ہندوتوا وادی نفرت کی آگ سے برطانیہ بھی محفوظ نہیں رہا

0
46

محمد غزالی خاں:برطانیہ

حقوق انسانی کی برطانوی تنظیم ساؤتھ ایشیا سالیڈاریٹی گروپ (ایس اے ایس جی) نے ہندو تہوار نو راتری کے موق پر کی گئی لیبر قائد کیئر اسٹارمر کی تقریر کی سخت مذمت کی ہے جس میں موصوف نے گزشتہ دنوں لیسٹر کے واقعات کو ’’ہندو فوبیا‘‘ یا ہندوؤں کے خلاف نفرت سے منسوب کر کے کہا تھا کہ اس کی برطانیہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

ایس اے ایس جی کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ پہلا موقع نہیں ہے، ہم نے مئی 2020 میں بھی اسٹارمر کو برطانیہ میں دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کی خوشامد کے خطرے سے آگاہ کیا تھا‘‘جب لیبر لیڈر منتخب ہونے کے بعد ہندوستانی کمیونٹی سے رابطہ کرنے کے لئے غلط مشوروں کے نتیجے میں انہوں نے ہندوستان میں بی جے پی سے وابستہ ہندو فورم آف برٹین کو خط لکھا تھا۔

ایس اے ایس جی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں ہندوستانیوں کو ’’ہندوفوبیا ‘‘ کا نہیں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایس اے ایس جی نے مزید کہا ہے کہ ’’ہندو فوبیا‘‘ ہندوستان کے انتہا پسند ہندوؤں کا ایجاد کردہ لفظ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور جو فسطائیت کو جائز قرار دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

اپنی تقریر میں کئر اسٹارمر نے کہا : ’’ہمارے ملک میں بہت سے لوگوں کو مذہبی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔ لیسٹر اور برمنگھم میں ہونے والے واقعات افسوسناک ہیں۔‘‘

حیرتناک بات یہ ہے کہ کیئراسٹارمر کی تقریر سے چند روز قبل ہی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ، جس کے اہم نکات سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہے، میں انکشاف کیا گیا تھا کہ انگلینڈ اور ویلز میں مذہبی منافرت کی وجہ سے ہیٹ کرائمز میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا نشانہ سب سے زیادہ مسلمان بنتے ہیں۔

لیسٹر میں ہونے والے قابل مذمت واقعات کے بارے میں بھی بھاری اکثریت کا یہی کہنا ہے کہ یہ ہندوستان سے برآمد کی گئی ہندوتوا جارحیت کا نتیجہ ہیں۔ بہر حال برطانیہ مین مختلف خیالات اور نظریات کے حامی امن کے خواہاں افراد، سماجی کارکنان اور سیاست دانوں نے ہندو ؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے پرتشدد واقعات کی مذمت کی ہے۔

لندن کے میئر صادق خان نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے برصغیر کی سیاست برطانیہ میں نہ آنے دینے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا : ’’ہمیں ہمیشہ اُن انتہا پسندوں سے ہوشیا ررہنا چاہئے جو ہماری برادریوں کے درمیان اپنے خود غرضانہ مقاصد کے لئے کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ برطانیہ اور دنیا بھر میں پُرامن طریقے سے رہنے اور اپنے مذہب پر بلا خوف و خطر عمل کرنے کا حق ہر ایک کا حاصل ہونا چاہئے۔‘‘

واقعہ کے بعد 20ستمبر2022 کو لیسٹر کی ایک جامع مسجد کے سامنے ہندوؤں اور مسلمانوں کے قائدین نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں تشدد اور اشتعال انگیزی کو فوری طورپر بند کرنےکی اپیل کی گئی۔

مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر یہ بیان اسکون ہندو ٹیمپل کے صدر پردُمنا پراڈپگجر نے پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا: ’’ہم، لیسٹر کے ایک کنبے کی شکل میں آپ کے سامنے موجود ہیں۔ ہندو اور مسلمانوں کی حیثیت میں نہیں بلکہ بہنوں اور بھائیوں کی حیثیت میں۔ ہماری یہ دو مذہبی برادریاں نصف صدی سے زیادہ عرصے سے اپنے اس خوبصورت شہر میں پیار محبت کے ساتھ رہتے آرہے ہیں۔ہم اس شہر میں ایک ساتھ آئے، ایک جیسی مشکلات کا سامنا کیا، نسل پرستوں کے خلاف ایک ساتھ مل کر لڑے اور ایک ساتھ مل کر اس شہر کو تنوع اور ہم آہنگی کا روشن مینار بنادیا۔ ‘‘

بیان میں ’ اشتعال انگیزی اور تشدد کو فوری طورپررو‘‘کئے جانے کی اپیل کی گئی، ’’خواہ یہ خیالات کی شکل میں ہو یا رویے کی صورت میں‘‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’’ہم اشتعال اور نفرت پھیلانے والوں سے مشترکہ طورپر کہتے ہیں کہ ہمارے شہر کو اس کے حال پر چھوڑ کر یہاں سے چلے جائیں۔‘‘

حقوق انسانی کی تنظیم ساؤتھ ایشیا سالیڈاریٹی گروپ نے لندن میں ہندوستانی سفارتخانے کے سامنے ’’مظاہرہ برائے اتحاد‘‘ کا اہتمام کیا۔ گروپ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ: ’’ہم لیسٹر کے ہندوؤں اورمسلمانوں کے قائدین کے مشترکہ بیان کی تائید کرتے ہیں۔‘‘

گروپ کی قائد ، حقوق انسانی کی معروف کارکن اور مصنفہ امرت ولسن نے احتجاج کا مقصد یوں بتایا : ’’ہم یہاں پر ثابت کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں کہ ہم متحد ہیں اور یہ کہ ہم امن چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس، ان کے پیروکار اور سفید فام فسطائی طاقتیں جو ان کے ساتھ شامل ہوگئی ہیں، ہمارے اتحاد کو نقصان پہنچائیں اور ہماری کمیونٹی کو تقسیم کریں۔‘‘

لیسٹر اور برطانیہ کے دوسرے شہروں میں پرامن شہری اس کثیرالثقافتی اور کثیرالنسلی شہر، جو ماضی قریب تک سماجی ہم آہنگی کا نمونہ پیش کرتا تھا، میں ہونے والے ناخوشگوار واقعات پر افسردہ اور حیرت زدہ ہی نہیں ہیں، بلکہ دہلی کی ہندوتوا حکومت کی ہدایت کے مطابق ہندوستانی سفارتخا نے کے نامناسب اور غیرسفارتی زبان میں جاری کئے گئے بیان پر بھی ششدر ہیں جس کی نظیر شاید خود ہندوستان کی سفارتی تاریخ میں موجود نہ ہو۔

سفارتخانے کے 19 ستمبر 2022 کے بیان میں کہا گیا ہے: ’’ہم لیسٹر میں ہندوستانی کمیونٹی کے خلاف مرتکب جرائم اور ہندو مذہب کی عمارتوں اور علامات کو نقصان پہنچائے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہم نے یہ معاملہ سختی سے برطانوی حکام کے ساتھ اٹھایا ہے اور ان حملوں میں شامل افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘

قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) یا کسی مسلم ملک کی جانب سے جب کبھی بی جے پی کی مسلم دشمن پالیسیوں پر تشویش ظاہرکی جاتی ہے تو دہلی کی ہندوتوا حکومت تلملااٹھتی ہے اور فوراً ایسی کسی تشویش کو ہندوستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی قرار دے ڈالتی ہے۔

برطانیہ میں مسلمانوں کی وفاقی تنظیم مسلم کونسل آف برٹین (ایم سی بی) نے ہندوستانی سفارتخانے کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ 20 ستمبر 2022 کو لکھے گئے ایک خط میں ایم سی بی کی سکریٹری جنرل زارا محمد نے ہندوستانی سفیر وکرم کے ڈوریسوامی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’لیسٹر میں مسلمان، ہندوؤں اور سکھوں پر مشتمل تارکین وطن کی ایک فروغ پزیراور مربوط کمیونٹی آباد ہے جو وہاں پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے مکمل میل ملاپ کے ساتھ رہ رہی ہے۔‘‘ زارا محمد نے لیسٹر میں ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’’ہمیں اپنے آپ سے جو سوال پوچھنا چاہئے وہ یہ کہ: ’اتحاد کی مثال یہ فروغ پزیر کمیونٹی، اچانک کیسے منقسم ہوگئی اور اب عام لوگ اپنی حفاظت کے تعلق سے فکرمند ہیں ؟‘‘‘

ایم سی بی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’’ہمیں ہندو علامات کی بے حرمتی کی مذمت کرنی چاہئے مگر آپ کو بھی تمام ہندوستانیوں کی نمائندگی کرنی چاہئے اور مسلمانوں اور سکھوں کو جان بوجھ کرنشانہ بنائے جانے، انہیں ڈرائے دھمکائے جانے اور دائیں بازو کے ہندوتوا ہجوم کی نعرے بازی کی مذمت کرنی چاہئے جو ہندوستان میں مختلف کمیونٹیوں کے خلاف آرایس ایس کے طریقہ کار کی تصویر معلوم ہوتے ہیں۔‘‘

ایک دوسرے بیان میں ایم سی بی نے تمام کمیونٹیوں سے،’’ صبر و تحمل کامظارہ کرنے نیز مقامی رہنماؤں، سیاست دانوں اور پولیس سے مقامی لوگوں کی تشویش غیرجانب دارانہ طریقے سے سننے کی اپیل کی ہے۔‘‘

میڈیا میں شائع کی گئی ان اطلاعات کے برعکس کہ لیسٹر میں تشدد ہندوستان پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کے بعد شروع ہواتھا، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تناؤ کا ماحول کافی دنوں سے پیدا ہورہا تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگ اس کا الزام نووارد ہندوستانیوں کو دیتے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہندوتوا کی نفرت انگیز سوچ لے کر آئے ہیں۔ روزنامہ ‘انڈیپینڈینٹ نے لیسٹر یونیورسٹی میں سینٹر فار ہیٹ اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر نیل چکرورتی کا بیان نقل کیا ہے: ’’میرے ذہن میں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جو کچھ ہم نے دیکھا ہے وہ ہندوستان میں مذہبی تناؤ اور وہاں کی سخت گیر پُرتشدد قوم پرست حکومت کی حرکتوں کا براہ راست اثر ہے۔‘‘

یہ مشاہدہ غلط ہو یا درست، بہر حال ان الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران برطانوی سیاست دانوں کا ہندوتوا سیاست دانوں کے ساتھ عشق کچھ زیادہ بڑھ گیا ہے اور اس میں کنزرویٹو اور لیبر دونوں پارٹیاں شامل ہیں۔

دائیں: ہندوستان میں آر ایس ایس کا اور بائیں: برطانیہ میں ایچ ایس ایس کا تربیتی کیمپ

اس محبت کا تازہ نمونہ حال ہی میں سابق وزیراعظم بورس جانسن کے دورہ ہند کے دوران نظر آیا جب انہوں نے جے بی سی بلڈوزر پر چھڑھ کر تصاویر کھچوائیں۔ انہوں نے اور ان کے مشیروں نے نہایت بے غیرتی اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کو نظر انداز کردیا کہ ان کے میزبان ملک میں بلڈوزر مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا جارحیت اور طاقت کی علامت کے طورپر استعمال ہونے لگا ہے اور جہاں کی دارالحکومت میں چند روز قبل ہی بلڈوزرچلا کر مسلمانوں کی املاک تباہ کی گئی تھیں۔

مسلمانوں کی املاک پر بلڈوزرچلانا اور بلڈوزروں کو طاقت کی علامت کے طور پراستعمال کرنا وہ نیا سبق ہے جو فسطائی ہندوتوا نے اپنے صیہونی دوستوں سے سیکھا ہے۔

ہندوتوا طاقت کو عالمی سطح پر پھیلائے جانے اور بلڈوزروں کومسلمانوں کے خلاف طاقت کی علامت کے طور پر استعمال کرنے کی ایک مثال اس سال ہندوستان کے75 ویں یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر امریکی ریاست نیو جرسی میں پیش کی گئی جب ہندوتوا عناصر یوم آزادی منانے کے لئے جلوس میں ایک بلڈوزرلے کر نکل آئے جس پر وزیر اعظم نریندر مودی اور صوبہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں تھیں جس نے طاقت کو اس طرح استعمال کرنے کا سبق نیا نیا سیکھا ہے اور اس کی اس سفاکی اور بے رحمی کی وجہ سے اس کے چاہنے والوں نے اسے ’’بلڈوزر بابا ‘‘ کا نام دیا ہے۔

جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے مفاد پرست سیاست دانوں میں سے کچھ کی محبت کی وجہ صرف مفاد پرستی ہے جبکہ کچھ کی بنیاد مسلمانوں اوراسلام کے تئیں ان کی نفرت بھی ہے۔

اس مفاد پرستی اور مسلم منافرت کا ایک نمونہ وزارت عظمیٰ کی حالیہ دوڑ میں اس وقت سامنے آیا جب اُس وقت تک تمام حریفوں سے آگے نظرآنے والے امیدوار رشی سناک کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ ان کے سفید فام ہمدردوں کا جھکاؤ کہیں اُس وقت کی وزیرخارجہ لز ٹرس کی جانب نہ ہوجائے جو اُس وقت دوسرے نمبر پر تھیں۔ اس کے لئے رشی سناک کو فوراً مسلم انتہا پسندی اور ملک کے لئے اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات یاد آگئے جبکہ اُس وقت یہ بات ملک میں موضوع بحث ہی نہیں تھی۔ لہٰذا انہوں نے بیان داغا کہ: ’’اسلامی انتہا پسندی برطانیہ کی سلامتی کے لئے پیدا ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔‘‘

اچانک پڑنے والے حب الوطنی کے اس دورے کا مقصد سفید فام اکثریت کو خوش کرنا تھا۔ اس کے بعد ہندوتوا ہمدردوں کو خوش کرنے کے لئے وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ گؤ پوجن کے لئے گئے جو اِس وقت ہندوتوا کی علامتوں میں سے ایک ہے اور جس کے وجہ سے ہندوستان میں متعدد مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ معاملہ گؤپوجا پر نہیں رکا۔ اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کئ گئیں۔ حالانکہ موصوف کی شہرت کبھی بھی مذہبی شخص کے طور پر نہیں رہی ہے پھر بھی اگر مقصد دیوی ، دیتاؤں کو خوش کرنا ہوتا تو خاموشی کے ساتھ مندر جاکر پوجا پاٹھ کرنا ایک مناسب بات ہوتی جس پر کسی بھی معقول شخص کو اعتراض نہیں ہوسکتا تھا۔

مسلم منافرت میں رشی سناک اکیلے نہیں ہیں۔ سابق ہوم سیکریٹری (وزیر داخلہ) پریتی پٹیل علیٰ الاعلان آر ایس ایس جیسی فسطائی جماعت کی حمایت کرتی ہیں یہاں تک کہ ستمبر 2014 میں انہوں نے برطانیہ میں اس کی شاخ ہندو سوئم سنگھ (ایچ ایس ایس) کی دل کھول کر تعریف کی اور اس کے منتظمین کو “RSS: A Vision in Action—a new Dawn”(آر ایس ایس: ایک خواب کی تعبیر—ایک نیا سویرا) کے عنوان سے منعقد کئے گئے ایک پروگرام کے لئے خراج تحسین پیش کیا۔

دائیں: ہندوستان میں آر ایس ایس کا اور بائیں: برطانیہ میں ایچ ایس ایس کا تربیتی کیمپ
یاد رہے آر ایس ایس ایک فسطائی جماعت ہے جو ہندوستان میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی حکمرانی اور برتری قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ تنظیم کس قسم کا ہندوستان چاہتی ہے اس کا خاکہ اس کے بانی ڈاکٹر مہاسدا شو گولوالکر نے اپنی کتاب We; or, Our Nationhood Defined, (Nagpur 1939) میں پیش کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’ہندو استھان میں موجود غیر ملکی نسلوں کو لازماً ہندو تہذیب اور زبان اختیار کرلینی چاہئے، لازماً ہندو مذہب کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے۔ ہندو قوم کی بڑائی کے علاوہ ان کے ذہن میں کوئی بات نہیں آنی چاہئے۔(اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو) پھر وہ ملک میں ہندو قوم کے تابع رہیں، کسی چیز کا مطالبہ نہ کریں۔ کسی خاص قسم کے برتاؤ کی تو بات ہی کیا انہیں کسی مراعت کا بھی حق نہیں ملناچاہئے۔ ان کے لئے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ ہونا ہی نہیں چاہئے۔ ہم ایک قدیم قوم ہیں، آئیے ہم غیر ملکی قوموں سے اسی طرح نمٹیں جس طرح قدیم قومیں غیر ملکی قوموں سے نمٹا کرتی ہیں۔ گولوالکر کے مطابق: ‘ہماری نسلی حمیت ہمارے مذہب کی دین ہے اور ہمارا تمام تر تمدن ہمارے مذہب کی پیدا وار ہے۔۔۔نسلی پاکیزگی کی بقا کیلئے سامی نسل ۔یہودیوں۔ کا صفایا کر کے جرمنی نے دنیا کو چونکا دیا۔ یہ حرکت نسلی فخر کی مظہر ہے۔ جرمنی نے یہ بھی ثابت کردیا کہ مختلف نسلوں اور ثقافتوں کا آپس میں ضم ہو نا اور ایک قوم بن جانا نا ممکن ہے ۔ یہ ہمارے یاد رکھنے اور فائدہ اٹھانے کیلئے ایک سبق ہے۔‘‘

اپنے خط میں مس پٹیل نے نریندر مودی کی تعریف کے بھی پل باندھے۔ جی ہاں وہی نریندر مودی جس نے 2002 میں گجرات میں اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران مسلم کشی کروائی تھی جس میں دوہزار لوگ مارے گئے تھے جن کی بھاری اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

گجرات مسلم کش فسادات میں نریندرمودی کے کردار کے بارے میں قارئین کی یاد دہانی کے لئے بی بی سی کی اس رپورٹ کے کچھ اقتباسات نقل کرنا ضروری ہے جس کی بنیاد دہلی میں برطانوی سفارتخانے کی ایک لیک شدہ رپورٹ تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اس قتل عام میں: ’’نسلی صفائی کی تمام علامتیں موجود ہیں اور یہ کہ جب تک وزیراعلیٰ اقتدارپرفائز ہے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مصالحت ناممکن ہے۔‘‘

لیک شدہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بی بی سی نے اطلاع دی تھی کہـ ’’اچانک شروع ہوجانے سے کوسوں دور، یہ ایک منصوبہ بند تشدد تھا جس کی منصوبہ بندی ایک انتہا پسند ہندو تنظیم نے حکومت کی مدد سے مہینوں پہلے کی گئی تھی جس کا مقصد ہندو علاقوں سے مسلمانوں کا صفایا کرنا تھا۔۔۔‘‘

یہ انہیں مودی صاحب کا ذکر ہے جو امن کا پیغامبربن کر ازبکستان کے شہر سمرقند میں روسی صدر ولادیمیر پوتین کو امن کا درس پڑھا رہے تھے اور جن کے’’ دلپزیر‘‘ وعظ کی رپورٹ عالمی ذرائع ابلاغ نے شائع کی تھی۔ یہ خبریں پڑھ کر اور سن کر مجھے آنجہانی خشونت سنگھ کا وہ تبصرہ یاد آرہا ہے جو انہوں نے بدعنوانی اور رشوت خوری کے خلاف پارلیمنٹ میں ہونے والی ایک بحث پر کیا تھا اور لکھا تھا کہ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کچھ طوائفیں عام خواتین کو پاک دامنی پر وعظ دے رہی ہوں۔

بہرحال کنزرویٹو پارٹی ہی ہندوتوا کے عشق میں گرفتار نہیں ہے۔ برطانیہ میں ہندوتوا کی ہمت افزائی کرنے میں لیبرپارٹی بھی بالکل پیچھے نہیں ہے۔ جنوری 2008 میں لیبررکن پارلیمنٹ بیری گارڈنر نے اپنے علاقے کے ہندوؤں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے ویب سائٹ پر اپنے لئے نریندر مودی کے تعریفی کلمات شائع کئے تھے جس میں نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا تھا: ’’برطانیہ میں بیری گارڈنر سے بڑا گجرات کو کوئی دوسرا دوست نہیں ہے۔‘‘

بیری گارڈنر کی اس مفاد پرستی پر شدید برہم ،بہت سے تنظیموں نے ان کی اس بے شرم جسارت اور مودی کو برطانیہ کی دعوت دینے کے خلاف ان کے دفتر کے باہر احتجاج کیا تھا۔ اُس وقت تک نریندر مودی کو عالمی پیمانے پر اچھوت سمجھا جاتا تھا۔

برطانیہ میں اِن مفاد پرستوں کی ہمت افزائی سے ہندوتوا حامی عناصر کی جسارت اس حد تک بڑھ گئی کہ وہ سادھوی رتھمبرا سمیت ہندوستان کے مختلف زہریلے مقررین کو بلا بلا کر تقریریں کروانے لگے۔ ان کے خلاف مسلمانوں کی جانب سے کی گئی شکایات سنی ان سنی کردی گئیں۔ جبکہ سادھوی کو برطانیہ بلا کر اس سے تقریریں کروانا اور اس کی تعظیم کیا جانا کسی مسلمان کی اس مذموم حرکت سے کسی بھی طرح مختلف نہیں تھی کہ وہ داعش کے کسی رہنما کو بلا کر اس سے تقریریں کروائے اور اس کی عزت افزائی کرے۔

برطانیہ آنے سے پہلے سادھی نیو جرسی میں ہندوتوا حامیوں کے اجتماعات سے خطاب کرنے والی تھی جو ہندوتوا مخالف تنظیموں کے احتجاج کے بعد پہلی مرتبہ منسوخ کردئے گئے۔

برطانیہ اور دیگر ممالک میں ہندوتوا عناصر کی کھلی منافقت اور دوہرے معیار پر 2019 میں ہندوستانی جریدے آؤٹ لک نے لکھا تھا: ’’مغرب میں بسنے والے ہندو تارکین وطن بحیثیت اقلیتی گروہ اپنے حقوق کے تحفظ کے بارے میں بے انتہا حساس اور جارحانہ رویہ رکھتے ہیں۔ مگر اپنے آبائی ملک ہندوستان میں یہ پوری تندہی کے ساتھ انتہا پسند ہندو اکثریتی تسلط کی حمایت کررہے ہیں۔‘‘

لیسٹر کے بعد برمنگھم میں بھی ناخوشگوار اور قابل مذمت واقعات دیکھنے میں آئے تھے۔ وہاں مسلمانوں نے درگا بھون مندر کے سامنے ایک احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ مگر مندر کے منتظمین نے اس سے پہلے ہی پروگرام منسوخ کردیا تھا اور سادھوی کو دعوت دینے کے لئے یہ کہہ کر معذرت ظاہر کی تھی کہ انہیں اس کی اشتعال انگیزی اور اصلیت کا علم نہیں تھا ۔

یاد رہے حکومت ہند کے مقرر کردہ لبراہن کمیشن نے سادھوی کو 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد شہید کرنے والے قصورواروں میں شامل کیا تھا۔

بحرحال درگا بھون مندر کی معذرت اور پروگرام منسوخ کئے جانے کےبعد وہاں پر کسی احتجاج اور ان شرمناک مناظر کا کوئی جواز باقی نہیں تھا جن کا وہاں مظاہرہ کیا گیا۔

جارحیت اور تشدد کا ارتکاب کوئی بھی کرے اس کی مذمت لازماً کی جانی چاہئے۔ انٹر نیٹ پر یا کسی اور طریقے سے غلط افواہیں پھیلانا اورتشدد بھڑکانا گناہ ہے۔ اگر کوئی مسلمان یہ کام کرتا ہے تو اسے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ان حرکتوں کا اسے اللہ تعالیٰ کے یہاں جواب دینا ہوگا کیونکہ ایسا کر کے وہ قرآنی احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’ باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناؤاور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔“(سورة البقرة، آیت نمبر42)

’’اے لوگو جو ایمان لائےہو ، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی پٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔“ (سورةالنساء165)