ًَزبانوں کا مذہب سے کویی تعلق نہیں ہے—–فارسی زبان کے فروغ میں سکھوں کی خدمات کے عنوان سے ایران سوسائٹی کا دو رو.زہ سیمینار

0
400

کلکتہ یکم اگست :
اس استدلال کے ساتھ سکھوں کے مذہبی گرؤں نے اپنی مذہبی کتابوں میں تمام زبانوں کو اہمیت دی ہے اور ایسی ایسی زبانوں کو بھی شامل کیا ہے جسے آج تک ملک نے زبان کا درجہ بھی نہیں دیا ہے۔پٹنہ صاحب گرودوارہ کے جتھ دار سنگھ صاحب رنجیت گوہر جی نے کہا کہ تاہم گروگوبنداور دیگر مذہبی گرؤں نے فارسی زبان کو جو اہمیت دی ہے وہ بے مثال ہے اور ہم اپنی اس وراثت کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایران سوسائٹی کلکتہ نے ”فارسی زبان کے فروغ میں سکھوں کی خدمات“ کے عنوان سے دوروزہ سیمینار کا انعقاد کیا تھا۔سمینار کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ صاحب رنجیت گوہر جی نے مذہبی بنیادوں پر زبان کی تقسیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زبانیں رابطے کا وسیلہ ہوتا ہے۔نفرت کیلئے نہیں ہوتاہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ایک تکثیر معاشرہ ہے اور اس معاشرے کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی زبان کی حفاظت کریں۔اس موقع پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اشوک گنگولی نے اپنے خطاب میں ملک میں کسی ایک زبان کو مسلط کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی معاشرہ اول دن سے ہی تکثیری معاشرہ رہا ہے اور یہاں ہرایک زبان کی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مغلوں کے دور میں سرکاری کام کاج کی زبان فارسی تھی مگر ہندوستان نے اس کے خلاف اس لئے آواز بلند نہیں کیا کہ ہم روادار معاشرہ کے حصہ تھے۔اپنی مادری زبان کی حفاظت کرنے کے ساتھ دوسری ز بانوں کو بھی سیکھتے تھے۔

سکھوں کے دسویں گرو گرو گوبند سنگھ نے اورنگزیب کو 1705 کی چمکور کی جنگ میں مغل بادشاہ پر اپنی اخلاقی فتح سے متعلق جوباتیں لکھی ہیں وہ فارسی تھی۔اس واقعہ کے 117سال بعد راجہ رام موہن رائے نے فارسی میں ہی پہلا اخبار شائع کیا گیا۔دوروزہ سیمینا ر میں ملک بھر سے آئے اسکالروں نے فارسی علوم میں سکھوں کی خدمات اور ہندوستانی تہذیب و معاشرت پر فارسی کے اثرات اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ایران سوسائٹی کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ خواجہ جاوید یوسف نے بتایا کہ ایران سوسائٹی نے فارسی زبان و ادب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سوسائٹی کمپوزٹ ہندوستانی تہذیب و تمدن اور کلچر کے فروغ کیلئے بھی اہم خدمات انجام دی ہیں۔اس موضوع پر سمینار کے نعقاد کا مقصد بھی یہی ہے۔
کلکتہ یونیورسٹی میں قرون وسطیٰ اور جدید ہندوستانی تاریخ کے پروفیسر امیت ڈے نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آج ایک زبان، ایک کلچر اور ایک مذہب کو ہم تھوپا جارہا ہے۔تاہم قرون وسطی کے ہندوستان میں ایسا نہیں تھا۔قرون وسطی کا ہندوستان تکثیری معاشرہ تھا جس میں تمام زبانوں کی اہمیت دی جاتی تھی۔
مقالہ نگاروں میں الہ آباد یونیورسٹی کی صالحہ رشید، احسان اللہ شوکرالہی، ڈائرکٹر۔ فارسی ریسرچ سینٹر، نئی دہلی، اور ایران سوسائٹی کے کونسل ممبر فواد حلیم شامل تھے۔مقررین نے کہا کہ برصغیر کی تاریخ اور تکثیری ماضی کو سمجھنا چاہتا ہے تو فارسی کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر فوادحلیم نے کہا کہ زبانیں مذہب سے بالاتر ہیں۔کوئی ایک زبان کسی ایک مذہب کی نہیں ہوسکتی ہے۔سکھوں کے مذہبی رہنما ایک طرف مغلوں کا مقابلہ کررہے تھے تو دوسری طرف فارسی میں اشعار اور بانی بھی لکھ رہے تھے۔اگر فارسی مغلوں کی زبان ہوتی تو پھر وہ فارسی میں کیوں اشعار کہتے۔جب کہ ان کی اپنی زبان پنجابی موجود تھی۔سیمینار کے افتتاحی سیشن میں ڈاکٹر فواد حلیم نے کہا کہ ان کے والد اور بنگال اسمبلی کے سابق اسپیکر ہاشم عبد الحلیم نے سب سے پہلے اس موضوع پر سیمینار کی پیش کش کی تھی۔


ایرن کلچر ہاؤس نئی دہلی کے ڈائریکٹر احسان اللہ نے بتایا کہ ہندوستان اور ایران کے تعلقات کئی صدیوں پرانے ہیں۔فارسی زبان کے فروغ میں ہندوستانیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے اور سکھ کمیونیٹی کی خدٹات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے