اسرائیل پر ایران کے حملے کی کامیابی اور ناکامی پر بحث جاری۔۔۔۔حملہ اسرائیل اور امریکہ کی سمجھ کی اجتماعی ناکامی :تجزیہ نگار

0
58

انصاف نیوز :ایجنسی

اسرائیل پر ایران کی جانب سے حملے کے بعد عالمی میڈیا میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا ایران کا اسرائیل پر حملہ ناکام ہو گیا؟ جبکہ ایران کا کہنا ہےکہ اس نے مقاصد حاصل کرلیے ، اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نےحملہ ناکام بناتے ہوئے 99فیصد ڈرون مار گرائے ہیں، تہران کا دعویٰ ہے کہ اس نے ڈرون سے زیادہ تر اسرائیل کے فوجی اہدافت کو نشانہ بنایا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایران کی اسٹرٹیجک سوچ کے بارے میں اسرائیل اور امریکا کی سمجھ کی اجتماعی ناکامی ہے کہ ایران براہ راست جواب نہیں دے گا۔۔ ایران کے حملے کا پیغام یہ ہے کہ ’’ایران پر حملہ بند کرو ورنہ حقیقی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا‘، تفصیلات کے مطابق عالمی میڈیا کے مطابق ایران کے پہلی مرتبہ اپنی سرزمین سے اسرائیل پر براہ راست حملے کو اسرائیل اور اس کے اتحادی ناکامی سے دوچار قرار دے رہے ہیں کہ 99فیصد ڈرون مار گرائے گئے ،وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا سرائیل اور اسکے اتحادیوں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ساتھ اردن نے 300سے زیادہ ڈرونز اور بیلسٹک اور کروز میزائلوں میں سے تقریباً سبھی کو روک دیا۔

گارڈین کے مطابق ایران نے اسرائیل پر حملے کو کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقاصد حاصل کرلیے گئے اور آپریشن ختم ہو گیا ۔ایران کے اندر، اس بات کا کوئی سرکاری اعتراف نہیں کیا گیا کہ 99فیصد ڈرون مار گرائے گئے ۔ایرانی بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے دعویٰ کیا کہ ایران کا حملہ حسابی اور محدود تھا۔تہران میں مقیم ایک پروفیسر محسن عبداللہی نے کہا ایران خطے میں جنگ کو وسعت نہیں دینا چاہتا تھا۔ ایران کے حملے کا پیغام یہ ہے کہ ’’ایران پر حملہ بند کرو ورنہ حقیقی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔

یو این انسٹی ٹیوٹ برائے تخفیف اسلحہ کی تحقیق کیلئے کام کرنے والے ایک ایرانی عبدالرسول ڈیوسلر نے کہا کہ یہ حملہ ایران کی اسٹریٹجک سوچ کے بارے میں اسرائیل اور امریکہ کی سمجھ کی اجتماعی ناکامی ہے کہ ایران براہ راست جواب نہیں دے گا، ایرانی قونصل خانے پر حملہ کرنے کی تزویراتی غلطی کا باعث بنا۔ ایرانی حکومت نے کہا کہ فوجی آپریشن اب ختم ہوچکا ، اس نے زیادہ تر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جس کا ارادہ اس پر اسرائیلی حملے کا بدلہ تھا۔ چیف آف جنرل اسٹاف نے کہایہ کارروائی صرف اسلامی انقلابی گارڈز کی فورسز نے کی اور اگر صیہونی حکومت ہمارے خلاف کارروائی کرتی ہے، یا تو ہماری سرزمین پر یا شام میں ہمارے مراکز میں، یا کوئی اور ملک کرتا ہے، ہمارا اگلا آپریشن بڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن 10 گنا بڑا ہو سکتا تھا۔باقری نے اصرار کیا کہ صرف فوجی اہداف تھے اور ایران اپنے دفاع میں کام کر رہا تھا۔

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی چھ ماہ کی خلاف ورزیوں کے مقابلے میں ایران کے اقدامات متناسب اور ذمہ دار تھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اسرائیل پر ایران کے حملے میں 300سے زیادہ میزائل اور ڈرون داغے گئے جن میں سے زیادہ تر ایرانی سرزمین سے داغے گئے۔نیویارک ٹائمز نےاسرائیلی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ایران نے 185ڈرون، 36کروز میزائل اور 110سطح سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے ہیں۔ اسرائیل کے اعلیٰ فوجی ترجمان ڈینیئل ہاگری نے کہا کہ ایران کی طرف سے داغے گئے 120سے زیادہ بیلسٹک میزائلوں میں سے صرف چند ہی اسرائیلی علاقے میں داخل ہوئے، جہاں وہ نیواتیم اسرائیلی فوجی ایئربیس پر گرے اور بنیادی ڈھانچے کو کم سے کم نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرونز میں سے کوئی بھی ملک میں داخل نہیں ہوا۔ درجنوں کو اسرائیلی جنگی طیاروں، ملک کے فضائی دفاعی نظام، اور اسرائیل کے اتحادیوں سے تعلق رکھنے والے طیاروں اور فضائی دفاعی نظاموں نے روک لیا۔اور ایران نے جو 30سے زیادہ کروز میزائل داغے، ان میں سے کوئی بھی اسرائیلی حدود میں داخل نہیں ہوا، 25کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے اسرائیل کی حدود سے باہر روکا۔

پینٹاگون کے سابق عہدیدار نے کہا ہے کہ جتنا اسرائیلی نقصان ہونا چاہئے تھا نہیں ہوا، امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایران کے علاوہ عراق‘ یمن‘ لبنان سے بھی اسرائیل پر ڈرون راکٹ‘ بلاسٹک اور کروز میزائل داغے گئے۔ امریکی ملٹری نے درجنوں ایرانی ڈرون بلاسٹک میزائل اور کروز میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اس بات پر ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ گزشتہ ہفتے ہی امریکہ نے جنگی طیارے اور جنگی بحری جہاز علاقے میں پہنچا دیئے تھے۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے مڈل ایسٹ پالیسی شعبے کے سابق عہدیدار ڈانا سٹرول کے مطابق اگر ایران کا مقصد اسرائیل کو تنہا کر کے اُسے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر مہلک حملے کی سزا دینا تھا تو وہ ایرانی مقصد پورا نہیں ہو سکا۔ ڈانا سٹرول جو آجکل واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ آف مشرق قریب کے پالیسی ساز ادارے میں خدمات انجام دے رہے ہیں کے مطابق اردنی دارالحکومت کے ایک گنجان علاقے میں امریکی نشریاتی ادارہ جو ملبہ دکھا رہا ہے اسکے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ایرانی ڈرون یا میزائل کا ہے‘ اسرائیلی آئیرن ڈروم یا اردنی میزائل کا ہے جو ایرانی ڈرون اور میزائلوں کو تباہ کرنے کیلئے استعمال ہوئے۔

امریکی پنٹاگون کے اس سابق عہدیدار کے مطابق ایران کے سینکڑوں کروز میزائلوں‘ پائلٹ لیس ڈرون طیاروں اور بلاسٹک میزائلوں کے حملے میں اسرائیل کا جتنا نقصان ہونا چاہئے تھا اتنا نہیں ہوا جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر کے مطابق ایرانی ایکشن نے 50فیصد سے زائد اہداف تباہ کئے ہیں۔ امریکی وزیر آسٹن نے اسرائیلی وزیر دفاع گیلنٹ کو فون پر کہا کہ آئندہ جب بھی اسرائیل کو ایران یا اُسکے مختلف ملکوں میں موجود حامی گروپوں کے حملوں سے نمٹنے کی ضرورت محسوس ہوئی وہ اس کیلئے امریکہ پر بھرپور انحصار کر سکتاہے۔