Wednesday, May 29, 2024
homeتجزیہآسام میں مسلمانوں کومسلمانوں کے خلاف کرنے کوشش لسانی اختلافات کو...

آسام میں مسلمانوں کومسلمانوں کے خلاف کرنے کوشش لسانی اختلافات کو ہندو بنام مسلم کرنے کے بعد مسلمان بنام مسلمان تنازع کھڑا کرنے کی کوشش ۔آسام کابینہ کے فیصلے کے ایک کروڑ سے زاید مسلمان اچھوت بن جائیں گے۔کئی صدیاں ایک ساتھ رہنے کے باوجود مسلم معاشرہ سماجی و معاشرتی مساوات قائم کرنے میںناکام !یہ صورت مسلم جماعتوں کیلئے لمحہ فکریہ

نور اللہ جاوید
آسام گزشتہ ایک مہینے سے بھیانک سیلاب کی زد میں ہے،10لاکھ سے زاید افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ،ہزاروں مکانات تباہ ہوچکے ہیں، لاکھوں افراد کیمپوں میں ہفتوں سے مقیم ہیں ، بچے اور ضعیف افراد کی صورت حال انتہائی خراب ہے۔درجنوں افراد کی موت ہوچکی ہے۔خاطر خواہ ریلیف نہیں پہنچنے کی وجہ سے لاکھوں افراد اب بھی پریشان حال ہیں ۔ان حالات میں بھی آسام کی راجدھانی گوہاٹی میں ایک ہفتے سے زاید وقفے تک ’’رقص جمہوریت ‘‘ کا بدترین ڈرامہ اسٹیج ہوتارہا۔ہارس ڈریڈنگ کے تحت شوسینا کے 40ممبران اسمبلی کو فائیواسٹار ہوٹل کی میزبانی فراہم کی جاتی رہی۔یہ نہ صرف حکومت اور سیاست دانوں کے بے حسی کا بدنما چہرے کو عیاں کیا بلکہ قومی میڈیا اور نیوزچینلوں کی ترجیحات اور عوامی مسائل کے تئیں ان کی بے حسی کو بھی واضح کردیا کہ فائیو اسٹار ہوٹل کے باہر 24×7گھنٹے تک کیمرہ اور مائیک لے کر کھڑے رہنے والوں ان صحافیوںکو چند سو کلو میٹر دوری پر سیلاب متاثرین کی صورت حال کی رپورٹنگ کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی۔دوسری جانب سیلاب جیسی قدرتی آفات کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش بھی ہوئی ۔’’سیلاب کیلئے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی پس پردہ سازش رچی گئی۔ہندوستانی جہاد کی اصطلاحات میں ایک اور نئے ۔’’سیلاب جہاد‘‘کا اضافہ کردیا گیا۔وزارت اعلیٰ کی اہم عہدہ پر متمکن ہیمانت بسواس شرما نے بھی مسلم کمیونیٹی کا نام لئے نشانہ بنانے کی کوشش کی ’’آسام میں سیلاب قدرتی آفات نہیں ہے، بلکہ چند گروپ کی کارستانی کانتیجہ ہے۔ان شرپسندوں نے سلچر سے تین کلو میٹر دور بیتھو کندی میں دریائے بارک پر بنے ایک باندھ کو توڑ دیا اور اس کی وجہ سے اتنی بڑی آفت آئی ہے‘‘۔ہیمانت بسواس شرما کے اس بیان کے بعد ہی سوشل میڈیا پر ’’سیلاب جہاد ‘‘ کا ٹرینڈمزید تیز ہوگیا ۔اس بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔کورونا کی پہلی لہر کے دوران ’’کورونا جہاد‘‘ کے نام پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم اور اس کے اثرات کا ہمیں بخوبی اندازہ ہے۔بدترین سیلاب کے شکار افراد کیلئے یہ دوہری مار تھی ایک طرف سیلاب کی تباہ کاری اور دوسری طرف فرقہ واریت کی مار ۔تاہم نفرت انگیز مہم کی بڑے پیمانے پرزمینی سطح پر اثرات نمایاں ہونے سے قبل ہی کیچھڑ کے پولس سپرنڈنٹ رمن دیپ کور 6جولائی کو سامنے آئے اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے ’’سیلاب جہاد ‘‘ کے پروپیگنڈے کی ہوانکال دی۔انہوں نے کہا کہ کچھ واٹس ایپ گروپس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، علاقائی اور کچھ قومی نیوز چینلوں پرسیلاب اور باندھ ٹوٹنے کو مختلف مفہوم اور نام دیا جارہا ہے۔ اس واقعہ کے پیچھے کوئی فرقہ وارانہ زاویہ نہیں ہے۔ یہ خالصتاً ایک معاملہ ہے جہاں کچھ متاثرہ افراد نے پشتہ توڑ کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی ہے‘‘۔

یہ واقعہ آسامی معاشرہ کی فرقہ وارانہ ذہنیت اور وزیر اعلیٰ ہیمانت بسواس شرما کے مسلم مخالف مزاج اوررویے کی عکاسی کرتی ہے، جب کہ آسام میں ہی نہیں ملک کے تمام نشیبی علاقوں میں رہنے والے سیلاب کی صورت حال میں عام طور پر باندھ توڑ کر اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں ۔بیتھو کندی جہاں کے لوگوں نے باندھ توڑ کر اپنی جان بچائی تھی وہ مسلم علاقہ تھا اس لئے اس کو ’’سیلاب جہاد‘‘ نام دیدیا گیا۔کیچھڑ کے پولس آفیسر کے مطابق صرف بیتھو کندی میں ہی نہیں بلکہ ایک درجن سے زاید مقامات پر باند ھ توڑے گئے تھے اور یہ ہرسال ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور نیوز چینلوں پر’’سیلاب جہاد‘‘ پر بحث کے دوران ہی 6جولائی کو آسام کابینہ نے آسامی بولنے والے مسلمانوں کے 5گروپ گوریا، موریا ، دیشی ، جولاہااور سیدکو آسامی دیسی (انڈی جینس ) مسلمان کا درجہ دینے کی تجویز کو منظور کرکے یہ رتاثر دینے کی کوشش کی آسام حکومت آسامی النسل مسلمانوں کے تہذیب و ثقافت و کلچر اور ان کے تاریخی ورثے کی حفاظت کرنے کیلئے سنجیدہ ہے۔

حکومت کے اس کے ساتھ ہی آسام میں آباد 1.3کروڑ مسلمانوں کو دو حصوں آسامی النسل اور بنگالی نژاد میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ہیمانت بسواس سرما نے کابینہ کے اس فیصلے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ قدم آسامی النسل مسلمانوں کے دیرینہ مطالبات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔اس قدم کے ذریعہ حاشیہ پر پہنچ چکے آسامی النسل مسلمانوں کو سرکاری اسکیموں کے ذریعہ فائدہ پہنچایا جائے گا اور ان کی خواتین اور بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور انہیں انہیں امپاورڈ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

آسام حکومت کے اس قدم کے بعد بنگالی نژاد مسلمان بالخصوص آسام کے نچلے علاقے اور باراک ویلی کے دریا کنارے آباد مسلمانوں کا مستقبل تاریک کردیا ۔این آر سی کی وجہ سے سالوں تک پریشان حال رہنے والے مسلمانوں کے سامنے کئی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں کہ حکومت اس اقدمات سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔علاوہ ازیں اس کا مسلم سماج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ جب آسامی مسلمانوں کے پانچ گروپ جن کی آبادی ایک اندازے کے مطابق 30سے 35کروڑ کے قریب ہے وہ دیسی ہیں تو پھر ایک کروڑ سے زاید مسلمان کیا ہیں؟ جوگزشتہ 100سال سے زاید عرصے سے یہاںآباد ہیں ۔گرچہ وہ بنگالی نژاد ہیں مگر انہوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے آباد واجداد کی زبان چھوڑ کر آسامی زبان کو اختیار کرلیا اور آسامی تہذیب و کلچر میں خود کو ضم کردیا ہے۔اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ یہ ٹیگ حاصل کرنے کے بعد آسامی النسل مسلمانوں کو کیا فوائد حاصل ہوںگے؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اسلام نہ علاقائیت پر یقین رکھتا ہے اور نہ ہی لسانی عصبیت کی گنجائش ہے اور نہ ذات پات کی تفریق کو تسلیم کرتا ہے ۔ایک صدی سے زاید سے وقفے تک ایک ساتھ رہنے کے باوجود علاحد ہ شناخت کا اصرار یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلم معاشرہ و سماج مساوات اور یکسانیت قائم کرنے میں ناکام کیوں رہا ہے ؟کیا یہ مسلمانوں کی اصلاحی و تبلیغی جماعتوں کی ناکامی نہیں ہے؟اہم بات یہ ہے کہ کیا یہ سماجی تفریق کا خاتمہ ممکن ہے اور سماجی مساوات کیلئے کن خطوط اور راہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔

اصل معاملہ کیا ہے؟
2014میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے ہیمانتا بسواس سرمامحض چند سالوں میں مسلم مخالف بیانات اور رویے کی وجہ سے شمال مشرقی ریاستوں میںخود کو فائر برانڈ لیڈر کے طور پر اسٹپلشٹ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔2016میں آسام میں پہلی مرتبہ بی جے پی کی حکومت قائم کرنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا،چوں کہ وہ بی جے پی میں بالکل نئے نئے تھے اس لئے انہیں وزارت اعلیٰ کی کرسی تو نہیں سونپی گئی مگر حکومت میں ایک پاور فل وزیر کے طور کام کرتے رہے۔ان پانچ سالوں میں مسلم مخالف بیانات کے حوالے سے وہ سرخیوں میں رہے۔2021کے اسمبلی انتخابات کی مہم کی قیادت انہوں نے سنبھالی اور انہوں نے بنگالی مسلمانوں کو کھلے عام نشانہ بنایا۔صاف صاف لفظوںس میں کہا کہ انہیں بنگالی نژاد مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے، ظاہر ہے کہ وہ ایک طرف پولرائزیشن کی کوشش کررہے تھے تو دوسری طرف آسام کے 35فیصد مسلمانوں کو مقامی اور غیر مقامی کے نام پر تقسیم کرنا بھی چاہتے تھے۔بنگالی نژاد مسلمان عموماً بدرالدین اجمل کی ’آئی اے یو ڈی ایف‘ ، کانگریس اور سی پی ایم کو ووٹ دیتے ہیں۔انتخابی مہم کے دوران ہیمانتا بسواس سرما انتخابی مہم کو فرقہ وارانہ بنانے کی کوشش کی وہیں انہوں نے بہت ہی ہوشیاری سے آسام کے مسلمانوں کو آسامی النسل اور بنگالی نژاد کے نام پر بھی تقسیم کیا۔چوں کہ آبادی کے لحاظ سے بنگالی مسلمانوں کی آبادی بہت ہی زیادہ ہے اس لئے آسامی النسل مسلمان تمام محرومیوں اور ناکامیوں کیلئے بنگالی نژاد مسلمانوں کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔چوں کہ الیکٹرولر نظام میں کثرت آبادی کا فائدہ ہوتا ہے اس لئے پارلیمنٹ اور اسمبلی میں نمائندگی کے اعتبار سے بنگالی مسلمان فائق رہے ہیں۔آسام کی سابق وزیر اعلیٰ تیمورہ انور آسامی النسل تھی مگر وہ بنگالی نژاد مسلم اکثریتی علاقے سے منتخب ہوتی تھیں ، کانگریس کے موجود ممبراسمبلی رقیب الحسن آسامی النسل ہیں مگر وہ بھی بنگالی نژاد مسلم اکثریتی علاقے سے کامیاب ہوتے ہیں۔چناں چہ ہیمانت بسواس سرما نے 2021میں وزارت اعلیٰ کی کرسی پر متمکن ہونے کے بعد ہی آسامی النسل اور بنگالی نژاد مسلمانوں کے طبقاتی کشمکش کو خط فاصل کے ذریعہ ایک بڑی لکیر کھینچنے کی کوشش کی۔

80کی دہائی میں 6سالوں تک آسام لسانی عصبیت کی آگ میں جھلستا رہا، سیکڑوں افراد کا قتل کیاگیا ، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ۔1985میں راجیو گاندھی نے آل آسام اسٹوڈنٹ یونین ، حکومت آسام سے معاہد ہ کیا۔اسے آسام آکورڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔جس میں یہ طے کیا گیا کہ آسام میں این آر سی کرایا جائے گا اور 24مارچ 1971سے قبل آسام آنے والے تمام شہریوں کو آسامی شہری قرار دیا جائے گا۔ اس کے علا وہ اس معاہدہ کے شق نمبر 6میں آسامی ثقافت و کلچر اور زبان کی حفاطت کیلئے اقدامات کرنے اور ان کے حقوق کی حفاظت آئینی اقدامات کی سفارش کی گئی تھی۔
چناں چہ2019میں مرکزی حکومت نے آسام آکورڈ معاہدہ کے شق نمبر 6کی سفارشات پر عمل کرنے کیلئے 14رکنی کمیٹی قائم کی ۔اس کمیٹی آسامی صحافی وسبیر حسین بھی شامل تھے۔اس کمیٹی کو آسامی النسل افراد کی تعریف کو متعین کرنا تھا۔اگست 2020میں آنے والی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی کہ یکم جنوری 1951سے پہلے آسام میں آباد افراد کو آسامی النسل میں شمار کیا جائے اورآسام معاہدہ کے تحت ان کی تہذیب و تمدن کی حفاظت کی جائے۔تاہم یہ تعریف خود کو آسامی النسل ہندو اور مسلمانوں کو مطمئن نہیں کرسکی اور تنازع کا ذریعہ بن گیا۔

2019-2020کی بجٹ میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے آسامی مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی مردم شماری اور ان کی ہمہ جہت ترقی کیلئے علاحدہ کارپوریشن قائم کرنے کیلئے 100کروڑ روپے مختص کئے۔مگر تین سال بیت جانے کے بعدبھی اس پر کوئی کام نہیں ہوسکا۔2021میں آسام کا وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد ہیمانت بسواس شرما نے جولائی 2021 میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے’’ الاپ آلوچنا ‘‘- مذہبی اقلیتوں کو بااختیار بنانا کے عنوان سے 150 دانشوروں اور آسامی مسلم کمیونٹی کے اراکین کے ساتھ ایک میٹنگ کی ۔اس میٹنگ میں مسلم آبادی کو کنٹرول کرنے ، دو بچے کی پالیسی پر عمل کرانے اور مقامی مسلمان اور مبینہ طور پر بنگلہ دیش سے ہجرت کرنے والے تارکین وطن مسلمانوں کے درمیان فرق کرنے پر غو ر فکر کیا گیا۔اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ آسامی نژاد مسلمانوں کو درپیش مختلف چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے روڈ میپ کے لئے آٹھ ذیلی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ آسامی صحافی وسبیر حسین کی قیادت والی ایک ذیلی کمیٹی نے اس سال اپریل میں 52صفحات پر مشتمل اپنی سفارشات پیش کی ہے۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چوںکہ آسامی النسل مسلمانوں کی علاحدہ شناخت نہیں ہونے کی وجہ سے سماجی و اقتصادی ترقی سے محروم ہیں،صدیوں سے آسامی معاشرہ کا حصہ ہونے کے باوجوو مذہب اور نام میں یکسانیت کی وجہ سے انہیں بنگالی مسلمان سمجھ لیا جاتا ہے۔1.4آسامی دیسی مسلمانوں کے نام این آر سی میں شامل نہیں ہوسکا ،اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دیسی مسلمانوں کی علاحدہ مردم شماری کی جائے ، انہیں علاحد شناختی کارڈ جاری کئے جائیں،پارلیمنٹ اور اسمبلی میں ان کی نمائندگی صفر ہیں اس لئے آسامی النسل مسلمانوں کی قانون ساز اداروں میں نمائندگی کیلئے قانون سازی کی جائے ۔کمیٹی نے مسلمانوں کے 5گروپ گوریا، موریا ، دیشی ، جولاہااور سیدکودیسی مسلمان کے زمرے میں رکھنے کی تجویز پیش کی ۔

اپریل میں کمیٹی کی سفارشات سامنے آنے کے بعد سے ہی یہ موضوع بحث ہے کہ کیا حکومت ذیلی کمیٹی کی تمام سفارشات کو تسلیم کرلے گی؟۔تاہم جولائی کے پہلے ہفتے ہیمانت بسواس شرما کی کابینہ نے 5برادریوں کو دیسی ہونے کا درجہ دینے کی تجویز کو تسلیم کرلیا۔تاہم نہ سرما نے اور نہ بی جے پی نے واضح کیا ہے کہ کمیٹی نے جو اپنی برادری کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے جو سفارشات کئے ہیں یا پھر قانون ساز اداروں میں نمائندگی کیلئے قانون میں ترمیم کرنے کی جوتجاویز پیش کی ہے اسے بھی تسلیم کیا جائے گا؟ ۔مگر اہم سوال یہ بھی آسام میں نقل مکانی کی وجہ سے آسامی النسل ہندو بھی متاثر ہوئے ہیں ۔تو پھر صرف مسلمانوں کی ہی دیسی شناخت کیوں کی جارہی ہے؟۔

آسام میں لسانی عصبیت سے فرقہ واریت تک

80کی دہائی میں آسام میں لسانی تحریک کے دوران قتل عام کی رپورٹنگ کرنے والے مشہور انگریزی صحافی شیکھرگپتا جو اس وقت’ انڈیا ٹوڈے‘ کیلئے رپورٹنگ کرتے تھے نے یادداشت پر مشتمل اپنی کتاب Assam: A Valley Divided میں صفحہ121-122میںآسام میں لسانی شناخت کی جدو جہد کو فرقہ واریت میں تبدیل کرنے کی آر ایس ایس کی خواہشات کا اس طرح ذکر کیا ۔’’کہ ایک دن گوہاٹی کے ایک ہوٹل جہاں میںمقیم تھا۔استقبالیہ سے فون آیا کہ آپ سے ملنے کیلئے چندافراد آئے ہیںبعد میں معلوم ہوا کہ آر ایس ایس کے سینئر عہدیدار ہیں ۔جس میں سدرشن بھی شامل تھے جو بعد میں آر ایس ایس کے سرسنچالک بنے۔سدرشن نے ان سے سوال کیا کہ آخر اس پورے ہنگامہ آرائی میں بنگالی ہندکیوں نشانہ بن رہے ہیں؟۔شیکھر گپتا نے لکھا ہے کہ ’’میں نے اس وقت ان کے سامنے آسامی قوم پرست شناخت سے متعلق تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ یہ ہنگامہ آرائیاں مذہبی شناخت کی بنیاد پرنہیں ہورہی ہیں بلکہ اس کے پیچھے لسانی شناخت کی بقا کی جدو جہد شامل ہے۔1826میں آسام کے برطانوی حکومت کے تحت آنے کے بعد زراعت اور چائے باغات کی بازآبادکاری کیلئے بڑے پیمانے پر انگریزوں نے بنگالیوں کو آباد کیا ۔نقل مکانی کرنے والوں میں تعلیم یافتہ بنگالی بھی تھے اور مزدوری پیشہ کرنے والے غریب بنگالی بھی تھے۔یہ سلسلہ 1826سے 1971تک جاری رہا۔اس وقت سے ہی آسامی النسل افراد کو احساس ہے کہ بنگالیوں کی آمد کی وجہ سے ان کی تہذیب و کلچر اور لسانی و تہذیبی شناخت خطرے میں آگئی۔چناں چہ ہندوستان کی آزادی کے چند سالوں بعد ہی مقامی و غیر مقامی افراد کے علاحدہ شناخت کا مطالبہ شروع ہوگیا تھا‘‘۔شیکھر گپتا نے آگے لکھا ہے کہ ’’ہم نے ان کے سامنے آسام میںنسلی لسانی مساوات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے ہنگامے کی اصل وجہ مذہبی شناخت نہیں ہے بلکہ لسانی شناخت ہے اور ہجرت کرکے آنے والوں میں جہاں بنگالی مسلمان شامل ہیں وہیں بڑی تعداد بلکہ مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہندو بنگالی شامل ہیں ۔یہ نفرت انگیزی ان دونوں کے خلاف ہے‘‘۔
دراصل گزشتہ 40سالوں سے آر ایس ایس نے آسام میں لسانی عصبیت کو مذہبی عصبیت میں تبدیل کرنے کی منصوبے بند طریقے سے کوشش کی ہے اور گزشتہ چند سالوں میں انہیں کامیابی ملی ہے۔آسام میں مقامی اور غیر مقامی لوگوں کی شناخت کیلئے این آر سی کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد شہریت ترمیمی ایکٹ کو اسی تناظر میں ہی دیکھنا چاہیے ۔ایکٹ کے مطابق این آر سی میں جگہ نہیں پانے والے اگر بنگالی ہندو ہیں تو انہیں فوری شہریت مل جائے گی اورمسلمانوں محروم ہی رہیں گے۔گرچہ این آر سی کی حتمی رپورٹ مسلم مخالف قوتوں اورلیڈروں کو مایوس کردیا ہے۔جب کہ پہلے یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ 40مسلمان غیرقانونی شہری ہیںمگر کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔
گزشتہ چالیس سالوں میں سنگھ پریوار نے لسانی مساوات کی اس جنگ کو فرقہ واریت میں تبدیل کرنے کی جو کوششوں کی ہیں اس کا ثمر انہیں مل رہا ہے ۔مگر اب جو مسلمانوںکو تقسیم کرنے اور ان کے درمیان طبقاتی اختلافات مستحکم کرنے کی جوتدابیرکی جارہی ہے اس کو صرف ووٹ بینک کے سیندھ لگانے کی کوشش کا حصہ نہیں سمجھنا چاہیے ۔بلکہ اس کے پیچھے طویل مدتی منصوبہ شامل ہے۔مارچ 2022میں آسام اسمبلی میں گورنر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر ہیمانت بسواس شرما کی اس تقریر کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ آسام میں مسلمانوں کی آباد ی35فیصد ہے۔9اضلاع میں وہ اکثریت میں ہیں ۔اس لئے مسلمانوں کو خود کو اقلیت تصور کرنا چھوڑنا ہوگا۔وہ خود کوآسامی سمجھنا شروع کردیں ۔ہیمانت بسواس شرما نے انتخابی مہم کے دوران ایک کروڑ بنگالی مسلمانوں سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ وہ شدت پسند ہیں اور آسامی تہذیب و تمدن کیلئے ایک خطر ہ ہیں ۔مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آسام میں سرکاری مدرسوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے اور ضلع سطح پر اقلیت و اکثریت کی تشریح کرکے مسلم اکثریتی اضلاع کو مطعون کرنے والے سرما 40لاکھ دیسی مسلمانوں کے ہمدرد ہیں ۔کیوں کہ آسام کے ڈیمو گرافی کو دیکھاجائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ 62فیصد ہندئوں میں بڑی تعداد ان قبائلیوں کی ہے جن کی تہذیب ، عبادت گاہیں اور زبان بھی الگ ہے ۔اگر لسانی و تہذیبی بنیادوں مردم شماری کی جائے تو آسام کا ڈیموگرافی کچھ اور ہوگا۔ایسے اس امر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کہیں اس کے پیچھے آسام میں مسلمانوں کی آبادی کے ڈیموگرافی کو تبدیل کرنا مقصود تو نہیں ہے؟ایک طرف آسام کی قدیم مسلم آبادی کی شناخت اور ان کیلئے علاحدہ شناختی گارڈ جاری کرنے کی بات کی جارہی ہے تو دوسری طرف جنوبی آسام کے وادی بارک میں صدیوں سے رہنے والے کچہری مسلمانوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔جب کہ سوسائٹی فار انڈیجینس مسلمز آف باراک ویلی کے صدر عتیق الرحمن باربھویان نے کمیٹی کے سامنے پریزنٹیشن پیش کی تھی اور بتایا کہ ان تاریخ 1600 کی دہائی تک جاتی ۔ان کا تعلق مشرقی بنگال سے ہجرت کرنے والے تارک وطن سے نہیں ہے۔

آسامی النسل مسلمان کون ہیں؟

آسام میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخی وجود کم وبیش 700سوسالوں پر محیط ہے۔بنگال کی طرح یہاں بھی بڑی تعداد میں صوفیائے کرام آئے اور معاشرتی وسماجی اصلاح کی کوشش کی اور ان کی اصلاحی کوششوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں مقامی آبادی نے اسلام قبول کیا۔آسام میں مسلمانوںکی تاریخ کو بختیار خلجی کے حملے سے جوڑا جاتا ہے جب کہ تاریخی شواہد یہ بتاتے ہیں خلیج بنگال اور برما کے راستے بنگال اور آسام کے اس خطے میں اسلام8اور 9ویں صدی میں پہنچ گیا تھا۔تاہم بختیار خلجی کے حملے کے بعد بڑی تعداد میں مقامی آبادی نے اسلام قبول کیا اور باہر سے آنے والے فوجی اور دیگر تاجر پیشہ افراد شادی بیاہ کرکے اس معاشرے کا حصہ بن گئے ۔1826میں برطانوی حکومت سے آسام کے الحاق کے بعد مشرقی بنگال اور مغربی بنگال سے بڑی تعداد میںزراعت اور غیر منظم سیکٹر میں کاروبار کرنے کیلئے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا۔اس نقل مکانی نے آسام کے ڈیمو گرافی میں بڑی تبدیلی پیدا کردی۔مقامی آبادی پر تارکین وطن حاوی ہوتے گئے۔نقل مکانی نے ڈیمو گرافی کو کس طرح تبدیل کیا اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ کامروپ ضلع میں 1856کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 23498تھی مگر 1872کی مردم شماری میں یہ تعداد بڑھ کر 45832ہوگئی ۔یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مشرقی بنگال اور بنگال سے نقل مکانی کرکے ہجرت کرنے والے مسلمان کوئی حالیہ دہائیوں میں نہیں کیا ہے بلکہ ان کی نقل مکانی کو بھی دو صدی بیت چکی ہے۔ ان کی چار نسلیں یہاں گزر چکی ہیں ۔انہوں نے اپنی علاحدہ شناخت پر اصرار کرنے کے بجائے آسامی تہذیب و تمدن کو اپنا حصہ بنایا اور آسامی لیٹریچر میں اہم کردار بھی ادا کیا ایسے میں یہ سوال ہے کہ تین سے چار نسلوں سے آباد افراد مقامی نہیں ہوں گے تو پھر کون ہوگا۔یقینا جن پانچ طبقات کو دیسی قرار دیا گیا ہے ان کا وجود کی تاریخ کئی صدیوں پرانی ہے ۔ان کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے مگر یہ بنگالی مسلمانوں کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔
پانچ برادری جنہیں دیسی کا ٹیگ ملا ہے
2011 کی مردم شماری میں آسام میں 3.12 کروڑ کی آبادی میں سے 1.06 کروڑ مسلمانوں (34%) کی آبادی ہے۔ لیکن اس میں نسلی بنیادوں پر کوئی تقسیم ریکارڈ نہیں کی گئی ہے۔ آسام حکومت کو ذیلی کمیٹی کی رپورٹ میں موجودہ مسلمانوں کی آبادی 1.18 کروڑ بتائی گئی ہے، جس میں پانچ ’’دیسی‘‘ گروپوں کی تعداد 42 لاکھ بتائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسام میں ہر 3 مسلمانوں میں سے ایک دیسی مسلمان ہے۔
دیشی: آسام میں اسلام قبول کرنے والوں کی یہ پہلی کھیپ مانی جاتی ہے۔ان کاسلسلہ نسب علی میچ سے ملتا ہے۔جوکوچ بہارکے راج بنشی سردار تھے1205 ء کے قریب بختیار خلجی کے حملے کے دوران اسلام قبول کیا۔
سید: آسام میں بڑی تعداد میں مختلف عرب ممالک سے صوفی اور مسلم داعیوں کی جماعت آسام میں آباد ہوئی ۔ جن میں سب سے پہلے 1497 میں سید بدیع الدین شاہ ماڑا (مدن پیر) اور1630میں سید معین الدین بغدادی (اذان پیر یا اذان فقیر) شامل ہے۔ان کے پیروکاروں کی اولاد خود کو سید لکھتی ہے۔
گوریا: 1615 اور 1682 کے درمیان مغل بادشاہوں کے حملے کے دوران احوم بادشاہوں نے کئی فوجیوں کو قید کرلیا۔ان میں سے کئی کا تعلق قدیم بنگال کے گوڑ سے تھا۔اس لئے انہیں گوڑیا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ آسام میں آباد ہوگئے اور مقامی خواتین سے شادی کرکے رفتہ رفتہ آسامی معاشرہ کا حصہ بن گئے۔ان میں وہ قبائلی ہندو بھی شامل ہیں جنہوں نے آذان پیر کے زمانے میں اسلام قبول کیا۔
موریا: یہ بھی جنگی قیدیوں کی اولاد ہیں جنہیں 16ویں صدی میں تربک خان کے حملے کے بعد احوم بادشاہ نے گرفتار کرلیا تھا ۔
جولاہا: ایک چھوٹی سی برادری، جو اصل میں غیر منقسم بہار، اڈیشہ اور مغربی بنگال سے تعلق رکھتے ہیں۔ان سے متعلق انگریز مصنفین نے لکھا ہے کہ دراصل یہ آدی واسی تھے مگر انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔انہوں نے دو مرحلوں میں آسام کی طرف ہجرت کی۔ احوم کے دور حکومت میں بنکروں کے طور پر، اور 19ویں صدی میں برطانوی حکمرانوں نے چائے باغان میں مزدوری کیلئے انہیں آباد کیا۔

اس فیصلہ کے اثرات کیا ہوں گے؟

مگر سوال اب بھی قائم ہیں کہ آخر 40لاکھ آسامی نژاد مسلمانوں کودیسی قرار دینے سے کیا فرق پڑے گا؟یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا دیہی بنگال میں رہنے والے بنگال نژاد مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی صورت مذکورہ بالا پانچ کمیونیٹی کے مقابلے بہتر ہے؟اگر اس سوال کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اقتصادی طور پر زارعت کے پیشے سے جوڑے بنگالی نژاد مسلمانوں کی معاشی حالت بہت ہی زیادہ ابتر ہے۔برہم پتر اور بارک ویلی ندی کے آس پاس رہنے والے بنگالیوں کو ہر سال سیلاب کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ایک طرف آسامی النسل مسلمان خود کا شمار اشرافیہ میں کرتے ہیں تو دوسرے طرف وہ مراعات کی بات بھی کررہے ہیں۔جب کہ سماجی طور پر بنگالی نژاد مسلمانوں کو نفرت کا سامنا ہے۔انہیں حقارت بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔نفرتی انداز میں میاں کہہ کر بلایا جاتا ہے۔حال ہی حافظ احمد کی نظم’’میں میاں ہوں‘‘ نے آسامی معاشرہ میں ہلچل مچادی تھی ۔یہ پوری نظم بنگالی نژاد مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی کی کہانی بیان کرتی ہے۔اے آئی یو ڈی ایف کے ممبراسمبلی امین الاسلام کہتے ہیں دراصل یہ بنگالی نژاد مسلمانوں کو اچھوت بنانے کی کوشش ہے۔آسامی نژاد مسلمان پہلے سے ہی سرکاری فلاحی اسکیموں سے محروم ہیں اور اس قدم سے مزید مرحوم ہوجائیں گے۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر حافظ رشید چودھری جوگوہاٹی ہائی کورٹ میں سینئر وکیل ہیں’’ دعوت کے نمائندے‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت کی منشا صاف ہے وہ مسلمانوں کو منقسم کرنا چاہتے ہیں اور اس میں وہ کامیاب بھی ہورہے ہیں ۔مگر ذیلی کمیٹی کی سفارشات میں قانون ساز اداروں میں نمائندگی کا جو مطالبہ کیاگیا ہے کیا وہ ممکن ہے؟۔جب کہ ہندوستان کے دستور میں مذہبی بنیاد پر ریزرویشن کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ شیڈول کاسٹ و شیڈول ٹرائب کے علاوہ کسی بھی طبقات کیلئے سیٹیں ریزرو نہیں ہیں تو ان کیلئے کیسے کیا جاسکتا ہے؟ کیا ہیمانت سرما کی حکومت آئین میں تبدیلی کریں گے؟۔یہ وہ سوالات جو آسامی نژاد مسلمانوں کے دانشوروں کو سوچنا چاہیے۔اس سوال پر آخر کئی صدیوں تک ساتھ رہنے کے باوجود آسامی اور بنگالی نژاد مسلمانوں کے درمیان سماجی و معاشرتی فرق کیوں ہے؟ حافظ رشید احمد کہتے ہیں جس طریقے سے صورت حال کو پیش کیا جارہا ہے اس طرح کے حالات نہیں ہیں۔جو لوگ آسامی نژاد مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ مٹھی بھر لبرل اشرافیہ ہیں جو اسلامی شناخت پر نسلی شناخت کو ترجیح دیتے ہیں۔جمعیت علما ئے ہند اور جماعت اسلامی جیسی ملک گیرمذہبی جماعتوں میں آسامی نژاد مسلمان بھی شامل ہیں۔وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں آسام میں جو صورت حال پیدا کی گئی اور بنگالی ہونے کوایک جرم بنادیا گیا اس کی وجہ سے آسامی نژاد مسلمانوں نے اپنی الگ شناخت محفوظ کرنے پر زیادہ توجہ دی۔جب کہ آپس میں شادی بیاہ بھی ہوتے ہیں اور زمینی سطح پر ہمارے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں۔اس سوال پر اس سماجی عدم مساوات کے خاتمے کیلئے کیا اقدامات کرنی چاہیے؟۔حافظ رشید چودھری کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ مسلم شناخت پر نسلی شناخت کو ترجیح دینے کی بات کی جارہی ہے۔ہمیں غور فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ صدیوں تک ساتھ رہنے کے باوجود ہماری سوچ و فکر غیر اسلامی ہے ۔اس کیلئے آسامی کمیونیٹی کے مذہبی افراد کے ساتھ مل کر سماجی عدم مساوات کے خاتمہ کرنے کی فکر کرنی ہوگی اسی صورت میں ہی ہم حکومتی سازش کا مقابلہ کرسکیں گے۔
تاہم یہ فیصلہ کرلینا کہ آسامی نژاد مسلمان مذہبی شناخت پر نسلی شناخت کو ترجیح دینے کے حق میں متحد ہیں ۔ایسا بھی نہیں ہے۔آسامی نژاد مسلمانوں میں بھی ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو حکومت کے ارادے وپس پردہ عزائم کو سمجھتی ہے۔آسامی نژاد مسلم طلبا کی نمائندگی کرنے والے آل بی ٹی سی اقلیتی طلبا یونین کے جنرل سیکریٹری بائیسن حسین کہتے ہیں ہمیں گوریا، موریا اور سید کوتقسیم کرنے کی حکومت کے عزائم سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ہندو راشٹرکی بات کرنے والے ہمارے ہمدر نہیں ہوسکتے ہیں۔
ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر اور پیس اسٹڈیز کی اعزازی چیئر پرسن پروفیسر یاسمین سائکیاجن کا تعلق خود بھی آسامی نژاد مسلمانوں سے ہے اور انہوں نے The Muslims of Assam present/absent historyکے عنوان سے ایک تفصیلی مقالہ بھی لکھا ہے جس میں آسامی مسلمانوں کی تاریخ اور ماضی کے پس منظر کو دریافت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔وہ اس پورے فیصلے کو ’’ڈرائونے خواب ‘‘سے تعبیر کرتی ہیں۔انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ایک آسامی ہیومنسٹ کے طور پرمیں اس قدم کو بہت ہی افسوسناک سمجھتی ہوں۔ مختلف مسلمانوں کو دیے گئے لیبل مسلم کمیونٹی کو تقسیم کرنے کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔اگر اس اقدام کا مقصد آسام میں مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر بنانا تھا تووہ ایک گروپ کے اندر ایک چھوٹے سے گروپ کی شناخت، انہیں شناختی کارڈ اور سرٹیفکیٹ دینے سے کوئی مقصد پورا نہیں ہو سکتا ہے۔ درحقیقت اس کی وجہ سے سماجی و اقتصادی مسائل کاباعث بنے گا۔

بشکریہ ہفت روزہ دعوت

متعلقہ خبریں

تازہ ترین