Friday, July 19, 2024
homeدنیاکوچنگ کیلئے مشہورکوٹہ شہر میں طلبا خودکشی کیوں کرتےہیں؟

کوچنگ کیلئے مشہورکوٹہ شہر میں طلبا خودکشی کیوں کرتےہیں؟

انصاف نیوز آن لائن

راجستھان کے مغربی شہر کوٹہ طلبا کے لیے کوچنگ سینٹرز کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں ہر سال ہزاروں طلبا میڈیکل اور انجینرنگ کی تیاری کیلے آتے ہیں -مگرکامیابی کی دباؤکی وجہ طلبا کے خود کشی کے واقعات رونما ہوتے ہیں-

کوٹہ کی پولس انتظامیہ نے طلبا کو خود کشیوں سے روکنے کے لیے تمام مقامی ہوسٹلز، گیسٹ ہاؤسز اور دیگر رہائشی عمارتوں میں قائم کمروں میں خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ اسپرنگ والے پنکھے اور الارم لگانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

کوٹہ کی پولس انتظامیہ طرف سے یہ ہدایات 18 سالہ طالبِ علم کی ٹیسٹ ٹریننگ اسکول کے کمرے میں چھت والے پنکھے سے لٹک کر خود کشی کے ایک دن بعد جاری کی گئی ہیں اس طالبِ علم رواں ماہ 16 اگست کو سامنے آئی ہیں۔

رواں سال کوٹہ میں 22 افراد خود کشی کر چکے ہیں جو کہ 2015 کے بعد ایک سال میں رپورٹ کی جانے والی سب سے زیادہ خود کشیاں ہیں۔

راجستھان کے وزیرِ اعلیٰ نے رواں ہفتے کیے جانے والے ہنگامی اجلاس میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں اعلیٰ حکام کے علاوہ کوچنگ سینٹرز کے نمائندے، والدین اور ڈاکٹرز شامل ہیں۔ یہ کمیٹی کوٹہ میں طلبہ کی خودکشیوں کے معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

اس حوالے سے وزیرِ اعلیٰ اشوک گیہلٹ کا کہنا تھا کہ کوٹہ مزید خود کشیوں کے واقعات کا متحمل نہیں ہو سکتا اور وہ یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ نوجوان خود کشیاں کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کمیٹی تحقیقات کرے گی کہ خود کشیاں کیوں ہو رہی ہیں اور وہ انہیں روکنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران کوٹہ میں 150 طلبہ نے خود کشیاں کی ہیں جو کہ انجینئرنگ اور میڈیکل کالجز میں داخلے کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔

ان واقعات میں سے اکثر طلبہ نے اپنے زندگیاں لینے کے لیے چھت والے پنکھوں کا استعمال کیا جس کے پیشِ نظر اب حکام نے چھت والے پنکھوں میں اسپرنگ اور الارم لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

حکام نے طلبہ کے کمروں کے لیے جو پنکھے آرڈر کیے ہیں۔ وہ اس طریقے سے ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ 20 کلو سے زیادہ وزن نہ سہ سکیں۔ تاکہ کسی کے لیے بھی یہ ممکن ہی نہ رہے کہ وہ پنکھے سے لٹک کر اپنی جان دے سکے۔

اس کے علاوہ پنکھے سے لگا اسپرنگ جونہی کھلے گا تو ارد گرد کے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے ایک الارم بجنا شروع ہو جائے گا۔

کوٹہ کے پولیس چیف شرد چوہدری کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس طلبہ کی خود کشیوں کو روکنے کے لیے پوری کوششیں کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ کی سینئر حکام کے ساتھ میٹنگ کے بعد پولیس نے تمام ہوسٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور رہائش مہیا کرنے والے دیگر مقامات کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ چھت والے پنکھوں کے ساتھ خصوصی اسپرنگ اور الارم نصب کریں۔

شرد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ جہاں طلبہ رہائش اختیار کرتے ہیں، وہاں یہ ڈیوائسز یقینی طور پر نصب ہوں۔

بھارت میں لگ بھگ چھ ہزار 75 انجینئرنگ اور 600 میڈیکل کالجز ہیں جہاں داخلہ لینے کے لیے لاکھوں طلبہ خواہش مند ہوتے ہیں۔ان تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے مختلف ٹیسٹ لیے جاتے ہیں جن میں انٹری ٹیسٹ، جوائنٹ انٹری ٹیسٹ اور نیشنل الیجبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ شامل ہیں۔

اپنے مطلوبہ کالجز میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے طلبہ کے درمیان مقابلہ انتہائی سخت ہوتا ہے جب کہ کوٹہ شہر 150 کوچنگ سینٹرز کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ جہاں دو لاکھ سے زائد طلبہ پورے ملک سے آتے ہیں اور انٹری ٹیسٹس کے لیے مختلف کورسز میں داخلہ لیتے ہیں۔

ان طلبہ کا تعلق زیادہ تر مڈل کلاس خاندانوں سے ہوتا ہے جو کہ ہوسٹلوں اور گیسٹ ہاؤسوں میں رہائش اختیار کرتے ہیں جب کہ پچھلی ایک دہائی سے کوٹہ شہر کوچنگ اسکولوں کے طلبہ کی خودکشیوں کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین