Thursday, May 30, 2024
homeادب و ثقافتفلم ہیرا منڈی: فحاشی اور ہوسناکی کو تہذیب و ثقافت کا نام...

فلم ہیرا منڈی: فحاشی اور ہوسناکی کو تہذیب و ثقافت کا نام دینے کی کوشش

منصور ندیم

یہ تحریر لکھنے کا خیال یوں ہے کہ آج کل فلم ہیرا منڈی کا بڑا تذکرہ ہے، میں نے یہ فلم دیکھی ہے نہ ابھی تک دیکھنے کا موڈ ہے، مگر اب تک اس فلم پر بانٹا جانے والا گیان بہت پڑھا ہے۔ کوئی ان تبصروں میں فسوں نگاری ڈھونڈھ رہا ہے، تو کوئی جادو گری ڈھونڈتا ہے، تو کوئی جمالیات بیان کرتا ہے۔ جنہیں ہمارے کئی حضرات تہذیب کا نام دیتے ہیں۔ کوئی اس میں عورت کی ایمپاورمنٹ بیان کرتا دکھائی دیتا ہے، مزید انتہائی فضول یاوہ گوئی یہ ہے کہ ہیرا منڈی کو فن و ثقافت کا سرمایہ قرار دیا جائے۔

برصغیر کی تاریخ میں ایسے تمام بازار جہاں عورتیں دستیاب ہوتی تھیں وہاں یہ عورتیں صرف ایک ہی مقصد کے لیے دستیاب ہوتی تھیں، کہ یہ جسم فروشی کرتی تھیں، ایسے مخصوص بازار ماضی میں بادشاہوں، امراء و شرفا نے اپنی ضرورت کے لئے اپنے محلوں کے قریب ہی بنوائے ہوتے تھے۔ یہ بازار امراء و شاہوں کے محلوں کے قریب صرف ان کی ہوسناکی کی ضرورت کے لئے بنائے گئے، وہاں ان کے بستر تک پہنچانے کے لئے عورتیں تیار کی جاتی تھیں۔ اس تیاری کے پراسیس کو اگر آپ تہذیب سمجھتے ہیں تو آپ کو اس کا حق ہے۔ مگر خدارا انسانوں کے معاشرے میں اس گھٹیا فعل کے لئے دوسروں کو اسے تہذیب سمجھنے کے لئے مجبور نہ کیا جائے۔

یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ ایمپاورمنٹ کے نام پر عورت کو طوائف کی صورت دکھایا جائے۔ ہمارا ہر دوسرا ڈرامہ اور فلم ایمپاورمنٹ کی صورت میں عورت کو بازار کی نائیکہ دکھا کر اس کی تہذیب اور اسے طاقتور دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ عورت تعلیم سے، روڈ پر عزت کے ساتھ ریڑھی لگا کر فیکٹری میں کام کرکے اپنے گھر میں ہنرمندی کے ساتھ ہی معاشی حصہ ڈال کر حقیقتا ایمپاورمنٹ میں آتی ہے نہ کہ اپنے جسم کا سودا کرکے ثقافت و فن کے نام پر ایمپاورمنٹ میں آتی ہے۔ یہ ایک مزید المیہ ہے کہ ہم ثقافت و فن جیسی خوبصورت ترین چیزوں کو جسموں کی ہوس جیسے معاملات سے جوڑ کر اسے فخر بنا کر پیش کرتے ہیں۔

ایک مزید حیرت اس بات پر ہوتی ہے وہ لوگ جو مذاہب یا انسانی زندگی کے ارتقائی عمل میں غلامی کو پیشے یا پوری تہذیبی ساخت پر لعن طعن کرتے نہیں تھکتے، وہ بھی اس پیشے کو مختلف جہتوں میں معاشرے کے لیے پسندیدہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے ماضی کے ارتقائی عمل میں غلامی ایک بدترین شعبہ تھا ویسے ہی جسم فروشی بھی ایک بدترین شعبہ ہے، جس میں کوئی عورت کسی بھی صورت معاشرے کے لیے نہ ہی قابل قبول ہوتی ہے نہ ہی پسندیدہ ہوتی ہے، حتی کہ ان کے لیے آواز اٹھانے والے ہیں اپنی جگہ انسانی حق کے طور پر تو آواز اٹھاتے ہی ہوں گے، لیکن وہ بخود اس شعبے کو اپنے یا اپنے گھر والوں کے لئے پسند نہیں کرتے۔

ہم جسے تہذیب بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے بازاروں میں ایسی کوئی تہذیب نہیں ملتی، یہ ایک انتہائی گھٹیا قسم کا تشکیل شدہ بیانیہ ہے جسے ہم نے قبول کیا ہے کہ نواب اپنی اولادوں کو ان بازاروں میں تربیت کے لئے بھیجتے تھے۔ ان بازاروں میں عورتوں کی تربیت بڑے گھروں کے اعتبار سے ضرور کی جاتی تھی، کیونکہ وہ ان بڑے گھرانوں میں جا کر ان کی عیاشی کا مصرف بنیں تو ان کے انداز و ضرورت کے مطابق خود کو ڈھال لیں نہ کہ ایسے بازار کوئی اخلاقی تربیت گاہ تھے، یہ بازار فقط انسانی ہوسناکی کی ضرورت کے لئے ان امراء کے لئے ان کے بہتر انداز میں پیش کی جانے والی ضرورت کا تقاضا تھے۔

برصغیر میں معروف ترین ناول امراؤ جان ادا مرزا رسوا کا 1894 عیسوی میں لکھا ہوا وہ لازوال نفسیاتی ناول ہے جسے اردو کا پہلا کامیاب ناول مانا جاتا ہے کیونکہ یہ ناول تنقید کی نئی کسوٹیوں میں یوں پورا کھرا اترا ہے۔ علی عباس حسینی نے ناول کے تاریخ و تنقید میں امراؤ جان ادا کا موضوع طوائف کو قرار دیتے ہوئے لکھا ہے یہ ایک رنڈی کی کہانی اس کی زبانی قرار دیا ہے۔

ناول امراء جان ادا کی تکنیکی بیانیہ ہے، جس میں کہانی فلیش بیک میں چلتی ہے‍۔ ناول امراء جان ادا ایک بیانیہ اس لیے ہے کہ اس میں امراؤ جان اپنے بڑھاپے میں ناول نگار کے سامنے آتی ہے اور حال احوال دریافت کیے جانے پر اپنی آپ بیتی سنانی شروع کرتی ہے اور بیچ بیچ میں مرزا رسوا خود ہیروئن کو کہیں کہیں ٹوکتے ہیں اور استفادہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ ناول امراؤ جان ادا کار پلاٹ دوہرا ہے ایک کہانی عمیرن کی ہے جسے طوائف خانم اپنے کوٹھے کے لئے خرید لیتی ہے اور دوسری کہانی رام دعائیں کی ہے جسے نوابزادے کی ماں خرید لیتی ہے یعنی ایک کو کوٹھی ملتی ہے دوسرے کو کوٹھا، حالانکہ دونوں کے ابتدائی زندگی ایک ساتھ شروع ہوتی ہے کیونکہ دونوں اغواءکرکے لائے ہوئے ہوتی ہے۔ مرزا رسوا خود لکھتے ہیں کہ ان کے ناول میں نہ ہی کامیڈی ہوتی ہے اور نہ ٹریجیڈی اور نہ ہی وصل و ہجر کے قصے بلکہ ان کو موجودہ دور کی تاریخ سمجھنا چاہیے۔ اس پیشے یا ایسے بازاروں کی حقیقت سے انکار نہیں کررہا مگر ان کو تہذیب و ثقافت کا گہوارہ ماننا ہر گز قبول نہیں ہے۔

یہ درست ہے کہ تاریخ کے سب سے قدیم ترین پیشوں میں سے ایک پیشہ جسم فروشی ہے، جو اپنی ساخت مختلف جہتوں میں بدلتی ہے، بظاہر معاشروں میں اسے ہمیشہ گھٹیا ہی سمجھا گیا، اس عمل یا پیشے کو اپنے اپنے ادوار میں صاحب حیثیت یا شاہوں نے اپنی ذات کے لیے قابل قبول بنانے کی ہر ممکن کوشش کی، پھر چاہے وہ کوئی عہد رہا ہو، مگر طوائف ہمیشہ یونان کے عہد سے لے کر روم تک ہمیشہ عام معاشرے کی عورت کے مقابل کم درجہ ہی رہی ہے۔ جسے بعد میں باقاعدہ ادارتی طور پر سب سے پہلے اور سب سے منظم اداراتی طور پر ترک سلاطین نے اپنے محلوں میں قائم کیا، جس کا پورا نظام تھا۔

وقت کی ضرورت کے ساتھ شیخ الاسلام بھی ان کے لیے فتوی دیتے تھے، وہاں غیر مسلم لڑکیاں لائی جاتی تھیں، وہاں پہنچنے والے لڑکیوں کی باقاعدہ تربیت کی جاتی تھی ان کے جسم کی زیبائش اور آرائش ہوتی تھی ان کی خرید و فروخت اور محل کے حرم تک پہنچانے کا پورا ایک باقاعدہ حکومتی نظام موجود تھا۔ یعنی اگر کسی کو برا لگتا ہے تو شاید لگے مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ ترک سلاطین نے اپنے محلوں کو خود بہ خود ایک چکلہ بنا دیا تھا۔ اس وقت کی سیاسی ضرورت بھی ایسی تھی کہ ولی عہد تک ہمیشہ بغیر نکاح کے ہی پیدا ہوتے رہے۔ قریب یہی معاملہ بر صغیر کے بادشاہوں کا بھی رہا انہوں نے بھی ایسے بازار ہمیشہ اپنے محل کے قریب ہی بسائے اور امراء و شرفاء کے لئے وہاں تک رسائی کے لئے اسے ایک فن و ثقافت یاتہذیب کا نام دیا گیا۔

ورنہ جسم فروشی فقط جسم فروشی ہی رہتی ہے نہ کہ تہذیب بنتی ہے نہ ہی کوئی فن و ثقافت، وہاں ہمیشہ نئی لڑکیاں اغوا کرکے ہی لائی جاتی رہی ہیں، پھر جب وہ بازار خود بہ بخود ایک ادارہ بن گیا تو وہاں پر بھی بیٹیاں پیدا ہونے لگیں، جو اس منڈی کا خام مال بننے لگیں۔ ورنہ سوچیں کہ کوئی بھی عورت صرف پیسہ کمانے کی خاطر ہر رات طویل وقت تک غیر دھوئے ہوئے اعضاء نہیں چاہتی۔ یہ معاملہ عام طور پر اکثر کسی بھی عورت کے لئے آخری آپشن کے طور پر رہ جاتا ہے جب کوئی اور آپشن نہیں ہوتا، پھر بھی بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ اسے “حقوق نسواں” کے نام پر ایک رومانوی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں جو حقیقتا “حقوق نسواں” کے ضمن میں ایک بڑی زیادتی ہے جس سے اس امر پر درست آواز بننے والوں کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اس قسم کے جسم فروشی کے معاملات کو ایک جنسی کام یا انڈسٹری کہا جائے۔

یہ بطور انسان ایک عورت کے جینے کے لیے ہر گز گلیمرائز زندگی نہیں ہے۔ ورنہ عورتیں اکثر محنت سے پیسہ کمانے کے لیے اپنی جانیں لگا دیتی ہیں۔ ایک عورت پیسوں کے لیے کسی بھی شخص کے جسم کے نیچے لیٹنے کے لئے اس کے جسم کی بو اور حرکات کو اپنی من مرضی کے بغیر کسی صورت قبول نہیں کرتی یہ ایک جبر ہے جسے آپ گلیمر بنا کر معاشرے کو پیش کرتے ہیں۔ جو لگ وہاں کی تہذیب کے گن گاتے ہیں کبھی ان بازاروں میں ہونے والی گفتگو میں گالیاں اور گھٹیا رویوں کو دیکھ آئیں۔

نوٹ: آٹھ سالہ بچی، جس کا نام ماہی ہے، اسکی تصویر فروری سنہء 2022 میں وائرل ہوئی تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے کسی فوٹو گرافر نے ہیرا منڈی (لاہور کے ریڈ لائٹ ایریا) اسے دیکھ کر تصویر کھینچی تھی، جسے بعد میں کچھ معروف اخبار نویسوں نے شئیر بھی کیا تھا، یہ بچی اس بازار میں رہتی ہے، یہ چرس سے بھرے سگریٹ بنانا جانتی ہے اور اسے آزما بھی چکی ہے۔ کیونکہ اسے یہ ماحول حالات کے جبر نے دیا ہے۔ جیسے آج ہمارے لوگ اسے شعبے کو ایک دن ثقافت یا ایمپاورمنٹ بنا کر پیش کررہے ہیں۔ انہیں معلوم ہوگا کہ بچی ایک ڈانسنگ گرل اور سیکس ورکر ہی بنے گی۔ حالانکہ اس بچی کو دیکھ کر سوچیں کیا اس بچی کی عمر تتلیاں پکڑنے کی نہیں ہے، باغوں میں جھولوں پر بیٹھنے کی ہے، کھلونے اور کتابوں کی عمر نہیں ہے؟

میں یہ سوال ریاست سے اور آپ سے بطور معاشرہ پوچھ رہا ہوں کہ یہ معصوم بچی ہمیں اپنی بیٹیوں جیسی کیوں نہیں لگتی؟ اس تصویر میں اس بچی کی معصومیت اپنے کمال اوج پر ہے۔ کیا اس کے معصوم چہرے میں ہمیں اپنی بیٹیاں نظر آسکتی ہیں؟ یا پھر ہم اسے تقدیر کا فیصلہ مان لیں؟ یا اس کے اس بازار میں رہنے کے عمل کو عورت کی ایمپاورمنٹ مان لیں، چلیں مان لیں کہ دنیا میں کوئی بھی بالغ عورت حالات کی مجبوری یا ذاتی فیصلے سے سیکس ورکر بن جاتی ہے، یہ اس کا ذاتی فیصلہ ہے جو وہ بحیثیت عاقل بالغ ہو کر اپنے لیے کرتی ہے، مگر یہ بچی تو ان بازاروں میں پیدا ہوکر اپنی معصومیت کے دنوں سے ہی ان بازاروں کا ایندھن بن چکی ہے؟

متعلقہ خبریں

تازہ ترین