Wednesday, May 29, 2024
homeتجزیہبلقیس کے گناہوں کی رہائی میں انصاف کی موت

بلقیس کے گناہوں کی رہائی میں انصاف کی موت

عصمت دری جیسے گھنائونے جرم کے گناہ گاروں کی رہائی کیوں کر ہوئی؟ ۔اپنے ہی آئینی بنچ کے فیصلے کو درکنا ر کرکے بلقیس بانو عصمت دری کیس کے گناہ گاروں کی معافی کی درخواست پرغور کرنے کی ہدایت دی گئی۔گجرات حکومت نے بھی آئینی تقاضاکو دھجیاں اڑائیں ۔گناہ گاروں کی پشت پناہی گجرات ماڈل کو اب ملک کے دیگر ریاستوں میں بھی آزمایا جائے گا۔گجرات ماڈل نے ہندو ازم کو بحران میں ڈھکیل رہا ہے۔کیا ہندئوں کے مذہبی رہنما اور سول سوسائٹی ہندتو کے اپرادھی کرن کے خلاف میدان میں آئیں گے؟

نور اللہ جاوید

گجرات قتل (2002گجرات فسادات) کے دوران اجتماعی عصمت در ی اورتین سالہ بچہ سمیت اہل خانہ کے پانچ افراد کے بہیمانہ قتل کی متاثرہ بلقیس بانوکے گناہ گاروں کی رہائی تاریخ کا وہ مرحلہ ہے جو کسی بھی ملک اور قوم کی تاریخ میںشاذ و نادرہی پیش آتے ہیں ۔نفس واقعہ کی سنگینیت کے علاوہ واقعے کے وقوع پذیر ی کے اسباب، نظام عدل کے انہدام اور مجموعی طور پر سول سوسائٹی کی خاموشی کے اثرات جلد زائل نہیں ہونے والے ہیں بلکہ اس کی قیمت ملک ایک مدت تک چکانی پڑے گی۔اجتماعی عصمت دری جیسے گھنائونے اور بدترین جرم کے مجرمین کی رہائی،حکمراں جماعت کے حامیوں کے ذریعہ گناہ گاروں کی پذیرائی اور انہیں ہیروبنانے کی کوشش ہندوستان کی اجتماعی ضمیر پرایک ایسا بوجھ ثابت ہونے والا جس سے نجات بہت آسانی نہیں ملنے والی ہے۔علاوہ ازیں بی جے پی کی زیر قیادت والی گجرات حکومت کے ذریعہ اس گھنائونے بربریت کے گناہ گاروںکو رہا ئی نے ہندتو اور ہندو راشٹرکومتبادل نظام حکومت کے طور پر پیش کرنے والوں کے سامنے کئی سوالا ت کھڑے کردئیے ہیں ۔ ایسے یہ کوئی پہلی مرتبہ بھی نہیں ہوا ہے بلکہ مجرمین کی پشت پناہی کی ایک طویل فہرست ہے ہم نے دیکھا ہے کہ جموں کے کٹوا میںجنوری 2018میں 8سالہ آصفہ کی اجتماعی عصمت دری اوربربریت کے ساتھ قتل کے گناہ گاروں کی حمایت میں ہندتو کے حامی نوجوانوں نے جلوس نکال کرگناہ گاروں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ماب لنچنگ کرنے والوں کو اعزازیہ دیا گیا اور انہیں ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا۔1999میں اڑیسہ کے دیہی علاقے میں 57سالہ پادری گراہم اسٹینز اور ان دو بیٹے10سالہ فلپ اور 8 سالہ ٹموتھی کو جنونی ہندئوں نے زندہ جلاکر بے رحمی سے ہلاک کردیا۔ملک کو بدنام کردینے والے والے اس واقعے کی بھی حمایت میں بھی جلوس نکالے گئے۔ المیہ یہ ہے کہ پرتاپ سارنگی جن پر مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات تھے کو مودی نے اپنی کابینہ کا رکن بناکر ملک کے نظام عدل کا کھلے عام مذاق اڑایا گیا ۔ کیا ایسے میں یہ سوالات لازمی طور پر نہیں اٹھانا چاہیے کہ ہندتو بیشتر اوقات عصمت دری اور قتل کے ملزمین کے ساتھ کھڑا ہوا نظر کیوں آتا ہے۔کیا اس کی یہ سیاسی ضرورت ہے ؟یا پھراس نظریہ کی خامی ہے کہ اسے گناہ گاروں کے ساتھ کھڑاکردیتا ہے۔کیا اس فیصلے کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملک کے اقلیتوں، دلت اور قبائلیوں کے خلاف جرائم کرنے والے ہیرو ہیں کیوں کہ وہ ’’ملیچھ کا خاتمہ ‘‘ کررہے ہیں۔؟

ایسے موقع پر ہندتو کے نظریہ ساز ساورکر کو بھی یاد کیا جانا چاہیے کہ جنہوں نے شیواجی کی صرف اس لئے تنقید کی تھی کہ انہوں نے قیدی بناکر لائی گئی ایک مسلم خاتون کے ساتھ کسی بھی طرح کی زیادتی کرنے کے بجائے چھوڑ دیا تھا۔گاندھی کے قتل کے بعد ہندتو وادیوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور جشن منایا اور اب تو کھلے عام ہندتو وادی گاندھی کو لعن طعن کرتے ہیںاور گوڈسے کی مدح سرائی کرتے ہوئے نظرآتے ہیں ۔گزشتہ 75سالوں میں ملک میں رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات کے درکنار کرکے صرف 2002میں گجرات میں ہوئے قتل عام کا اگر تجزیہ کیا جائے توگناہ گاروں کی پشت پناہی ، بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی دسیوں مثالیں مل جائیں گی۔ قتل و غارت گری، اجتماعی عصمت دری اور لوٹ مار کے گناہ گاروں کو حکومت اورہندتو وادیوں دونوں نے تحفظ فراہم کیا۔بابو بجرنگی اور سابق ریاستی وزیر مایا کوڈانی کو بچانے اور حکومت کے ذریعہ فائدہ پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کو کیا فراموش کیا جاسکتا ہے؟۔ایسے میں ہندو مذہب پر فخر کرنے والوں کیلئے یہ غور وفکر کا مقام نہیں ہے کہ اگر یہی ہندتو ہے توکیا ان لوگوں کی وجہ سے ان کا مذہب بدنام نہیں ہورہا ہے ؟ دنیا کی نظر میں ہندوستان اور ہندئوں کی شبیہ نہیں بگڑ رہی ؟۔ظاہر ہے کہ یہ سوالات کافی چھپنے والے ہیں اور اس سے دکھ بھی پہنچ سکتا ہے مگر کیااس سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ یہ سوالا ت غور وفکر کا متقاضی ہے۔

بلقیس بانو کے گناہ گاروں کی رہائی ،سپریم کورٹ کا کردار اورگجرات حکومت کی پوری کارروائی یہ ثابت کرتی ہے کہ کہ ہمارے نظام عدل میں بے شمار گڑبڑیاں در آئی ہیں جسے بروقت درست نہیں کیا گیا تو ملک کے نظام عدل سے عوام کا اعتماداور بھروسہ ختم ہوجائے گی۔کسی بھی ملک کے استحکام اور ترقی میں عوام کا اعتماد و بھروسہ ہی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے اگر ملک کے نظام اور اداروں سے عوام کا اعتماد ختم ہوجائے توایسے ملک خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ جاتاہے اور یہ ملک کی تباہی پر ہی منتج ہوتی ہے۔گجرات میں ہندواور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کی طویل تاریخ ہے۔تاہم1986اور 2002 میں ہوئے گجرات فسادات ہندوستان کی تاریخ کے ایسے بدترین فسادات ہیں جس نے ہندوستان کے سیاسی نظام کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے۔بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور اس کے تین سالہ بچے کا بے رحمانہ انداز میں قتل گجرات فسادات کا بھیانک ترین واقعہ ہے۔اس کے باوجود ہندوستان کی 75ویں جشن آزادی(امرت مہوتسو) کے موقع پر بدترین گناہ کے 11خونخواروں کو گجرات حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی آڑ میں رہا کردیا ہے۔ان گیارہ افراد کی رہائی نے ملک کے تمام سنجیدہ شہریوں کوکو حیرت زدہ اور شرمندہ کریا۔یہ سب اس دن ہوا جب کہ لال قلعہ کے تاریخی فصیل سے ہمارے وزیر اعظم مودی خواتین کی عزت و عصمت کے تحفظ اور انہیں امپاور منٹ اور سماج میں خواتین کی حصہ داری میں اضافہ کیلئے شہریوں سے عہد لے رہے تھے۔ایسے میں یہ سوال لا زمی ہے کہ اتنے گھنائونے جرم کرنے والوں کے تئیں سماج ، حکومت اور عدالت کو نرمی برتنی چاہیے؟۔یہ سوال لازمی بھی ہے کہ عصمت دری کے گناہ گاروں کی رہائی نے ثابت کردیا ہے کہ ہمارے ملک کے عدالتی نظام کومکمل طور پر منہدم ہوچکا ہے۔کیا ہمارے عدالتی نظام میں ایک خاص نظریہ کی گھن لگ گئی ہے ۔ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کیلئے اس پوری کارروائی کے قانونی پہلوئوںپر غور کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے بعد ہی یہ حقیقت واضح ہوگی کہ جیسے اجتماعی عصمت دری جیسے بربر ظلم کے مجرمین کی رہائی کے لئے متعینہ اصول و ضوابط اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ۔علاوہ ازیں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب یہ سپریم کورٹ کے سامنے ان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ سامنے آیا تو جرم کی نوعیت اور سنگیت کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ کی ذمہ داری نہیں تھی وہ اس عرضی کو مسترد کردیتی؟جب بلقیس بانو کیس کا ٹرائل اور ممبئی کی عدالت میں ہو ا تھا اور ممبئی ہائی کورٹ نے اس فیصلے کی تصدیق کی تھی تو قیدیوں کی رہائی کیلئے فیصلہ کرنے کے اختیارات سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو کیوں دیا ؟۔جب کہ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ جس میں ہونے والے ملک اگلے چیف جسٹس بھی شامل تھے نے وی شری ہن کیس میںواضح کردیا تھا کہ جس ریاست کی عدالت میں ٹرائل اور فیصلہ دیا جائے گی اسی ریاست کو قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا۔تو پھر اس معاملے میں سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے کو نظر انداز کیوںکیا ؟

قیدیوں کی رہائی کے قانونی پہلواور بلقیس بانو عصمت دری

آئین کے آرٹیکل72اور آرٹیکل 161 بالترتیب صدر جمہوریہ اورریاستوںکے گورنر گو سزا یافتہ قیدیوں کی سزا معاف یا پھر سزا میں کٹوتی کرنے کا اختیار دیتا ہے ۔جب کسی مجرم کو عمر قید کی سزا دی جاتی ہے تو عدالت نے عمر قید سزا کی مدت20 سال طے کی ہے۔جس میں دو تہائی سزا پوری کرنالازمی ہے یعنی 14سال کی سزا کی مدت کئے بغیر کسی بھی قیدی کی معافی نہیں ہوسکتی ہے۔ اگر سزا یافتہ قیدی کم از کم 14 سال کی سزا کاٹ چکا ہے تو ٹرائل کورٹ کے جج کی رائے، جیل انتظامیہ کے رویے اور اس رہائی کی وجہ سے سماج پر پڑنے والے اثرات کا جائز ہ لینے کے بعدضابطہ فوجداری کے سیکشن 433A کے تحت، حکومتوں کو یہ اختیار حاصل ہے ہ وہ قیدی کو رہا کردے۔مگر یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سزا یافتہ قیدی کو معافی حاصل کرنا بنیادی حق نہیں ہے بلکہ اسے صرف معافی کی درخواست دینے کی اجازت دی گئی ہے ۔یہ مکمل طور پر حکومت پر منحصر ہے۔

اپریل 2022 میں بلقیس بانو عصمت دری کے کیس کے11 مجرمین میں سے ایک رادھے شیام بھگوان داس شاہ جن کی عمر 70سال سے زاید ہوچکی ہے نے پہلے گجرات ہائی کورمیں اپیل کی کہ چوں کہ وہ 14سال کی سزا کاٹ چکے ہیں اس لئے ان کی سزا کو معاف کردیا جائے۔گجرات ہائی کورٹ کے جج نے اس درخواست کو یہ کہتے ہوئے رد کردیا کہ چوں کہ اس کیس فیصلہ مہاراشٹر میں ہوا ہے اس لئے اس درخواست پر سماعت اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔شیام نے پھر اس کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے قبل از وقت رہائی کی اپیل کی ۔ شیام نے دعویٰ کیا کہ اس نے 15 سال اور چار ماہ حراست میں گزارلئے ہیں۔سپریم کورٹ نے رائے شیام کو رہا کرنے یا پھر نہیں کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے گجرات حکومت اس درخواست پر غور کرکے دو ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی۔سپریم کورٹ کے سامنے دو سوالات تھے کہ اس درخواست پر غور و فکر کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ گجرات حکومت جہاں جرم ہوا ہے کو یا پھر جس ریاست(مہاراشٹر) میں ٹرائل چلا ہے کے پاس ہے۔دوسرا سوال یہ تھا کہ ان کی معافی کی درخواست پر 1992کی پالیسی کے تحت غور کیا جائے گا یا پھر 2014کی پالیسی کے تحت۔چوں کہ 1992کی پالیسی میںعصمت دری کے مجرمین کی معافی پر غور کرنے اختیار دیا گیا ہے۔جب کہ2014کی پالیسی میں عصمت دری کے مجرمین کی سزا کی معافی کی درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا۔

2002میں گجرات قتل عام میں بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری اور تین سالہ بچہ سمیت اہل خانہ کا بے رحمانہ انداز میں قتل کی جانچ میں گجرات پولس کا رویہ مایوس کن تھا۔گجرات پولس نے مجرمین کی شناخت نہیں ہونے پر اس کیس کو بند کرنے کی سفارش کردی،مگر بلقیس بانو نے حقوق انسانی کی مدد سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔سپریم کورٹ نے غیر معمولی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے کی جانچ کی ذمہ داری سی بی آئی کو دیتے ہوئے پورے معاملے میں کا ٹرائل گجرات سے مہاراشٹر منتقل کردیا ۔مہاراشٹر میں اس معاملے کا ٹرائل چلا اور سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج جسٹس یوڈی سالوی نے 2008 میں 11 افراد کو قصوروار ٹھہرایا تھا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی ۔ انہوں نے ثبوت کی کمی کی وجہ سے سات دیگر ملزمین کو بھی بری کر دیا تھا۔، مئی 2017 میں، جسٹس وجیا تہلرامانی اور مردولا بھٹکر کی بامبے ہائی کورٹ بنچ نے 11 ملزمان کی سزا کو برقرار رکھا، اور سات افراد کو بھی مجرم قرار دیا جنہیں جسٹس سالوی نے بری کیا تھا۔ان مجرمین سز کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا سپریم کورٹ نے اپریل 2019میںذیلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے یہ محسوس کیا کہ چوں کہ فسادات کے دوران بلقیس بانو بے بسی اور خانہ بدوش کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئی تھی۔ تشدد میں اپنے خاندان کے پانچ افراد افراد کو کھونے کے صدمے میں ابھرنے اور خود سنبھالنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔اس لئے سپریم کورٹ نے بلقیس بانو کو 50لاکھ روپے دینے کی گجرات حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے سرکاری نوکری اور رہائش کے انتظامات کرنے کی بھی ہدایت دی ۔

مگر سپر کوریم کورٹ نے2017کے اپنے احساسات کو بالائے طاق رکھ کر مئی 2022 میںمعافی کی درخواست پر غور کرنے کیلئے گجرات حکومت ’’مناسب اتھارٹی ہے؟؟۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے کہا کہ چوں کہ سزا 2008میں ہوئی تھی اور اس وقت 1992کی پالیسی نافذ تھی اس لئے معافی کی درخواست پر 1992کے قانون کے تحت غور کیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو ہدایت کی کہ وہ دو ماہ کے اندر شاہ کی درخواست پر فیصلہ کرے۔
جب کوئی قیدی سزا کی معافی کی درخواست کرتا ہے تو اس کیلئے بھی ایک ضابطہ ہے کہ حکومت ایک کمیٹی بناتی ہے ۔ٹرائل کورٹ کے ججا ور جیل اتھارٹی کی رائے لیتی ہے اور پھر سزا کی مدت کے دوران قیدیوں کے رویے اور کر دار کی جائزہ لینے علاوہ معافی کی وجہ سے سماج پر پڑنے والے اثرات اور اس رہائی سے سماج کو ملنے والے پیغام کو مکمل طور پر تجزیہ کرنے کے بعد کمیٹی معافی سفارش کرتی ہے۔اب سوال ہے کہ بلقیس بانوکے مجرمین کی رہائی کیلئے قائم کمیٹی نے اس متعینہ اصول و ضوابط کی پاسداری کی تھی؟، کیا حکومت نے ان گیارہ گناہ گاروں کو معاف کرن سے قبل ٹرائل کورٹ کے جج ڈی سالوی کی رائے لی گئی تھی۔جب حکومت کو معلوم تھا کہ معافی کی وجہ سے سماج و معاشرہ پر خرات اثرات ہوں گے۔کل تک جو بلقیس بانو کہتی تھی کہ ہندوستان کے نظام پر عدل ان کے بھروسے میں اضافہ ہوا ہے وہ اب کہتی ہیں کہ کیا یہی انصاف ہے۔اس کے سامنے سوال یہ بھی کھڑا ہوگیا کہ وہ اس گائوں میں کیسے رہ سکتی ہے جہاں اس کی عصمت دری کرنے والے رہتے ہوں۔

کریمنل قوانین کی ماہر اور سپریم کورٹ میں سینئر وکیل ایڈوکیٹ ریبیکا جان نے آج(سنیچر کو) عدالتوں فیصلوں کی رپورٹنگ کرنے والی مشہور ویب سائٹ لائیو لا (Live Law) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ سپریم کورٹ کا معافی کی درخواست پر غور کرنے کیلئے گجرات حکومت کو ’’مناسب اتھارٹی قرار دینا ‘‘قانون کی غلط تشریح پر مبنی ہے اور سپریم کورٹ کو اس پر از سر نو غورکرنے کی ضرورت ہے۔جان کہتی ہیں کہ کوڈ آف کریمنل پروسیجر کی دفعہ 432 (7) کے مطابق چوں کہ ٹرائل مہاراشٹر میں ہوا تھا اس لئے معافی کا فیصلہ کرنے کے لیے مہاراشٹر حکومت ہی مناسب اتھارٹی ہے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جرم کہاں کیا گیاہے۔

ریبیکا جان کہتی ہیں کہ دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی قیدی کی سزا معاف کرنے کیلئے ٹرائل کورٹ سے رائے لینا ضروری ہے ۔ کیوں کہ جج نے ہی ریکارڈ پر موجود شواہد دیکھے ہیں اور کارروائی کے دوران ملزمان کے طرز عمل کو دیکھا ہے ۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا جسٹس یو ڈی سالوی جو ٹرائل کورٹ کے جج تھے سے رائے لی گئی ہے؟ظاہر ہے کہ ان کی کوئی رائے نہیں لی گئی ہے ۔دوسرے یہ کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اس کیس کی جانچ سی بی آئی نے کی تھی جو مرکزی ایجنسی ہے۔ فوجداری کے سیکشن 435 کے مطابق اگر کسی مجرم کے خلاف جانچ مرکزی ایجنسی کرتی ہے تو ایسے مجرم کی سزا معاف کرنے کیلئے ریاستی حکومت کو مرکز سے مشورہ کرنا لازمی ہے۔سپریم کورٹ نے مئی2022میں معافی کی درخواست پر غورکرنے کی ہدایت دیتے وقت فوجداری کے سیکشن 435پر غور کرنے کی ہدایت دی تھی۔تو گجرات حکومت نے ان گیارہ ملزمین کی رہائی کیلئے مرکزی حکومت سے رائے کیوں نہیں لی۔

یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہجون میں مرکزی وزارت داخلہ نے، ہندوستان کی آزادی کے 75 ویں سالگرہ کے موقع پر قیدیوں کی رہائی کیلئے رہنما خطوط جاری کیے تھے کہ 15 اگست 2022، 26 جنوری، 2023 اور 15 اگست، 2023 کو قیدیوں کو خصوصی معافی دی جائے گی۔ رہنما خطوط نے واضح کیا کہ عصمت دری اور قتل کے مجرموں کو ریاستی حکومت رہا نہیں کر سکتی ہے۔
جہاں تک سوال ٹرائل عدالت کے جج کی رائے لینے کا ہے تو جسٹس یو ڈی سالوی بذات خود سامنے آکر ایک انٹرویومیں پورے معاملے کو واضح کردیا ہے کہ گجرات حکومت نے ان سے کوئی رائے نہیں لی ہے۔مشہور صحافی برکھادت کو دئیے گئے انٹرویودیتے ہوئے جسٹس یو ڈی سالوی کہتے ہیں کہ ’’اجتماعی عصمت دری اور قتل وغارت گری جیسے گھنائونے جرم کے مجرمین کی رہائی نے ملک کے سامنے بدترین مثال قائم کی ہے۔اس فیصلے کے وسیع اثرات مرتب ہوں گے اور اس کو نظیر بناکر عصمت دری جیسے گھنائونے جرم کے مجرمین ریلیف کی تلاش کریں گے یہ ستم ظریفی ہے کہ گجرات حکومت نے 11 مجرمین کو ایسے وقت میں رہا کیا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی نے خواتین کا احترام کرنے اور ان کی تذلیل سے گریز کرنے اورخواتین کو بااختیار بنانے کی بات کی ہے ۔مگر ان کے ہی لوگ ایک بے بس عورت کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کرنے والوں کو رہا کرکے عورتوں کو تذلیل کررہے ہیں۔جسٹس سالوی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بھی انگشت نمائی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا ریاستی حکومت کو 1992کی پالیسی کے تحت معافی کی درخواست پر غور کرنے کی ہدایت دینا ناقابل فہم ہے۔ ہمارے ملک کی اعلیٰ عدالت ایسے فیصلے کی اجازت کیسے دے سکتی ہے؟جب 1992 کی پالیسی منسوخ ہوچکی ہے تو پھراس پالیسی کے تحت مجرمین کی رہائی پر غور کیسے کیا جاسکتا ہے؟جسٹس سالوی کہتے ہیں کہ سزا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دی جاتی ہے کہ ملزم کو یہ احساس ہو کہ اس نے کچھ غلط کیا ہے۔ ملزم کو پشیمان ہونا چاہیے اور توبہ کا اظہار کرنا چاہیے۔ مگر جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ جیل سے رہائی کے بعد ان گیارہ ملزمین کا باضابطہ استقبال کیا گیا، مٹھائیاں تقسیم کی گئی ۔ان کے اعزاز میں پروگرام منعقد ہوئے تو پھر ندامیت کہاں ہوئی۔

تاہم سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ سنتوش ہیگڑے کہتے ہیں اگر 1992کی پالیسی کے تحت بھی ان مجرمین کی معافی نہیں ہوسکتی تھی ۔کیوں کہ 1992کی پالیسی میں واضح طور پرکہاگیا ہے کہ عصمت دری اور دیگر گھنائونے جرم کے مجرمین کو معافی دینے سے قبل اس بات کا جائزہ لینا لازمی ہے کہ اس معافی سے سماج پر اثرات کیا ہوں گے؟ اور اس سے سماج و معاشرہ کو کیا پیغام جائے گا اور ان ملزمین کی سزا کن حالات میں دی گئی تھی۔ہیگڑے کہتے ہیں کہ ان مجرمین کی رہائی کیلئے جو کمیٹی بنائی گئی تھی وہ بذات خود سوالوں کے گھیرے میں ہے۔اس کمیٹی میں بی جے پی کے دو ممبران اسمبلی شامل تھے، سماجی کارکن کے نام پر جن لوگوں کو شامل کیا گیا تھا وہ سب بی جے پی کے کارکنان ہیں اور گودھرا فسادات کے کئی معاملوں میں ملزمین کے گواہ ہیںکیا ایسے ممبران سے امید کی جاسکتی ہے وہ متاثرہ کے جذبات اور معاشرہ پر پڑنے والے کے اثرات کا انہوں نے جائزہ لیا ہوگا۔
’’ہفت روزہ دعوت‘‘؍ سے بات کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ فردوس مرزا کہتے ہیں مجرمین کی رہائی کا پورا معاملہ ہی غیر قانونی ہے ۔سپریم کورٹ نے خود اپنے آئینی بنچ جس میں پانچ رکنی بنچ میں سے چار ججوں نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ اس سے کوئی سرو کار نہیں ہے جرم کہاں ہوا ہے بلکہ ٹرائل جس ریاست میں ہوا ہے اس ریاست کو ہی مجرم کے جرم کو معاف کرنے کا اختیار ہے کے فیصلے کو نظر انداز کردیا ہے۔اسی طرح آر پی سی کی دفعہ 435جس کے تحت مرکزی حکومت کی رائے لینا لازمی تھا کو نظر انداز کردیا گیا ۔ایڈوکیٹ فردوس مرزا کہتے ہیں اس معاملے میں عدالت میں اگر نظرثانی کی اپیل کی جائے تو مجھے یقین ہے کہ ان گیارہ مجرمین کی معافی منسوخ ہوجائے گی۔
مجرموں کی پشت پناہی گجرات ماڈل کا حصہ ہے؟
ایک طرف سپریم کورٹ کے ایک تبصرے کی بنیاد پر گجرات قتل عام کے گناہ گاروں کو بے نقاب کرنے والے سماجی کارکن تیستا سیتلوارڈ اور سابق پولس آفیسر سری کمار جیسی شخصیات کوجیل کی سلاخوں میں ڈھکیل دیا گیا ہے دوسری طرف گھنائونے جرائم کرنے والے گناہ گاروں کو معاف کیا جارہا ہے۔گجرات میں گزشتہ تین دہائیوں سے زاید عرصے سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی میور جانی بتاتے ہیں بلقیس بانو عصمت دری کے مجرمین کی رہائی دراصل گجرات ماڈل کا حصہ ہے۔اس کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے جو ان کے ساتھ ہیں ان کے ساتھ تمام رعایتیں برتی جائیں گی ۔جو ان کے ساتھ نہیں ہیںانہیں جرم کئے بغیر بھی سلاخوں میں ڈھکیل دیاجائے گا
میوجانی بتاتے ہیں کہ دراصل گجرات فسادات کے بعد سے ہی میڈیائی پروپیگنڈے کے ذریعہ ترقی کا گجرات ماڈل پیش کیا گیااور اس کی بدولت مودی وزارت عظمی تک پہنچ گئے تو دوسری طرف انہیں سالوں میں گجرات فسادات کی جانچ کررہی کمیشنوںجس میں ناناوتی کمیشن ،جسٹس شاہ کمیشن ،کرشنا ائیر کمیشن اور دیگر چار کمیشنوں کو کمزور کرنے کی ہرممکن کوشش کی گئی ۔جسٹس شاہ اور نانا وتی کمیشن میں آئی پی ایس آفیسر سنجیو بھٹ نے جب ثبوت پیش کئے تھے تو اس کو قبول ہی نہیں گیا۔آر وی کمار، کلدیپ شرما نے جیسے پولس عہدیداروں نے ثبوت جمع کرنے کی کوشش کی تو ان افسران کو سزا کے طور پر ٹرانسفر کردیا گیا ۔گلبرگ سوسائٹی قتل جس میں سابق ممبر پارلیمٹ احسان جعفر ی کا قتل کیا گیا تھا میں وکلا نے کئی گواہوں کو پیش کیا گیا مگر انہیں سنا ہی نہیں گیا۔میور جانی کہتی ہیں مجرموں کی پشت پناہی ہی گجرات ماڈل ہے۔سیاسی مفادات کی خاطر ہندتو کا’’ اپرادھی کرن‘‘ ہورہاہے۔یہ صورت حال اقلیتوں سے زیادہ ہندتو سماج کیلئے بحران ہے کہ اگر اس لمحے ہم نے آواز بلند نہیں کی تو ہم دنیا کے سامنے ہندو ازم کو رسوا اور بدنام کررہے ہیں –

مشہور صحافی شیتل پی سنگھ گیارہ ملزمین کی رہائی کو سماج اور معاشرہ کا’’ اپرادھی کرن‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ گجرات سے اترپردیش تک پھیل گیا ہے ، گجرات فسادات میں جن لوگوں کو سزا دی گئی ہے انہیںبھی بچانے کیلئے گجرات حکومت نے ہر ممکن کوشش کی ، مایاکوڈانی، بابو بجرنگی اور دیگر مجرمین کو قانون سے ہٹ کر پیرول پر ریا کیا گیا ہے۔بے گناہوں کا انکائونٹر کرنے والے ونجارا کو بچانے کیلئے کیا کیا نہیں کیا گیا؟مگر اس پورے معاملے میں سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اجتماعی دری اور بے گناہوں کی تعذیب اور بے رحمانہ انداز میں قتل کرنے کے معاملے میں سپریم کورٹ کو بھی ملوث کردیا گیا ہے اورسپریم کورٹ خود خوشی خوشی اس دلدل میں پھنس گئی ہے۔شیتل کہتے ہیں کہ جب مجرموں کی معافی کی درخواست سپریم کورٹ میںزیر غور تھا اس وقت بلقیس بانو کا موقف رکھنے کیلئے کوئی وکیل موجود نہیں تھا۔در اصل مسئلہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا ہے جو ملک کے ایلیٹ کلاس کی عدالت بن گئی ہے ۔جہاں تک عام لوگوں کی رسائی ناممکن ہے۔جب ملک کی خدمات کرنے والے آئی پی ایس آفیسر سنجیو بھٹ سپریم کورٹ تک نہیں پہنچ پارہے ہیں تو بلقیس یا پھرعام لوگوں کی رسائی کیسے ہوسکتی ہے۔

یہ صورت حال واضح کرتے ہیں بلقیس بانو کے گناہ گاروں کی رہائی صرف اقلیتوں کے مستقبل کیلئے سوالیہ نشان نہیں ہے بلکہ اس نے عدالت عظمی اور ملک کی سب سے بڑی اکثریت ہندئوں کے سامنے بھی بحران کھڑا کردیا ہے کہ وہ مظلوموں کے ساتھ ہے یاپھر بربر، گھنائونے ،سماج کو سرم شار کردینے والے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ یہ دونوں بحران سے نکلنے کیلئے کیا کیاتدبیریں کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین