ممتا اور مودی کی مہربانی :بنگال کی شان جادو پور یونیورسٹی بحران کی شکار—مرکز نے فنڈنگ روک دی–ممتا نے نصف کردیا

0
52

نوراللہ جاوید

گلوبلائزیشن کے دور میں دنیا بھر کی حکومتیں سرکاری یونیورسٹیوں کو مالیہ کی فراہمی روک رہی ہیں جس کے باعث عوام کے پیسے سے چلنے والی یونیورسٹیاں بحرانی دور سے گزر رہی ہیں۔ تعلیم کا شعبہ بھی نجکاری کا شکار ہوتا جا رہا ہے اور اس کی قیمت معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات اعلیٰ تعلیم سے محرومی کی شکل میں چکا رہے ہیں۔ گلوبلائزیشن کے اس بھیانک روپ کے اثرات بھارت میں بھی مرتب ہونے لگے ہیں۔

بھارت میں پہلے ہی سے تعلیم کا شعبہ ثانوی درجہ رکھتا تھا مگر گلوبلائزیشن نے سرکاری یونیورسٹی کی فنڈنگ سے ہاتھ روکنے کے رجحان میں اضافہ کر دیا ہے چناں چہ اس وقت ملک کی بیشتر سرکاری یونیورسٹیاں بحران کا شکار ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال ملک کی پانچ سب سے معیاری یونیورسٹیوں کی فہرست میں جگہ بنانے والی جادو پور یونیورسٹی کامالی بحران ہے۔ اس یونیورسٹی کو 2017ء سے ہی مرکزی حکومت کے ذریعہ مختلف اسکیموں کے تحت دی جانے والی فنڈنگ روک دی گئی ہے اور مغربی بنگال حکومت بھی یونیورسٹی کے بجٹ میں مسلسل کٹوتی کر رہی ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ جادو پوریونیورسٹی جو تحقیقاتی کام اور پروجیکٹس کے لیے مشہور تھی اور جس کی وجہ سے ہی بین الاقوامی سطح پر اس یونیورسٹی کی پزیرائی ہوتی ہے وہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔یونیورسٹی کے وقار اور بین الاقوامی پزیرائی کو بچانے کے لیے اس سال اکتوبر میں جادو پوریونیورسٹی کے وائس چانسلر سورنجن داس نے یونیورسٹی کے سابق طلبا کی کمیونیٹی سے اپیل کی وہ آگے آئیں اور یونیورسٹی کا مالی تعاون کریں اور اپنے مادر علمی کو اپنا وقار بچانے میں ہماری مدد کریں۔

جادو پور یونیورسٹی ایک سرکاری یونیورسٹی ہے، اس کا پورا انحصار حکومت کی فنڈنگ پر ہے۔24 اکتوبر کو سابق طلبا کے نام لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کے ذریعہ دی جانے والی فنڈنگ ناکافی ہوتی جا رہی ہے۔کیوں کہ مرکزی حکومت نے ایک طرف فنڈنگ روک دی ہے تو دوسری طرف بنگال حکومت نے فنڈنگ میں کٹوتی کردی ہے۔یونیورسٹی کے اساتذہ برداری نے بھی اس صورت حال تشویش کا اظہار کیا ہے۔یونیورسٹی کے اساتذہ فکر مند ہیں کہ موجودہ صورت حال میں یونیورسٹی اپنی تعلیمی معیار کو باقی رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ 2022ء نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک (NIRF) میں جادو پور یونیورسٹی کو تمام ریاستی یونیورسٹیوں میں پہلے اور ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں چوتھے نمبر پر رکھا گیا تھا۔تازہ ترین(Quacquarelli SymondsQS) درجہ بندی میں بھی جادو پور یونیورسٹی ملک کی تمام ریاستی یونیورسٹیوں میں چوتھے نمبر پر ہے۔ جادو پور یونیورسٹی مغربی بنگال حکومت کے ماتحت ہے۔ریاستی حکومت یونیورسٹی کے اساتذہ و عملہ کی تنخواہ، انفراسٹرکچر اور دیگر انتظامی امور کے لیے فنڈنگ دیتی ہے اور مرکزی حکومت تحقیقاتی پروجیکٹس اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے فنڈنگ کرتی ہے۔چوں کہ دونوں حکومتوں نے فنڈنگ بند کردی یا پھر کم کردی ہے تو ایک طرف یونیورسٹی کے تحقیقاتی پروجیکٹس تعطل کا شکار ہو رہے ہیں تو دوسری طرف ریاستی حکومت کے ذریعہ فنڈنگ میں کٹوتی کی وجہ سے انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔یونیورسٹیوں کی عمارتیں دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہورہی ہے۔ ٹیچرس اسوسی ایشن کے مطابق یونیورسٹی کے انتظامی امور اور عمارتوں کے دیکھ بھال کے لیے ساٹھ تا پینسٹھ کروڑ روپے سالانہ کی ضرورت ہے مگر ریاستی حکومت نے صرف پچیس کروڑروپے دیے ہیں۔

2017ء میں جادو پور یونیورسٹی سمیت ملک کی دس یونیورسٹیوں راشٹریہ اچتر شکشا ابھیان (RUSA) گرانٹ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔اس اسکیم کے تحت جادو پور یونیورسٹی کو سو کروڑ روپے ملنے تھے۔اس مالی بوجھ کو مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کو 60-40 کے تناسب سے برداشت کرنا تھا مگر اب تک اس اسکیم کے تحت جادو پویونیورسٹی کو محض اکتالیس کروڑ روپے پہلی قسط کے طور پر ملے۔اس قسط سے یونیورسٹی نے تقریباً چار سو پچاس محققین پر مشتمل دو سو پچاس پروجیکٹس شروع کیے۔دوسری قسط مارچ 2020میں ملنی تھی جو اب تک نہیں ملی اس کی وجہ سے جاری تمام پروجیکٹ روک دیے گئے ہیں۔ابتدائی طور پر یونیورسٹی کو توقع تھی یہ فنڈ جلد ہی مل جائے گا اس لیے ان پروجیکٹوں کو جاری رکھنے کے لیے یونیورسٹی نے اپنے فنڈ سے دس کروڑ روپے خرچ کردیے مگر تین سال بیت گئے اب تک بقیہ فنڈ نہیں ملا ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ فنڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے کسی پروگرام کو درمیان میں ہی روک دیا گیا ہے۔جب تک ساٹھ کروڑ روپے نہیں ملتے ہیں اس وقت تک یہ پروگرامس تعطل کا شکار رہیں گے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ اب تک فنڈنگ روکنے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔جادو پوریونیورسٹی کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہے کہ مرکزی حکومت اس یونیورسٹی کو انسٹیٹیوٹ آف ایمینینس کا ٹیگ نہیں دے رہی ہے اور نہ ہی پانچ سالہ منصوبے کے تحت سالانہ چار کروڑ روپے کا فنڈ جاری کررہی ہے۔

پانچ سالہ منصوبے کے تحت یونیورسٹیوں کی فنڈنگ کی جاتی ہے مگر 2017ء سے نیتی آیوگ نے پلاننگ کمیشن اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کو پانچ سالہ منصوبہ کے تحت یونیورسٹی کو سالانہ تقریباً چار کروڑ روپے کی گرانٹ بند کر رکھی ہے۔اس کے بعد سے ہی بنگال کی یونیورسٹیاں بحران کا شکار ہے۔بیشتر یونیورسٹیوں میں تحقیقاتی پروجیکٹس التوا کا شکار ہیں۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ مختلف شعبوں کو خصوصی امدادی پروگرام کی گرانٹ بھی بند ہونے والی ہے۔ جادو پور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے مطابق 2019ء سے قبل یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کو خصوصی گرانٹ ملتے رہے ہیں جس میں فزکس کے شعبہ کو گزشتہ پانچ سالوں میں ڈیرھ کروڑ روپے ملے۔ کچھ شعبوں کو دو تا تین کروڑ روپے ملے، جب کہ کچھ کو تیس تا چالیس لاکھ روپے ملے۔ مختلف شعبوں کو مجموعی طور پر اس سے کم از کم چھ تا سات کروڑ روپے ملیں گے۔ مگر 2019ء کے بعد اس فنڈ میں کوئی رقم نہیں آئی ہے۔

میجر ریسرچ پروجیکٹ (MRP) کے تحت یونیورسٹی کے اساتذہ کو تحقیقاتی پروجیکٹ اور علمی ترقی کے لیے فنڈ دیا جاتا ہے مگر اس کے تحت بھی فنڈ نہیں دیے جارہے ہیں۔
یونیورسٹیوں کی درجہ بندی NIRF نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) اور QS درجہ بندی میں اعلیٰ اسکور کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔جادو پور یونیورسٹی کی خاصیت یہی رہی ہے کہ ریاستی یونیورسٹی جس کے محدود وسائل ہیں مگر اس کے باوجود انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (آئی آئی ٹی ) اور ٹاٹا انسیٹیوٹ آف فنڈامنٹلس ریسرچ جیسے مرکزی اداروں سے مقابلہ کرتا رہی ہے جب کہ ان اداروں کو کہیں زیادہ فنڈز ملتے ہیں۔یونیورسٹی کے ایک سینئر استاذ بتاتے ہیں کہ بنیادی ڈھانچہ کمزور ہو رہا ہے، تحقیقاتی ریسرچ کے لیے فنڈ نہیں ہے ایسے میں جادو پور یونیورسٹی کو اپنی پوزیشن برقرار رکھنا سخت مشکل ہوسکتا ہے۔
جادو پور یونیورسٹی کے فائنانس آفیسر گور کرشنا پٹنائک نے یونیورسٹی کے نیوز لیٹر میں اس سے متعلق ایک مضمون لکھا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ محض دس سال قبل تک یونیورسٹی کے کل بجٹ کا پینسٹھ فیصد حصہ ریاستی حکومت فراہم کرتی تھی، مرکزی حکومت پچیس فیصد اور یونیورسٹی اپنے وسائل سے دس فیصد فراہم کرتی تھی مگر اب ریاستی حکومت کو پچاسی فیصد فراہم کرنا ہے۔ مرکزی حکومت کو دس فیصد اور یونیورسٹی کو پانچ فیصد فنڈ فراہم کرنا ہے مگر ریاستی حکومت مسلسل فنڈ میں کمی کر رہی ہے۔ ریاستی حکومت کا بجٹ 2019-2020 میں پینتیس کروڑ روپے تھا، لیکن جادو پور یونیورسٹی کو صرف اکتیس کروڑ روپے ملے۔ 2020-21 میں، یہ تینتیس کروڑ روپے تھا، لیکن یونیورسٹی کو صرف چوبیس کروڑ روپے ملے۔ 2021-22 کے لیے ریاست نے اسے بتیس کروڑ روپے کے بجٹ کے مقابلے میں پچیس کروڑ روپے دیے۔ اس سال کا بجٹ پچیس کروڑ روپے بتایا گیا ہے اور ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ آخر کار ہمیں کتنا ملے گا۔

فنڈز کی کمی سے نہ صرف تحقیقاتی پروجیکٹس کو نقصان پہنچا ہے بلکہ یونیورسٹی کی عمارتیں خستہ حال ہیں، محکمہ کی عمارتوں کی دیواروں کو اندر اور باہر پینٹ کے تازہ کوٹ کی اشد ضرورت ہے۔ ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کو ٹھیک نہیں کیا گیا ہے اور کبھی صاف ستھرا رہنے کے لیے مشہور کیمپس میں اب مختلف حصوں میں کوڑا کرکٹ پھیلا ہوا ہے۔ کچھ لیبارٹری کے لیے ایئر کنڈیشننگ کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ایئر کنڈیشنرز کے لیے ضروری بجلی کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ اس سے لیبارٹری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس وقت سائنس اور انجینئرنگ کے شعبوں میں کم از کم تیس ایسے آلات غیر استعمال شدہ پڑے ہیں کیوں کہ ان کی مرمت کے لیے درکار رقم نہیں ہے۔اسی سال مارچ میں ایک تباہ کن آگ نے الیومینیشن انجینئرنگ سیکشن کی لیزر لیبارٹری کو کافی نقصان پہنچایا تھا مگر اس کو ٹھیک نہیں کیا گیا ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)کی طرح جادو پور یونیورسٹی کی فیس بہت ہی معمولی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس یونیوسٹی میں بڑی تعداد میں دیہی علاقے کے ہونہار طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں جب کہ گزشتہ بائیس سالوں سے یونیورسٹی کی فیس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔اس وقت ٹیوشن فیس سے یونیورسٹی کے بجٹ کی صرف چار فیصد آمدنی ہوتی ہے ۔اس وقت ریاستی حکومت نے ٹیوشن فیس سے تیس فیصد بجٹ کو پورا کرنے کی تجویز دی ہے لہٰذا فیس میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے۔ فیس میں اضافے سے معاشی طور پر پسماندہ طلبا پر ناگوار اثرات مرتب ہوں گے۔اس وقت آرٹس کے لیے ماہانہ ٹیوشن فیس پچھتر روپے، سائنس کے لیے ڈیڑھ سو روپے اور انجینئرنگ کے لیے دو سو روپے ہے۔ 1970ء سے ہاسٹل کی فیس پچیس روپے ماہانہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ فیس بہت ہی کم ہے۔ اس میں کچھ اضافے کی گنجائش ہے۔ اگر یونیورسٹی کے بجٹ کا تیس فیصد بجٹ ٹیوشن فیس سے پورا کرنے کی تجویز پر عمل درآمد ہوتا ہے تو بھاری مقدار میں اضافہ کرنا ہو گا اور لامحالہ اس سے معاشی طور پر پسماندہ طلبا متاثر ہوں گے۔

ممتا بنرجی کی حکومت جو خود کو فلاحی حکومت کے طور پر پیش کرتی ہے، اس نے اس وقت کئی فلاحی اسکیمیں شروع کر رکھی ہیں۔ لکشمی بھنڈار کے تحت ریاست کی درج ذات اور درج فہرست خواتین کو ایک ہزار اور دیگر خواتین کو ماہانہ پانچ سو روپے دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ کنیا شری، روپا شری، ایکلا شری اور دیگر فلاحی اسکیمیں ہیں مگر تعلیم کے شعبے میں فنڈنگ سے پسپائی ممتا حکومت کے فلاحی حکومت ہونے کے دعوے پر سوالات کھڑے کرتی ہے۔ جہاں تک مودی حکومت کا سوال ہے تو وہ تضادات کا شکار ہے۔ ایک طرف بھارتیتا کی دعویداری ہے تو دوسری طرف گلوبلائزیشن سے متاثر بھی ہے۔ گلوبلائزیشن کے نتیجے میں تیزی سے پرائیوٹائزیشن بھی ہوا ہے اور سرکاری یونیورسٹی کی فنڈنگ سے ہاتھ کھینچا جارہا ہے۔مودی حکومت بھی اسی راہ پرگامزن ہے۔بنارس ہندو یونیورسٹی کے علاوہ مرکزی حکومت نے تمام یونیورسٹیوں کی فنڈنگ میں کٹوتی کی ہے۔فیس میں اضافے کیے جارہے ہیں۔ایسے میں یہ سوال بھی بہت ہم ہے کہ سرکاری یونیورسٹیوں کے دروازے بھی معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات کے لیے کیوں بند کیے جا رہے ہیں۔اس گناہ میں صرف مرکز ہی نہیں بلکہ ریاستی حکومت بھی شامل ہے۔