعایتی قرضوں کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ غیر ملکی قرضوں کی شرح سود بھی بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سالانہ ڈیولپمنٹ پروگرام مکمل طور پر قرض پر مبنی ہے۔چند سالوں تک دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ بنگلہ دیش کی کاٹن انڈسٹری ترقی کر رہی ہے مگر اصلاحات اور بدعنوانی کی وجہ سے یہ انڈسٹری بدحالی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کی اصل حقیت، مہنگائی میں بے تحاشا اضافے اور معاشی عدم مساوات میں کئی گنا اضافے نے حسینہ کے اعتماد اور یقین کو متزلزل کر دیا ہے۔ چنانچہ 14 برس تک اقتدار میں رہنے اور زبردست معاشی ترقی اور بہتر انفراسٹکچر کی تعمیر کے وعدے کے باوجود حسینہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے سے خوف زدہ ہیں۔کیوں کہ انہیں یہ یقین نہیں ہے کہ انہیں کام کی وجہ سے عوام ووٹ دیں گے۔مگر کیوں کہ بنگلہ دیش کی معیشت، انفراسٹکچر سے اشرافیہ سب سے زیادہ مستفیض ہوتی ہیں اس لیے حسینہ کے ساتھ اشرافیہ کھڑی ہوئی ہے۔ 2020 میں، کارٹونسٹ احمد کبیر کشور کو بدنام زمانہ ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) نے گرفتار کیا اور پھر حکومت کو بدنام کرنے کے لیے سخت ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکٹ (DSA) کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ مگر کشور کے قریبی افراد کا دعویٰ ہے کہ دراصل کشور نے اپنے ایک کارٹون میں ایک کاروباری کا مذاق اڑایا تھا اس لیے انہیں گرفتار کیا گیا تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 10 ماہ جیل میں رہنا پڑا۔ اس کے سیل میٹ مشتاق احمد، جنہیں DSA کے تحت الزامات کا بھی سامنا تھا، 2021 میں زیر حراست انتقال کر گئے۔

بنگلہ دیش کی جمہوریت کے حوالے سے دنیا تقسیم ہے۔ بھارت، چین اور روس کی مضبوط سفارتی حمایت بنگلہ دیش کو حاصل ہے ۔دوسری طرف امریکہ سمیت مغربی ممالک انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔بھارتی حکم رانوں کی خام خیالی ہی غیر جمہوری بنگلہ دیش کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عدم استحکام، غیر جمہوری اداروں اور سرگرمیوں میں اضافہ کسی بھی ملک کے استحکام کے لیے صحت مند نہیں ہے۔عدم استحکام کے شکار ممالک کبھی بھی اپنے پڑوسیوں کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوتے ہیں۔خود کو Mother of Democracy کہنے والے بھارتی حکم رانوں کی اخلاقی ذمہ داری تھی کہ بنگلہ دیش کے غیر جمہوری رویے کی سخت تنقید کرتے، جمہوریت کے فروغ کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے لیکن کیا کیا جائے کہ خود یہیں پر الٹی گنگا بہہ رہی ہے!!!